Daily Mashriq

کشمیریوں سے متعلق پاکستانی موقف کی تائید

کشمیریوں سے متعلق پاکستانی موقف کی تائید

اقوام متحدہ کی کمیٹی کی جانب سے ایک پاکستانی شخص کو جو پاکستان میں قیام پذیر ہے اسے دہشتگردوں کی عالمی فہرست میں شامل کیا جانا ملک کیلئے کوئی نیک شگون نہیں، البتہ کشمیر سے متعلق بھارتی موقف میں تبدیلی پاکستانی موقف کو تسلیم کرنے کے مترادف ضرور ہے۔ کشمیریوں کی قانونی جدوجہد کو کسی طور پر دہشتگردی سے جوڑنا مناسب نہیں کیونکہ کشمیری بھارتی مظالم اور قبضہ کیخلاف آزادی کی جنگ میں مصروف ہیں جن کی سفارتی اور اخلاقی حمایت پاکستان کا فرض ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے معاملے میں تو ہمارا موقف واضح بھی ہے اور دنیا کیلئے تسلیم شدہ بھی ہونا چاہئے، کالعدم جیش محمد کے سربراہ کا نام عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہونے کے بعد اس پر پابندیوں کا جو اطلاق ہونا ہے اگر دیکھا جائے تو اس کا اطلاق بہت پہلے سے عملی طور پر کیا جا چکا ہے۔ اس وقت ان کی جسمانی طور پر حالت بھی شاید ایسی نہیں کہ اس کے حوالے سے کوئی مزید کارروائی کی جائے۔ یہ ساری صورتحال اپنی جگہ لیکن اگر دوسری جانب دیکھا جائے تو اس پابندی کو لاگو ہونے سے روکنے کیلئے چین نے ایک عرصے تک تکنیکی بنیادوں پر اس کی مخالفت کرکے ہمارا ساتھ ضرور دیا، ان کے حوالے سے الزامات درست تھے یا غلط اس سے قطع نظر بالآخر ان پر پابندیوں کا اطلاق اس امر پر دال ہے کہ ان کے حوالے سے ہمارا ماضی کا موقف اور طرزعمل زیادہ درست نہ تھا۔ اس موقع پر اس امر کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا ہماری ماضی کی وہ پالیسیاں کس حد تک ملکی مفاد میں اور درست تھیں جن کے باعث اقوام عالم میں ہم پر تنقید ہوتی رہی۔ حالیہ دنوں میں مختلف حوالوں سے ملکی پالیسیوں میں جو تغیر وتبدل آیا ہے اس کے وکیلوں کو ایک عرصے تک اچھے لفظوں سے یاد نہ کیا گیا لیکن بالآخر اس موقف پر آنا کسی دباؤ کا نتیجہ ہے یا پھر پالیسیوں میں تبدیلی ناگزیر ہوگئی تھی اس پر ایک مرتبہ پھر غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ پالیسیوں کی تشکیل میں کسی غلطی کا امکان نہ رہے۔

افغان سرزمین کا دہشت گردی کیلئے استعمال

وزیرستان میں افغان سرحد پر باڑ لگانے والی ٹیم پر افغانستان سے دہشتگردوں کے حملے میں پاک فوج کے تین جوانوں کی شہادت اور سات کے زخمی ہونے کا واقع اس امر کا ثبوت ہے کہ افغانستان کی سرزمین نہ صرف دہشتگردوں کے زیراستعمال ہے بلکہ ان کو کھل کر کھیلنے کی بھی اجازت ہے۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی اصولی طور پر ذمہ داری دونوں ممالک کی ہونی چاہئے تاکہ غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے والے اور خاص طور پر دہشتگردوں کی روک تھام ہوسکے لیکن بجائے اس کے کہ اس ذمہ داری میں افغانستان کی حکومت بھی شریک ہوتی افغان حکومت کو الٹا اس پر اعتراضات ہیں۔ بہرحال پاکستان کی جانب سے اس کے باوجود بلوچستان اور شمال مغربی سرحدوں پر باڑ لگانے کا عمل باربار کے حملوں اور مزاحمت کے باوجود جاری ہے۔ اس تگ ودو میں اب تک ہمارے درجنوں جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں اور اتنے ہی زخمی ہوئے ہیں۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی ابھی تکمیل باقی ہے لیکن اس کے باوجود غیرقانونی طور پر آمد ورفت کرنے والوں کی بڑی حد تک روک تھام ہوئی ہے۔ دہشتگردوں کے راستے مسدود ہوچکے ہیں اور باقی ماندہ پر کام جاری ہے جسے روکنے کیلئے اس قسم کے حملے ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام افغان حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کا مظاہرہ کرنے کا مطلب دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہوگا۔

الزامات کا ٹھوس جواب دینے کی ضرورت

مشرق ٹی وی کے پروگرام پختنہ میں خیبر پختونخوا میں حزب اختلاف کے قائد اکرم خان درانی نے بلین ٹری سونامی کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا اور جو الزامات لگائے اس کی حقیقت اور عدم حقیقت سے قطع نظر یہ حکومت کیلئے دو طرح سے دعوت مبازرت ہے، ایک یہ کہ ان کا وہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوا جس کا تذکرہ اکثر وبیشتر کیا جاتا ہے اور دوم یہ کہ یہ منصوبہ بدعنوانی سے پاک نہیں اس ضمن میں پیش کردہ دستاویزی ثبوتوں اور حقائق کی مناسب فورم پر تصدیق وتردید ہی سے یہ مسئلہ حل ہوگا جبکہ خیبر پختونخوا کی کمیٹی میں پودے لگائے گئے مقامات کا دورہ کرنے کے موقع پر حکومتی اراکین کی عدم موجودگی اور جانے سے احتراز حکومتی موقف کو کمزور کرنے کیلئے کافی ہے۔ ہم بار بار اس ضمن میں یہی عرض کرتے آئے ہیں کہ حزب اختلاف کے الزامات کو غلط ثابت کرنے کیلئے حکومت کو عوامی نمائندوں‘ میڈیا اور غیرجانبدار تنظیموں اور حلقوں کو ان مقامات کا دورہ کرانا چاہئے، صوبائی حکومت کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ وہ ان مقامات کی تازہ ترین ویڈیو بنا کر میڈیا اور عوام کو پیش کرے۔ ان تمام امور سے پہلو تہی اور اعراض کا مطلب بالواسطہ طور پر حزب اختلاف کے موقف کو تقویت دینا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کب عملی اقدامات سے الزامات کو باثبوت رد کرنے کا اقدام کرتی ہے جتنا جلد ایسا کیا جائے اتنا بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں