Daily Mashriq

وزیراعظم اب عوام کو ریلیف دینے کا سوچیں

وزیراعظم اب عوام کو ریلیف دینے کا سوچیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی سے عوام پریشان ہیں مگر یہ مہنگائی اور پریشانی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے دور سے کم ہے، ہم ہی پاکستان کو اس بحران سے نکالیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے تیسویں یوم تاسیس سے خطاب کے موقع پر اپنی کامیابیوں سے آگاہی دینے کی بجائے مسائل میں اضافہ اور مشکل حالات کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھا، اس موقع پر تحریک انصاف کے تیس سالہ جدوجہد کے نتائج پر بات کرنے کی بجائے سیاسی مخالفین کے حوالے سے جو روایتی موقف اپنایا اس کا اعادہ وہ بار بار کرتے آئے ہیں اور عوام کو بھی اب وہ باتیں ازبر ہو چکی ہیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا مقصد ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہے، ساتھ ہی انہوں نے مہنگائی کا بھی اعتراف کیا جس کی فلاحی ریاست میں گنجائش نہیں ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں گوکہ تحریک انصاف کی حکومت کو حالات سخت ملے، اگر حکومت ان کو مزید سخت ہونے سے روک پاتی یا کم از کم معمول کے مطابق مہنگائی ہوتی تو اس کی گنجائش تھی مگر عالم یہ ہے کہ مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کہیں گر چکا ہے‘ کاروبار اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے دعوئوں کے برعکس حالات سے عوام دو چار ہیں۔ عوام اولاً پہلے سو دنوں کے حوالے سے دعوؤں کی تکمیل کے منتظر رہے پھر دو سو دنوں اور پھر تین سو دنوں تک ان کا انتظار محیط ہوا جو اب مایوسی میں تبدیل ہونے لگا ہے۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت کا پیش کردہ بجٹ بھی عوام کے توقعات کے مطابق نہ آیا تو پھر حکومت کی عوامی مخالفت اور خود حامی عناصر کے ذہنوں کی تبدیلی کا حکمران جماعت کو سامنا کرنا پڑے گا جبکہ کٹر حامیوں کے پاس دفاع کیلئے مضبوط دلائل نہیں رہیں گے اور اندر سے ان کی بھی شکستگی فطری امر ہوگی۔ اس صورتحال کی ذمہ داری سابق حکمرانوں پر عائد کرنے کے دلائل بھی کافی نہ ہوں گے۔ یہ ملک کے عوام، حکومت اور خاص طور پر تحریک انصاف کی قیادت کیلئے بہت بڑا چیلنج ہوگا جس سے بچنے کا واحد راستہ عوامی اُمنگوں کے مطابق بجٹ دینا ہے اور اگر یہ ممکن نہیں تو کم ازکم اس امر کا ہی خیال رکھا جائے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یوم تاسیس خود احتسابی کا دن ہوتا ہے جس میں دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بجائے خود کو کٹہرے میں کھڑا کرکے اپنی کارکردگی، کامیابی اور ناکامیوں کا جائزہ لیا جاتا تو زیادہ مناسب اور بہتر ہوتا۔ وطن عزیز کے عوام کی حکمرانوں سے وابستہ توقعات کی فہرست کبھی ضرور طویل ہوا کرتی تھی لیکن اب عوام کی توقعات اتنی رہ گئی ہیں کہ وہ جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھ پائیں۔ ایک ایسی حکومت جو ریاست مدینہ کے طرز کی حکمرانی اور فلاحی ریاست کی دعویدار ہو اس سے مہنگائی اور لوڈشیڈنگ میں کمی کچھ غیرحقیقت پسندانہ توقع نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں اضافے کا اعتراف کرکے حقیقت پسندی اور صاف گوئی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس پر قابو پانے کیلئے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے اس سے آگاہی دیتے تو عوام کو تسلی ہوتی۔ وزیراعظم کو اس موقع پر ابتدائے دوراقتدار کی طرح سادگی‘ کفایت شعاری اور بچت کے چند مزید اور نتیجہ خیز اقدامات ہی کا اعلان کرنا چاہئے تھا اور گزشتہ اقدامات کے نتائج سے عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت تھی تاکہ عوام کو گزشتہ اور موجودہ حکومت کے تین سو دنوں کا تقابل کرنے میں آسانی ہوتی۔ ہمارے تئیں وزیراعظم کو سابقہ حکمرانوں پر تنقید کا پورا حق حاصل ہے اس حق کا استعمال کرتے وقت کارکردگی کا تقابلی جائزہ بھی سامنے لایا جاتا تو بات زیادہ مدلل ہو جاتی۔ جہاں تک ماضی کے حکمرانوں کے احتساب اور مبینہ لوٹ مار کا تعلق ہے اس ضمن میں تمام تر کوششوں کے باوجود ہنوز کوئی ایسی پیشرفت سے عوام کا واسطہ نہیں پڑا جسے خوشگوار قرار دیا جاسکے۔ عوام کو بجاطور پر توقع تھی کہ پی ٹی آئی حکومت میں احتساب کا عمل تیز سے تیزتر ہوگا اور مزید بڑی مچھلیاں احتساب کی زد میں آئیں گی لیکن فی الحال اس مد میں بھی پیشرفت تسلی بخش نہیں بلکہ بعض ایسے حالات اور صورتحال سامنے آئی ہے جس سے اس امر کا خدشہ بڑھ رہا ہے کہ احتساب کی زد میں آنے والے عناصر کمزور کیس کے بناء پر کہیں عدالت سے چھوٹ نہ جائیں۔ بہتر ہوگا کہ دعوؤں کی بجائے حقیقت پسندانہ طرزعمل اختیار کیا جائے اور عملی طور پر ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بننے کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ حکمران ملکی مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور احتساب کے عمل کی بھی احسن طریقے سے تکمیل ہوگی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت جلد ایسے اقدامات کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جس کے نتیجے میں عوام کو مہنگائی سے ریلیف ملے گا۔ اس امر کی بجا طور پر امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والا بجٹ عوام دوست اور عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہوگا اور اسے عوام عملی طور پر یہ قرار دے سکیں گے کہ حکومت مدینے کی ریاست کے طرز کی حکمرانی کیلئے عملی طور پر کوشاں ہے۔

متعلقہ خبریں