Daily Mashriq

سیاسی اکھاڑوں میں پہلوانوں کے کرتب

سیاسی اکھاڑوں میں پہلوانوں کے کرتب

کیا ہمارے رہنمائوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ وہ قوم کی اس ڈولتی نائو کے حوالے سے بھی کچھ سوچیں!جب انسان قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں پڑھتا ہے تو اس پربہت سے حقائق کھل جاتے ہیںعقل انسانی ان واقعات سے بہت کچھ سیکھتی ہے تاریخ میں جن غلطیوں کی وجہ سے قومیں زوال پذیر ہوچکی ہوتی ہیں وہ بعد میں آنے والوں کے لیے باعث عبرت ہوا کرتی ہیں سمجھدا ر ہوتی ہیں وہ اقوام جو ان غلطیوں سے بچنے کی پوری پوری کوشش کرتی ہیں گزرے ہوئے واقعات کے مطالعے کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عقل انسانی میں اچھائی اور برائی کو پرکھنے کی تمیز پیدا ہوجاتی ہے ان واقعات میں حضرت انسان کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے ہمارا آج کتنا پریشان کن ہے ہم آج جس دور سے گزر رہے ہیں یہ ہمارا دور محکومیت ہے ہمیں ہر طرف سے گھیرا جاچکا ہے ہمیں دبایا جارہا ہے ہم ہر طرف سے دشمنوں کی سازشوں میں گھرے ہوئے ہیں ہمارے خلاف منصوبے بنائے جارہے ہیں ہمیں مختلف محاذوں پر بڑی کامیابی سے الجھانے کی کامیاب کوشش کی جارہی ہے ہمارے خلاف ہر وہ حربہ استعمال کیا جارہا ہے جس سے ہماری قوت کمزور ہو اور ہم بکھرتے چلے جائیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا ہم اغیار کی ان سازشوں سے باخبر ہیں؟اور اگر باخبر ہیں تو کیا ہم اتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے ؟ دشمن کا کام تو سازش ہی کرنا ہوتا ہے وہ تو آپ کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع بھی نہیں کھونا چاہتا اور دشمن سے توقع بھی یہی رکھنی چاہیے لیکن سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟عالمی تناظر میں ہمارا کیا کردار ہے ؟ کاروبار حیات میں آگے بڑھنے کے لیے جس خود اعتمادی اور یقین کی ضرورت ہوتی ہے کیا وہ ہم میں موجود ہے ؟ ہم اپنی قوم،ملک و ملت کے تقاضوں کو سمجھ رہے ہیں یا اندھیروں میں بھٹک رہے ہیںآج ہمیں جن حالات کا سامنا ہے وہ بڑے کٹھن ہیں ہم نے کھلی آنکھوں سے اپنے چاروں طرف دیکھ کر وطن عزیز کی حفاظت کرنی ہے۔اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں جو ہمارے کرنے کے کام ہیں وہ کرنے ہیںاس وقت ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کا اندرونی استحکام ہے اپنے گھر کو بچانا ہے سپرطاقت نے ہماری سرزمین پر بہت سے کھیل کھیلے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے مسئلہ افغانستان کا ہو یاایران کا ، چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی بات ہو یا بلوچستان کا مسئلہ ، ہمارا اندرونی خلفشار ہو دہشت گردی کے خلاف جنگ ہویا دوسرے بہت سے ان گنت مسائل ! نقصان تو ہمارا ہو رہا ہے اور ہماری آج سب سے بڑی ضرورت اتحاد اور یکجہتی ہے ہمیں ایسے اتحاد کی ضرورت ہے جو سب مصلحتوں سے بالاتر ہو ہم نے ایک فکر کو پروان چڑھانا ہے ایک مثبت سوچ پیدا کرنی ہے اور یہ سوچ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے ہوگی اس پاک سرزمین نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے ہم اس کے مقروض ہیں اس کی مضبوطی اور استحکام ہماری سب سے اولین ذمہ داری ہے جو باتیں ہمارے فرائض میں شامل ہیں وہ ہم انجام نہیں دے رہے پاکستان نے تو ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور دے رہا ہے لیکن ہم نے اسے کیا دیا؟ ہم نے اپنے وطن کے لیے کیا کیا؟کیا ہم وطن کی خدمت کررہے ہیں یا اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے دیوانے ہورہے ہیں؟وطن عزیز کو کچھ دینا تو بہت دور ہے کی بات ہے ہم نے اپنی کوتاہیوں اور نااہلیوں کی وجہ سے اسے دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور پھر مختلف حیلے بہانوں سے اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ہمارے لیے یہ بات بڑی آسان ہے کہ ہم سب کچھ دشمن کی کارستانی قرار دیتے رہیں ان دیکھی سازشوں کا ذکر کرتے رہیں نادیدہ ہاتھ کی موجود گی پر طوفان کھڑے کرتے رہیں ۔ ہم پچھلے کئی برسوں بلکہ یوں کہیں تو شاید نامناسب نہیں ہوگا کہ جب سے ہم آزاد ہوئے ہیں اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں یہ نازک دور طویل سے طویل تر ہوتا چلا جارہا ہے کوئی نہیں جانتا کہ یہ نازک دور کب ختم ہوگا ہماری روشن سحر کب طلوع ہوگی؟ ہم ایک مرتبہ پھر ماضی کے انہی پرانے راستوں کے مسافر ہیںجن پر چل کر ہم ٹھوکریں کھاتے رہے ہیںجو ٹھوکریں ہمیں لگیں جو دکھ ہم نے سہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان سے ہم بہت کچھ سیکھتے لیکن ہم نے ان ٹھوکروں سے کچھ بھی تو نہیں سیکھا یہ تاریخ کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا میں ایسی بہت سی قومیں گزری ہیں جنہوں نے شاندار تہذیب و تمدن سے دنیا کو روشنا س کروایا لیکن جب وہ ذاتی مفادات میں الجھ گیئں اور اس طرح زندگی کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آہونے کے لائق نہ رہیں تو ان کی عظمت وقوت ان کے سامان آسائش ان کی فلک بوس عمارتیں ان کے علوم و فنون سب دھرے کے دھرے رہ گئے اور انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہونا پڑا ۔جو قوم حالات حاضرہ سے مطابقت کی صلاحیت نہیں رکھتی جسے اپنے ارد گرد ہونے والی تبدیلیوں کا پورا پورا ادراک نہیں ہوتا وہ زندگی کا صحیح توازن کھو دیتی ہے اس کے رہنما غلط فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں ان کے غلط فیصلے اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے والی بات ہوتی ہے سیانے کہتے ہیں کہ خود کردہ را علاج نیست یعنی اپنے کیے کا علاج نہیں ہوا کرتا آج ہم آپس میں الجھ کر دشمن کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ بڑے آرام سے ہم پر کاری ضرب لگا ئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ہمیں کسی سے شکو ہ و شکایت کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ سب کچھ جو آج ہم دیکھ رہے ہیں ہمارے اپنے اعمال کا شاخسانہ ہے ۔ 

اداریہ