Daily Mashriq

پاکستانی قومیتوں کی مختصر روداد

پاکستانی قومیتوں کی مختصر روداد

متحدہ پاکستان (مشرقی ومغربی) میں بنگالی بھائیوں کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ ان کی ذہنی صلاحیتیں ہر وقت سرگرم رہتی تھیں اور حقیقت یہ ہے اس حوالے سے وہ برصغیر پاک وہند کی کم وبیش ساری قومیتوں سے زیادہ ذہین اور زرخیز اذہان کے مالک ہیں۔ انگریز یا ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے ڈھیرے ڈانڈے بھی ہندوستان میں سب سے پہلے کلکتہ (بنگال ہی میں ڈالے تھے اور انگریز کو بنگال ہی سے پورے برصغیر پر حکومت چلانے کیلئے بہترین معاون بنگالی بابوؤں کی صورت میں حاصل ہوئے تھے ہندوستان میں مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کی داخلی خودمختاری اور بعد میں قرارداد لاہور ( قرارداد پاکستان) میں بھی ان ہی لوگوں کے زرخیز ذہن کا بہت بڑا کردار تھا۔ اسی وصف کے پیش نظر بنگالیوں کا دعویٰ ہے کہ جو سیاسی اپج ہمارے ذہنوں کو حاصل ہوتی ہے وہ برصغیر کے دیگر اقوام کو سمجھنے اور اختیار کرنے میں سو برس لگتے ہیں۔

یہ تمہیدی جملے پاکستان میں بنگلہ دیش بننے کے بعد سندھی بھائیوں کی تاریخ کے پیش نظر ذہن میں تازہ ہوکر سامنے آئے۔ سندھی بھی بہت وطن پرست (سندھ پرست) اور اپنی ثقافت وغیرہ کے حوالے سے بڑے حساس واقع ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ہر سال اپنی ثقافت کا دن مناتے ہیں۔ سندھ کی دینی وتاریخی کردار میں ’’باب الاسلام‘‘ کی حیثیت منفرد اور قابل فخر ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بنگالی بھائیوں کے بعد اگر وقتاً فوقتاً پاکستان کیخلاف سندھ کارڈ کے استعمال کی کوشش ہوئی ہے تو وہ بھی یہیں سے ہوئی ہے۔ سندھ میں قوم پرستی کا سراب بھی جواں ہے اور کئی ایک علاقائی سیاسی جماعتوں کے علاوہ مین سٹریم کی بڑی ومعروف سیاسی جماعت کے اکابرین اب بھی بوقت ضرورت اور بالخصوص مرکزی حکومت سے باہر رہنے کی صورت اس کا استعمال ببانگ دہل کرتے ہیں جی ایم سید کے قومی تعصب پر مبنی نظریات وافکار سے کونسا صاحب علم واقف نہیں‘ ان کی بعض تصانیف ایسی ہیں اور اب بھی پاکستان میں دستیاب ہیں جن کا نام لینا بھی میں حب الوطنی کے اصولوں کیخلاف سمجھتا ہوں۔ سندھیوں کے بعد تیسری قومیت جو بلوچوں کی ہے جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت بے مثال کردار ادا کیا اور ان کے سرداروں نواب اکبر خان بگٹی‘ نواب آف قلات‘ جام آف لسبیلہ اور جوگیزئی خاندان کے اکابرین نے قائداعظم کا ساتھ دیکر پاکستان کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا لیکن قیام پاکستان کے بعد دوسرے عشرے میں افغانستان کے حکمرانوں کی آشیرواد کیساتھ مری قبائل کا پہاڑوں پر چڑھنا اور افغانستان میں پناہ گزین بن کر پاکستانی افواج کیخلاف مسلح جدوجہد اور پروپیگنڈہ کرنا تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور 9/11 کے بعد افغانستان میں بیرونی افواج اور قوتوں اور بالخصوص بھارت کو پاؤں جمانے کی جگہ ملنے کے بعد تو بلوچ قبائل کے بعض سرپھرے اور بگڑے نوجوان اور بیرونی فنڈنگ کے بل پر افغانستان اور مغرب کے بعض ملکوں میں عیاشیوں کی بھرپور زندگی گزارنے والے نوجوان بھی شامل ہیں اور ایک نئے انداز سے سوشل میڈیا اور ذائع ابلاغ مواصلات کے استعمال میں لگے ہوئے ہیں۔پاکستان میں ستر کے عشرے میں بنگالیوں کے دیکھا دیکھی پختونخوا میں افغانستان کی سرزمین پر پختون قومیت اور ’’لر وبر پختون‘‘ کے نام سے تحریک برپا رہی ہے جس کی تفصیلات جمعہ خان صوفی کی ’’سرگزشت‘‘ ( پہ درمسال کے خٹے) اور اردو ترجمہ ’’فریب ناتمام‘‘ میں بہت واضح انداز میں موجود ہیں۔لیکن یہ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں لولی لنگڑی سہی جو بھی جمہوریت لشٹم پشٹم بہرحال موجود رہی ہے یا چل رہی ہے اسی کے طفیل ان ساری تحریکوں یا عناصر کو کامیابی نہیں ملی ہے اور نہ ہی انشاء اللہ مل سکے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں صوبوں میں پاکستان سے محبت کرنے اور جمہوری نظام پر یقین رکھنے والوں کی اکثریت ہے۔ بنگالیوں کی مرکزی یا مغربی پاکستان سے ناراضگی یا گلے شکوے علیحدگی کی تحریک بہرحال نہیں تھی اور نہ ہی مجیب الرحمن کے چھ نکات میں واضح طور پر کوئی ایسی بات تھی‘ لیکن ان کے بعض جائز مطالبے بھارتی حکومت کے اکسانے‘ ورغلانے اور مغربی پاکستان کی مارشل لاء حکومت کی سیاسی بلنڈر جس میں بعض سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں‘ مکتی باہنی کی تحریک میں تبدیل ہو کر بنگلہ دیش میں ڈھل گئی۔ بنگلہ دیش کے قیام میں سب سے بڑا اور اہم کردار بھارت کا تھا اور ہماری بدقسمتی یہ تھی کہ مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل کی دوری کے علاوہ شدید مغالطے اور پروپیگنڈے اور جمہوریت کا نہ ہونے کا بنیادی کردار رہا۔اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ1971ء کے بعد پاکستان کے اندر جتنی بھی مرکز گریز‘ صوبائی یا قومیت پر مبنی شورشیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہیں اس میں غیروں کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے اور یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ پاکستان کے جمہوری نظام میں بہت بڑے نقائص ہیں جس کی وجہ سے عوام کے صحیح اور جائز نمائندوں کو پارلیمنٹ تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ خاندانی‘ موروثی اور پیسے اور دھونس دھاندلی کے زور پر پارلیمنٹ تک پہنچنے والے صحیح معنوں میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام کے درمیان عدل وانصاف کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کرنے کے قابل نہیں رہتے جس کے سبب تین چھوٹے صوبوں میں شکوے شکایتوں‘ ناراضگیوں کے تانے بانے چلنے لگتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی عوام کی ضروریات کے تحت کوئی ایسا نظام حکومت سرجوڑ کر لایا جائے جو پاکستان کے صوبوں کے درمیان مضبوط رسی کا کردار ادا کرے اور اس کا ایک طریقہ شاید یہ بھی ہے کہ پنجاب کی بڑی آبادی کی پارلیمانی وجمہوری طاقت کو دیگر صوبوں کیساتھ توازن میں لایا جائے اور پارلیمان میں سارے صوبوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے۔ تب انشاء اللہ علاقائی اور قومیتوں پر مبنی آوازیں خودبخود دم توڑتی جائیں گی اور قومی دھارا مستحکم ہوتا چلا جائے گا اور پی ٹی ایم جیسی شورشیں پنپنے کیلئے کوئی جگہ میسر نہ ہوگی۔ پاکستان زندہ باد۔

متعلقہ خبریں