Daily Mashriq


شہباز شریف کی معذرت

شہباز شریف کی معذرت

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا خواتین کے حوالے سے مسلم لیگی وزراء کے بیانات کی مذمت اور اس سے اعلان برأت خوش آئند امر ہے لیکن ان کی معذرت کے باوجود زبان کے لگائے گئے گھاؤ اتنی جلدی مندمل نہیں ہو سکتے، بہرحال جو ممکن تھا اور جو مطالبہ ان سے کیا جارہا تھا اس کو بلاتامل قبول کرکے معذرت کرنا اچھی مثال ہے۔ شہباز شریف اگر ان وزراء کو بھی اپنے بیان پر معذرت کی ہدایت کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا علاوہ ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی پارٹی کے سرپرست ہونے کے ناتے اس روئیے کو تبدیل کرنے کی ہدایت کر لینی چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنے جلسوں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں خواتین کو شریک کرنا ناگزیر ہے تو کم ازکم اس امر کی طرف ضرور توجہ دینی چاہئے کہ جلسوں میں مشرقی ماحول اور معاشرتی آداب کی پوری پابندی کرائی جائے اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ جہاں تک اس معاملے کا اسلامی اصولوں کے مطابق ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہے اس کا خود ان جماعتوں کے مقتدرین کو بخوبی علم ہے کہ ازروئے اسلام اس کی کوئی گنجائش نہیں اور اگر ہے تو حدود وقیود کی لازمی پابندی کیساتھ اس کی اجازت ہوسکتی ہے۔ سیاسی جلسوں میں بلاامتیاز خواتین اور نوجوان لڑکیاں جس طرح کی سرگرمیوں کا مظاہرہ کرتی ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور کنسرٹ میں فرق ہونا چاہئے اور اس فرق کو برقرار رکھنا سیاسی اکابرین کی ذمہ داری ہے۔ ماضی میں بھی خواتین سیاسی جماعتوں کا ہی نہیں بلکہ سیاسی جدوجہد کا حصہ رہی ہیں۔ بیگم نسیم ولی خان‘ شہید محترمہ بینظیر بھٹو‘ کلثوم نواز شریف اور دیگر خواتین کا سیاسی کردار کبھی متنازعہ نہیں رہا بلکہ انہوں نے سخت حالات میں مردوں کی قیادت اور رہنمائی کی۔ خواتین کی سیاست میں شرکت اور جلسوں میں آنا کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب حد سے تجاوز سامنے آتا ہے اور اس پر اُنگلیاں اُٹھتی ہیں۔

تعلیمی وظیفہ کی ادائیگی میں بلاجواز تاخیر

ایک سال قبل تعلیمی بورڈز کے دسویں اور بارہویں جماعتوں میں پہلی 20 پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کو ’’ستوری د پختونخوا‘‘ کے تحت ملنے والا سالانہ سکالرشپ اب تک نہ ملنا صوبے میں تعلیم کی ترقی کے دعوؤں کی نفی ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔ اسے بدقسمتی ہی گردانا جائے گا کہ بجائے اس کے کہ ہم معاشرے کے ذہین افراد اور خاص طور پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محنتی اور قابل طالب علموں کی حوصلہ افزائی کریں اُلٹا ان کی راہ میں قصداً اور بلاوجہ روکاوٹیں کھڑی کرنے کے عادی ہیں۔ ’’ستوری د پختونخوا‘‘ پروگرام کے تحت گزشتہ کئی سالوں سے طالب علموں کو وظائف دیئے جا رہے تھے لیکن گزشتہ سال سے اس کی راہ میں بلاوجہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ سمجھ سے بالاتر ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے طالب علموں کو نتیجہ آتے ہی وظیفہ کی رقم کی فوری ادائیگی کی جائے، ان کی عزت افزائی سے ان کا حوصلہ بڑھایا جائے مگر عملی طور پر ان کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے اور ایک سال سے وہ وظیفے کی راہ تک رہے ہیں۔ ہمارے رپورٹر کے مطابق محکمہ خزانہ اور محکمہ تعلیم واعلیٰ تعلیم بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں اور تینوں محکموں کی لاپرواہی کی وجہ سے طلباء وطالبات سکالرشپ کے منتظر ہیں۔ صورتحال کی متعلقہ دفاتر سے جو وضاحت دی گئی ہے وہ ناقابل تسلیم ہی نہیں بلکہ لغو نظر آتا ہے بہرحال وجوہات جو بھی ہوں اصل معاملہ طالب علموں کو رقم کی عدم ادائیگی ہے جس کا کوئی جواز نہ تھا اب جبکہ یہ معاملہ میڈیا کے ذریعے سامنے آچکا اب بھی جتنا جلد ممکن ہو سکے ضابطے کی کارروائی مکمل کرکے طالب علموں کو جلد سے جلد وظیفے کی رقم کی ادائیگی کی جائے اور آئندہ کیلئے اعتراضات لگا کر لیت ولعل کرنے کا موقع ہی ناممکن بنا دیا جائے تاکہ طالب علموں کو بروقت وظائف مل سکیں۔

متعلقہ خبریں