بجلی پھر بجھ لی

بجلی پھر بجھ لی

حکمران مسلم لیگ کے سابق وزیر اعظم نوا زشریف اور حاضر سروس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ان کے ہمنوا وزیر ہر جلسے میں ، ہر تقریب میں اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے ملک سے لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے ختم کر دیے ہیں۔ بجلی کی پیداوار اتنی بڑھا دی ہے کہ اب لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی ۔ اس کے باوجود ملک کے عام شہریوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کی اذیت کا سامنا ہے۔ اس کا جواز یہ بتایا گیا کہ جن علاقوں میں بجلی کے بل نہیں ادا کیے جاتے وہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے باقی سارے ملک میں بجلی کی سپلائی جاری ہے۔ گزشتہ دسمبر میں حکومت کے وزیر اویس لغاری نے دعویٰ کیا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہے۔ البتہ مختصر دورانیہ کے لیے لوڈ شیڈنگ ان علاقوں میں کی جا رہی ہے جہاں بجلی کے بل ادا نہیں کیے جاتے۔ لیکن یہ دسمبر کا مہینہ تھا جب نہ گھروں میں بجلی کے پنکھے چلتے ہیں، نہ متمول گھروں میں اے سی چلائے جاتے ہیں۔ امید بندھائی گئی کہ اب لوڈشیڈنگ کبھی نہیں ہو گی ۔ لیکن اپریل کے آتے آتے جب درجہ حرات جنوبی علاقوں میں تو دن کے وقت 48یا 49تک جاتا ہے لیکن وسطی علاقوں سے آگے شمالی علاقوں تک گرمی کی شدت اتنی نہیں بڑھی ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ کم و بیش سارے ملک میں شروع ہو چکی ہے۔ ابھی گرمی کا حقیقی موسم آنا ہے۔ اور اب کی بار روزے بھی مئی جون میں ہوں گے۔ کل شب برأت تھی ۔ ساہیوال میں میاں نواز شریف کے جلسے میں تو بجلی کے قمقمے روشنی بکھیر رہے تھے لیکن ملک کے دیگر حصوں میں عام طور پر لوگ اس رات عبادت گزاری میں مصروف ہوتے ہیں‘ مساجد میں محافل شبینہ یا صلوٰۃ تسبیح کا اہتمام ہوتا ہے‘ انہیں طویل یا مختصر لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑی۔ کراچی میں تو پچھلے دو ہفتوں سے بجلی کا بحران ہے جس کی وجہ سے پانی کا بحران بھی پیدا ہو چکا ہے ، لیکن وسطی، بالائی سندھ ، جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب میں بھی بجلی کی سپلائی میں تکلیف دہ آنکھ مچولی حکومت کے قائدین کے دعوؤں کی قلعی کھول رہی ہے اور یہ طعنہ کہ جن علاقوں میں بجلی کے ادا نہیں کیے جا رہے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے محض بہانہ سازی ثابت ہو رہا ہے۔ اسلام آباد ملک کا دارالحکومت ہے جہاں پارلیمنٹ ‘ وفاقی سیکرٹریٹ ‘ وزیر اعظم ہاؤس ‘ ایوانِ صدر اور سفارت خانوں کی عمارتیں ہیں ، اسلام آباد میں بھی ہر ایک گھنٹے کے بعد بجلی غائب ہو جاتی ہے حالانکہ راولپنڈی اسلام آباد ایسے شہروں میں بل نادہندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک مہینے کوئی متوسط طبقے کا صارف اگر بل ادا نہ کر سکے تو اس کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے اور پھر اس کی بحالی ایک دیر کار کام ہوتا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد سے ملتان تک ایسے علاقے شاید ہی کوئی ہوں جہاں بجلی کے بل ادا نہیں کیے جاتے لیکن اس سارے علاقے میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جار ہی ہے۔ اور بعض علاقوں میں تو دورانیہ 14سے 16گھنٹے تک جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے وہ سب دعوے یاد آتے ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی۔ پھر اگر ایک سال میں لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی ‘ پھر اگر دو سال میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی تو میرا نام بدل دیں۔ اب یہ نام کی تبدیلی کا کارِخیر انہیں خود ہی انجام دے لینا چاہیے کیونکہ لوڈشیڈنگ تو ختم نہیں ہو رہی ۔ ان کے بڑے بھائی اور ن لیگ کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف نے شاید ان کا نام بچانے کے لیے کہا تھا کہ 2018ء میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی لیکن 2018ء کا پانچواں مہینہ شروع ہو چکا ہے اور جوں جوں گرمی بڑھ رہی ہے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ رہا ہے۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوؤں میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی حکمران لیگ کے قائدین سے پیچھے نہیں رہے ۔ انہوں نے تو چند ماہ پہلے مائع گیس کی درآمد کے لیے بھاری بھر کم معاہدے بھی کیے۔ لیکن ایک انگریزی معاصر کے مطابق ایک طرف تو بلوکی‘ بھیکی‘ حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹس اور نیلم جہلم پن بجلی کے سٹیشن سے بجلی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے ، اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے فرنس آئل کے ذخائر کی کمی پوری کرنے کے لیے اس کی درآمد کی اجازت دیر سے دی۔ وزیر اعظم کے قلم کی جنبش میں اس تاخیر کے باعث اب فرنس آئل کل سے کراچی پہنچنا شروع ہو گا اور باقی پانچ جہاز ہفتے دس دن میں پہنچ جائیں گے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کل سے بجلی کے سوئچ جب تک آن ہو رہیں گے بجلی آئے گی ۔ جہازوں کو گوداموں میںلگنے ‘ اپنا بوجھ اُتارنے ‘ تیل کو ٹینکروں میں لوڈ کرنے اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں تک پہنچانے او رکام میں لانے میں دس بارہ دن لگ سکتے ہیں، وہ بھی اگر یہ سارے کام نہایت مستعدی سے کیے جائیں۔ فرنس آئل کی یہ ان لوڈنگ ‘ لوڈنگ اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں تک رسائی میں اگر دو ہفتے لگ جاتے ہیں تو رمضان کے آغاز تک لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی امید کم ہی رکھی جا سکتی ہے جب کہ ملک کے ایک بڑے علاقے میں درجہ حرارت 49، پچاس ڈگری کو چھو رہا ہے۔ اور باقی علاقوں میں گرمی شدید ہونے والی ہے۔ یوں بھی موسمیات کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اب کے گرمی کچھ زیادہ پڑے گی۔ حکومتی ارکان کے ان دعوؤں کے باوجود کہ ملک میں بجلی کی پیداوار میں کوئی کمی نہیں بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت بجلی کا شارٹ فال پانچ ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔ حقیقت میں صارفین تک پہنچنے پہنچتے اس میں تیس فیصد لائن لاسز شامل ہوں تو شارٹ فال سات سے آٹھ ہزار میگاواٹ تک جائے گا۔ ہر سال یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ رمضان میں کہیں لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی لیکن جس رفتار سے فرنس آئل کراچی پہنچا ہے اور جس رفتار سے یہ بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں میں پہنچے گا۔
(باقی صفحہ7)

اداریہ