Daily Mashriq


نئے صوبوں کا قیام کیوں ضروری ہے ؟

نئے صوبوں کا قیام کیوں ضروری ہے ؟

ہی عام انتخابات قریب آرہے ہیں ملک میں صوبوں کے قیام کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے ۔انتخابی مطالبے کے علاوہ ، نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بہت زیادہ سوچ بچار کی جانی چاہیے تاکہ نئے صوبوں کا قیام وفاق کو کمزور کرنے یا نئی لسانی تفریق کرنے کی بجائے وفاق کو مضبوط کرنے اور گورننس میں بہتری لانے کا باعث بنے۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی وفاق یا کسی بھی ملک میں صوبوں یا ریاستوں کے قیام کا ایک واضح مقصد اور ہدف ہوتا ہے ۔ یونیٹری یا کنفیڈرل طرزِ حکومت کی بجائے فیڈریشن ریاستوں یا صوبوں کے ایک ایسے اتحاد کا نام ہے جس میں تمام ریاستیں یا صوبے کسی حد تک خود مختار ہوتے ہیں اور ان وفاقی اکائیوں میں اپنی اپنی حکومتیں قائم ہوتی ہے جبکہ وفاق اور وفاقی اکائیوں کی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم ایک آئینی فارمولے کے تحت ہوتی ہے۔ پاکستان دنیا کی ان 27 فیڈریشن میں شامل ہے جہاں پر صوبوں یا ریاستوں اور وفاق کے درمیان اختیارات کی تقسیم آئین میں تفصیل سے بتائی گئی ہے ۔ پاکستان میں اختیارات کی تقسیم کا توازن وفاق سے صوبوں کے حق میں آئین کی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے منتقل کردیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک دہائی پہلے ہونے والے ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں بھی صوبوں کو زیادہ مالی اختیارات تفویض کئے گئے تھے۔دنیا میں امریکہ ، روس اور برازیل جیسی بڑی بڑی فیڈریشنز کے ساتھ ساتھ سینٹ کیٹس، نیویس اور میکرونیشیا جیسی چھوٹی فیڈریشنز بھی موجود ہیں لیکن حجم سے ہٹ کر دنیا کی تمام فیڈریشنز کو ایک وفاق کا حصہ رہنے کے لئے کسی نہ کسی ترغیب کی ضرورت ہوتی ہے جو تمام اکائیوں کے اتحاد کو یقینی بنانے کاسبب بھی بنتی ہے۔عام طور پرپائے جانے والے خیال کے برعکس، لسانی اور نسلی بنیادوں پرنئے صوبوں اور ریاستوں کا قیام وفاق کو مضبوط اور متحد کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ لوگوں کو ان کی لسانی یا نسلی شناخت دے دیتے ہو تو اس سے ان کو قومی مرکزی دھارے کا حصہ بننے میں مدد ملتی ہے اور وہ خود مرکزی دھارے سے اجنبی نہیں سمجھتے۔اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو ہمارے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت دیگر عوامل سے کہیں زیادہ انتظامی بنیادوں پر ہے۔ پاکستان کے صوبوں کو دیکھا جائے توآبادی کے لحاظ سے ایک صوبہ دیگر تمام صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی بڑا ہے۔اگر دنیا کی کسی بھی فیڈریشن میں ایسی صورتحال ہو تو اس فیڈریشن میں انتظامی مسائل ضرور ہوں گے۔ لیکن نئے صوبوں کے قیام سے پہلے ہمیں بہت سی باتوں کو ذہن میں رکھنا ہوگا ۔ اگرہم لسانی بنیادوں پر نئے صوبے قائم کرتے ہیں تو مختلف لسانی گروہوں کو شناخت ضرور مل جائے گی لیکن نئے صوبوں کے قیام کے فوائد اس وقت تک مکمل طور پر حاصل نہیں کئے جاسکتے جب تک گورننس میں اصلاحات نہیں لائی جاتیں اور کرپشن کے خلاف مناسب اور ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاتے۔ حکومت کی کارکردگی اور گورننس کی صلاحیت میں اضافے کے لئے اداروں کی سطح پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام لانا ہوگا ور اس کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ مقامی حکومتوں کواختیارات منتقل کرکے بلدیاتی نظام کو بہتر کرنا بھی اس حوالے سے بے حد سود مند ثابت ہوگا۔اعدادوشمار کی بنیاد پر کئے جانے والے فیصلوں اور پالیسی سازی، احتساب، شفافیت ، میرٹ کا احترام اور ایمان داری حکومت کی گورننس کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ان تمام نکات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو نئے صوبوں کے قیام سے بھی حکومت کی عمل داری ، کارکردگی اور سروس ڈیلیوری میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔نئے صوبوں کے قیام میں آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں اوروفاق کے درمیان اختیارات میں تبدیلی کے توازن کو بھی ضرور مدِ نظر رکھنا چاہیے۔ اٹھارہویں ترمیم کو پارلیمنٹ سے پاس ہوئے آٹھ برس گزر چکے ہیں اور ان آٹھ برسوں کے بعد بھی بہت سے معاملات ابھی تک حل طلب ہیں ، صوبوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا پائی جاتی ہے اور وفاق اور صوبوں اور صوبوں کے آپس کے تعلق کو بھی کسی طرح سے مثالی نہیں کہا جاسکتا۔صوبوں کے درمیان مفادات کی یہ جنگ مشترکہ مفادات کونسل کی میٹنگ میںبھی کئی بار اس وقت کھل کر سامنے آئی ہے جب وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کے ایجنڈے اور ترقیاتی بجٹ پر بات کی گئی۔ صوبوں کے اندر اور صوبوں اور وفاق کے درمیان پائی جانے والی مذکورہ بداعتمادی کی فضاء میں نئے صوبوں کا قیام کوئی معنی نہیں رکھتااور نہ ہی اس صورتحال میں نئے صوبوں کے قیام سے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکیں گے۔ اس لئے نئے صوبوں کے قیام سے پہلے اٹھارہویں ترمیم پر مکمل طور پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر صوبوں میں اعتماد کی فضا بحال کی جانی چاہیے۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد سامنے آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے اورنئی صوبوں میں گورننس کی اصلاحات کا تجربہ بھی شروع دینا چاہیے تاکہ نئی صوبے بننے کے بعد ان اصلاحات کو لاگو کرنے میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ موجود حکومتوں کو ڈیجیٹل دور کو بھی اپنانا ہوگا جس کے لئے آج سے ہی اقدامات شروع کردینے چاہئیں کیونکہ گورننس میں انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال شفافیت لانے کا باعث بنے گا۔ (بشکریہ: دی نیوزترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں