Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت عبد اللہ بن احمد فرماتے ہیں کہ میں ایک دن اپنے والد امام احمد کے پاس گھر میں بیٹھا تھا کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔میں نے دروازہ کھول کر دیکھا کہ ایک عورت کھڑی ہے ۔اس عورت نے میرے والد( امام احمد) کی خدمت میں سلام پیش کیا اور یہ مسئلہ دریافت کیا کہ اے ابو عبداللہ!( یہ امام احمد کی کنیت ہے) میں رات کے وقت چراغ کی روشنی میں اون کاتتی ہوں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ چراغ بجھ جاتا ہے اور میں چاند کی روشنی میں اون کات لیتی ہوں( آپ مجھے بتائیں کہ) کیا مجھ پر یہ بات لازم ہے کہ میں دھاگے بیچتے وقت لوگوں کو چاند اور چراغ کی روشنی میں کاتی ہوئی اون کا فرق بتائوں؟امام احمد نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تو یہ سمجھتی ہے کہ چاند کی روشنی میں کاتی ہوئی اون اور چراغ کی روشنی میں کاتی ہوئی اون میں فرق ہوتا ہے تو پھر اس فرق کو بیان کرنا تجھ پر لازم ہے۔حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ یہ فتویٰ سن کر وہ عورت چلی گئی۔ (حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ پھر امام احمد نے مجھے ارشاد فرمایا) اس عورت کے پیچھے جائو اور دیکھو کہ یہ کس گھرمیں داخل ہوتی ہے۔چنانچہ میں اس مقصد کے لئے اس عورت کے پیچھے پیچھے چلا گیا کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عورت حضرت بشر بن حارث کے گھر میں داخل ہوئی اور مجھے پتہ چلا کہ یہ عورت حضرت بشر بن حارث کی بہن ہے۔ میں نے واپس آکر اپنے والد امام احمد کو یہ بات بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات ناممکن اور محال ہے کہ حضرت بشر بن حارث کی بہن کے علاوہ کوئی اور عورت ایسی متقیہ اور پرہیز گار ہو۔
شاہ محمد ہسپانیہ کے بہترین مسلمان بادشاہوں میں شمار ہوتا تھا' 35 سال کی حکمرانی کے بعد887ء میں اس کا انتقال ہوا' ان کی موت کا واقعہ نہایت عجیب ہے' بادشاہ ایک دن مصاحبین کے ساتھ شاہی محلات کے باغات کی سیر کررہا تھا کہ ایک مصاحب نے کہا' زندگی کا لطف صرف بادشاہوں کے لئے ہی ہے' لیکن موت ایک ایسی زبردست چیز ہے کہ عیش و عشرت کا تمام کارخانہ درہم برہم کردیتی ہے اور طاقتور بادشاہ موت کے آگے بے بس ہو جاتا ہے۔بادشاہ نے کہا ظاہر بینوں کو بادشاہ مثل خوشبودار پھولوں کے دکھائی دیتے ہیں لیکن کیا ان کو معلوم نہیں کہ گلاب کے پھولوں کے ساتھ تیز اور نوک دار کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ موت بے شک سب قصے تمام کردیتی ہے' لیکن موت ان لوگوں کے لئے حیات ابدی اور مسرت روحانی کا باعث ہے جودنیا میں نیک نام رہے اور نیک کام کرتے رہے ہیں۔ اگر موت نہ ہوتی تو میں اسپین کا بادشاہ کس طرح ہوتا۔اس کے بعد مجلس برخاست ہوگئی' بادشاہ آرام کرنے کے لئے محلات میں گیا اور سوگیا لیکن جب خدام نے دیکھا کہ بادشاہ حسب معمول نماز کو بھی نہیں اٹھا تو انہیں فکر دامن گیر ہوئی' وہ خواب گاہ میں گئے' وہاں جاکر معلوم ہوا۔ ''کچھ ایسا سوئے سونے والے کہ جاگنا حشر تک قسم ہے''یہ الفاظ ایک نیک بادشاہ کے ہیں جسے یہ یقین تھا کہ دنیاوی بادشاہت عارضی ہے خوف خدا دل میں ہو تو بادشاہی بھی فقیری بن جاتی ہے۔

اداریہ