ذہنی مریض معاشرے پر بوجھ نہیں

ذہنی مریض معاشرے پر بوجھ نہیں

اس جدید دور میں بہت ساری آسائشوں اور سہولیات کے باوجود بھی انسان کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے ذہنی امراض کا شکار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں 50ملین یعنی 5کروڑ افراد مختلف قسم کے نفسیاتی امراض اور ڈیپریشن کا شکار ہیں۔ ڈیپریشن، تناؤ یا ذہنی امراض کی علامات میں مسلسل اداس ہونا، ناامیدی کی باتیں کرنا، اپنے آپ کو بے یار ومددگار اور ناتوانا محسوس کرنا، پریشان رہنا، مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینا، تھکاوٹ، کام میں عدمِ دلچسپی اور عدم توجہی، حافظے کا کمزور ہونا، غلط فیصلے کرنا، صبح جلدی اٹھنا یا حد سے زیادہ سونا، وزن کا کم ہونا یا بڑھنا، خودکشی کی کوشش کرنا، موت کو سر پر سوار کرنا، بے چینی کی سی کیفیات اور بعض ایسے امراض جو دوائیوں کے مسلسل استعمال سے بھی ٹھیک نہیں ہوتے، مثلاًسر درد، معدے اور ہاضمے کے امراض وغیرہ شامل ہیں۔ عورتوں میں مردوں اور بچوںکی نسبت ڈیپریشن یا ذہنی امراض بہت زیادہ یعنی ستر فیصد پائے جاتے ہیں۔ میں جب اپنے آبائی گاؤں صوابی میں گھومتا پھرتا ہوں تو صوابی کے بازار میں مجھے بہت سارے ذہنی معذور لوگ نظر آتے ہیں۔ یہ دنیا ومافیہا سے بے خبر اپنی دھن میں مگن ہو تے ہیں۔ یہ میرا تجزیہ ہے کہ گزشتہ 20سالوں میں اس قسم کے ذہنی امراض میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں ایک وجہ معاشرتی اور سماجی ناانصافی، بغیر محنت کے خوب سے خوب تر کی تلاش، ذکرالٰہی اور دین سے غافل ہونا اور اس کے علاوہ دیگر اور بھی عوامل ہیں جو ذہنی امراض کا سبب بنتے ہیں۔ آبادی کا جو زیادہ طبقہ اس سے متاثر ہے وہ عورتیں ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اس قسم کے مریضوں کا علاج نہیں کرتے بلکہ کبھی اس قسم کے مریضوں کو جعلی پیروں کے پاس لے جاتے ہیں اور ان کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہوتی ہے۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالیں تو علاج جو سنت نبویؐ ہے اس کیساتھ ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ ہم خود قرآن مجید فرقان حمید کو پڑھیں کیونکہ اس میں شفا ہے مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم مریضوں پر قرآن اور قرآنی آیات دم کر کے اور سنت نبویؐ کے ذریعے علاج کے بجائے اپنے مریضوں کو نام نہاد پیروں، عاملوں اور جادوگروں کے پاس لے جاتے ہیں اور ان کے مرض میں مزید اضافہ کرتے ہیں اور اس قسم کے نفسیاتی مریضوں پر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ پھر ان کا علاج قطعی نہیں ہو سکتا اور وہ معاشرے کے کارآمد فرد کی بجائے ایک ناکارہ پرزہ بن جاتا ہے۔ اگر ہم مزید غور کر لیں تو اس قسم کے نفسیاتی امراض میں زیادہ تر خواتین مبتلا ہوتی ہیں اور یہ اس لئے کہ یہ لوگ علاج کے بجائے فضول کاموں میں لگ جاتے ہیں۔ ماہر نفسیات کے مطابق اس وقت پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار مریضوں کی تعداد 50 ملین یعنی 5کروڑ ہے اور اس میں انتہائی تیزی کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ہم مزید غور کر لیں تو وطن عزیز میں 21کروڑ آبادی کیلئے 400 ماہر نفسیات اور 4 ہسپتال ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ باالفاظ دیگر پاکستان میں 5لاکھ 25 ہزار مریضوں کیلئے ایک ڈاکٹر ہے۔ اسلئے اکثر مریضوں کے لواحقین ان پر جادو ٹونوں کے تجربے کرتے ہیں۔ یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ بعض اوقات ڈاکٹر بھی اس قابل نہیں ہوتے جو اس قسم کے مریضوں کا احسن طریقے سے علاج کر سکیں۔ ڈاکٹروں کیلئے بھی چاہئے کہ سال میں دو دفعہ کم ازکم سینئر ڈاکٹرز، پروفیسرز کے زیرنگرانی ریفرشر کورس کا انتظام کیا جائے تاکہ ان کو اپنے فیلڈ کے بارے میں پورا پورا علم ہو۔ علاوہ ازیں نفسیاتی امراض کے ڈاکٹروں کو بیرون ملک بھی بھیجنا چاہئے تاکہ وہ ذہنی امراض سے متعلق نئے رجحانات سے باخبر ہوں۔ جہاں تک میرا ذاتی تجربہ ہے اس قسم کے ڈاکٹروں میں سے ایک ہوگا جو اپنی فیلڈ کیساتھ انصاف کر رہا ہوگا۔ حکومت کو چاہئے کہ ان کے استعدادکار بڑھا نے کیلئے ڈاکٹروں کا ریفریشر کورس منعقدکریں۔ دوسری میری حکومت اور صاحب ثروت لوگوں سے استدعا ہے کہ جو لاوارث دیوانے لوگ بازاروں اور دوسری جگہوں میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہوتے ہیں، ان کے کھانے، سر چھپانے، ان کے علاج اور ان کی نگہداشت کیلئے تحصیل اور ضلعی سطح پر دارالکفالہ بنانا چاہئے تاکہ یہ لوگ بھی معاشرے کے کارآمد شہری بنیں۔ آقائے نامدار وسرکار دوجہاں حضرت محمدﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں بہتر وہ ہے جو دوسروں کیلئے زیادہ مفید اور اچھا ہو۔ میری والدین سے بھی گزارش ہے کہ اگر کسی کے بچے کو نفسیاتی عارضہ ہو تو اس کو جعلی پیروں اور عاملوں کے بجائے ماہر نفسیات کے پاس لے جانا چاہئے تاکہ اس کا مرض نہ بگڑے۔ جس طرح ہمیں نزلہ زکام، بخار، ملیریا اور ٹائی فائیڈ ہو سکتا ہے اس طرح ہمیں ذہنی عارضہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ لہٰذا دوسری بیماریوں کی طرح اس کا علاج بھی کرنا چاہئے۔ حکومت اور صاحب ثروت لوگوں کو چاہئے کہ وہ آگے آئیں اور ان کیلئے سویٹ ہوم کی طرز پر مراکز بنائیں تاکہ یہ معاشرے کے بہترین اور مفید شہری بن سکیں۔

اداریہ