Daily Mashriq

نا پسندیدہ نظام ہائے حکومت

نا پسندیدہ نظام ہائے حکومت

فرعون نے حضرت موسیٰ سے تقابل کرتے ہوئے عوام کو گرویدہ و مرعوب بنائے رکھنے کے لئے کہا '' بھلا میں ہوں بہتر اس شخص سے جس کی کچھ عزت نہیں اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ پھر کیوں نہ اتارے گئے اس پر سونے کے کنگن یا آتے اس کے ساتھ فرشتے پراباندھ کر۔'' آج کی سپر پاورز تیسری دنیا کے عوام اور حکمرانوں کو اپنے اسی طرح کے جاہ و حشم اور مہلک ہتھیاروں سے دبائے رکھتے ہیں۔ فرعونی ملوکیت میں اپنے مخالفین کے سیاسی قتل سے گریز نہیں کیاجاتا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کے کتنے معصوم بچوں کو قتل کروایا اس خوف سے کہ نجومی نے بنی اسرائیل ہی کے ایک بچے (حضرت موسیٰ) کے ہاتھوں فرعون کی تباہی و بربادی و غرقابی کی پیشن گوئی کی تھی۔ قرآن کریم میں فرعون کے حوالے سے یہ ذکر بھی موجود ہے کہ ''یقینا فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان میں ایک گروہ کو کمزور اور ذلیل کرتا تھا۔ اس گروہ کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بے شک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔'' آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ کہیں اسی طرح اور کہیں اس کے برعکس۔ ہندوستان میں لڑکیوں (پیدائش سے پہلے) اسقاط حمل کے ذریعے قتل کیا جاتا ہے اور امریکہ اور یورپ' جاپان و چین میں کسی اور نام اور کام سے بچوں کو دنیا میں آنے نہیں دیا جاتا۔ فرعونی ملوکیت میں حق پرستوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کو سیاسی رشوت اور طمع و لالچ سے اپنا ہمنوا بنایا جاتا ہے۔ ''' پھر جب جادو گر آئے تو فرعون سے کہنے لگے بھلا کچھ ہمارا حق بھی ہے اگر ہم کو غلبہ حاصل ہو' فرعون بولا ہاں! اور تم اس وقت مقربوں (درباریوں) میں ہو گے۔'' آخری فرعونی اصول حکومت یہ ہے کہ دلیل و منطق کا جواب تشدد سے دے کر لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ فرعون جب جادوگروں کے ذریعے کامیابی حاصل نہ کرسکا بلکہ جادو گر خود حضرت موسیٰ کی صداقت کی قطعی دلیل سے متاثر ہو کر ایمان لے آئے تو فرعون نے کہا '' تم نے اس کو (موسیٰ) کو میری اجازت سے پہلے مان لیا۔ بے شک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے سو ابھی بھی معلوم کرلوگے۔ البتہ میں کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں اور سولی پر چڑھادوں گا تب سب کو''۔ملوکیت اور سرداری نظام سیاست و حکومت کی ایک مکروہ ترین شکل چنگیزیت ہے اور اس کا کام انسانوں کا خون پینا ہوتا ہے۔ چنگیز اور اس کے پوتے ہلاکو کے انسانیت پر جو بربریت اور درندگی کی داستانیں رقم کی ہیں مایہ ناز مورخ ابن اثیر نے اس کاذکر بہت رقت انگیز انداز میں کیا ہے۔ '' اگر کوئی کہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک دنیا ایسی مصیبت میں گرفتار نہیں ہوئی تو وہ بالکل سچا ہے'' علمائ' فقہائ' اعیان حکومت اور خلیفہ معتصم باللہ کو یکجا قتل کیا۔ عباسی کتب خانوں کی کتابوں کو دجلہ میں ڈوبا دیا اور مساجد و مدارس کے اس عظیم شہر عروس البلاد کو ویران کردیا۔ ملوکیت کی ایک اور قسم پاپائیت یعنی تھیاکریسی ہے۔ قرآن کریم میں پاپائی ملوکیت کے بارے میں فرمایا گیا ہے '' انہوں نے اپنے علماء اور راہبوں کو اللہ کے علاوہ اپنا رب بنا دیا تھا۔''اسی نظام میں پوپ یعنی مذہبی پیشوا کو خدائی تقدس اور اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ ملوکیت میں بادشاہ تاج پہن کر مظالم کرتا ہے اور پوپ درویشی میں گدڑی و قبا پہن کر لوگوں پر اپنی بادشاہی مسلط کرتا ہے۔ علامہ محمد اقبال نے عوام کی اسی مجبوری کے مد نظر فرمایا تھا

خداوندا! یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
پاپائیت کے دور میں مذہبی کتب تورات و انجیل کا براہ راست مطالعہ عوام کے لئے شجر ممنوعہ تھا۔ پوپ و کلیسا کا فیصلہ اور فتویٰ حکم خداوندی کا درجہ رکھتا تھا جس پر تنقید کرنا یا اس کے خلاف بات اور عمل کرنا کفر اور ارتداد کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں مذہبی عدالتوں کے فیصلوں کے ذریعے ایک کروڑ بیس لاکھ نفوس ہلاک کئے گئے تھے۔ یہ خون ریزی خود عیسائیوں کے ہاتھوں عیسائیوں کی ہوئی تھی۔ عام طور پر لوگ پاپائیت کو مذہبی حکومت و ریاست کہتے ہیں۔ پاکستان کے قیام کے وقت بھی قائد اعظم سے اس قسم کے سوالات کئے گئے کہ کیا پاکستان ایک تھیوکریٹک ریاست ہوگی۔ جس کی قائد نے سختی سے تردید کی تھی کیونکہ مذہب کی حکومت اور پاپائوں کی حکومت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پاپائوں کی حکومت اور ملوکیت اور ان دونوں کی تراشیدہ شکل سیکولر جمہوریت ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔ یورپ میں پاپائیت کے خلاف ایک ہنگامہ خیز تحریک چلی جس سے پاپائیت سے نفرت کے سبب مذہب کے خلاف سخت نفرت کے جراثیم پیدا ہوئے اور آج یورپ میں ریاست کے ساتھ مذہب کا نام لینا گناہ کبیرہ سمجھاجاتا ہے۔ پاپائیت (تھیوکریسی) میں پاپائوں کے ظالمانہ و احمقانہ نظام جس کو لوگ مذہب سمجھتے تھے کے خلاف جو تحریک چلی وہ سیکولر جمہوریت یعنی ڈیموکریسی کی صورت میں آزادی کی نیلم پری بن کر لوگوں کی ارواح کو مسحور کر گئی۔ حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ اس کی طرف علامہ اقبال نے اپنے کلام میں مغرب کی سیکولر جمہوریت کے کارنامے اور کرشمے بذات خود دیکھ کر فرمایا تھا
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

اداریہ