Daily Mashriq

روبوٹک چوہے مار مہم اور متاثرین

روبوٹک چوہے مار مہم اور متاثرین

ایک اور واٹر گیٹ سکینڈل بننے تو نہیں جا رہا؟ پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے عجیب وغریب دعویٰ کر دیا ہے کہ حکومت مخالفین کی جاسوسی کیلئے ان کے کمروں میں روبوٹ چوہے چھوڑ رہی ہے۔ ایک ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ سیکرٹری قومی اسمبلی میرا لگایا ہوا ہے اس نے مجھے بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو جن پر شک ہے ان کے کمروں میں چوہے چھوڑنے کیلئے آئی بی کو ہدایت کی ہے۔ ن لیگ کے رانا ثناء اللہ کے کمرے میں بھی چوہا چھوڑا گیا‘ نبیل گبول نے مزید کہا کہ بڑی تبدیلی آنے والی ہے جو ملک کیلئے اچھی ہوگی۔ 2020 انتخابات کا سال ہے‘ نہ ہوئے تو سیاست چھوڑ دوں گا‘ آنے والا دور بلاول بھٹو کا ہے‘ سردار نبیل گبول نے جو باتیں کی ہیں ان پر دو اشعار کا خوبصورت اطلاق ہوتا ہے کہ

میری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرے

جس نے جو بات بھی کرنی ہو سرعام کرے

وہ مری سوچ سے خائف ہے تو اس سے کہنا

مجھ میں اُڑتے ہوئے طائر کو تہہ دام کرے

اب سردار گبول نے وزیراعظم کیخلاف جو بات سرعام کہی ہے اس کی حقیقت کو بھی دیکھنا پڑے گا کہ ایک تو موصوف کے بیان نے اس بے چارے سیکرٹری قومی اسمبلی کو مشکل میں ڈال دیا ہے جن کی دوستی کا دم بھی سردار نبیل گبول بھرتے ہیں اور ساتھ ہی ان کو ٹارگٹ کرکے ان کے کردار کو مشکوک بھی بنا دیا ہے۔ سو دیکھتے ہیں کہ جس بے چارے پر اطلاع دینے کا الزام عائد کرکے سردار گبول نے روبوٹ چوہوں کی کارستانی کو طشت ازبام کیا ہے وہ اس بارے میں کیا موقف اختیار کرتا ہے اور کس طرح ’’عتاب شاہی‘‘ سے بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہے‘ تاہم زیادہ گھبرانے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ ہمارے ہاں امریکی طرز پر عمل درآمد کے کوئی چانسز نہیں ہیں۔ جہاں واٹر گیٹ سکینڈل سامنے آنے کے بعد صورتحال اس نہج پر جا پہنچی تھی کہ صدر امریکہ رچرڈ نکسن کو مواخذے سے بچنے کی خاطر مستعفی ہونا پڑا تھا چونکہ ایسے معاملات پر وزراء اعظم کے استعفوں کا کوئی رواج نہیں ہے اس لئے نہ تو محولہ سیکرٹری اسمبلی نہ ہی وزیراعظم کو کسی طرح کے فکر و تردد کی ضرورت ہے۔ ہاں پارٹی رہنماء کیخلاف سویز حکومت کو اس کی لوٹی ہوئی دولت کے اکاؤنٹس کے بارے میں خط لکھنے سے انکار یا پھر وکی لیکس کے تحت کسی اور وزیراعظم کیخلاف آف فور اکاؤنٹس کا معاملہ ہو تو ایسے وزرائے اعظم کو اقتدار سے محروم کرنے کی مثالیں ضرور موجود ہیں۔ مگر ایسے واقعات سے بھی ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ بقول عابد ملک

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہوگا

یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہوگا

جن روبوٹک چوہوں کے بارے میں سردار گبول نے اطلاع دی ہے ان کے بارے امیں یہ نہیں بتایا کہ وہ صرف جاسوسی ہی کے کام کرتے ہیں یا پھر کاٹتے بھی ہیں جیسے کہ پشاور میں ایک بار پھر چوہوں کی بھرمار ہوگئی ہے اور حال ہی میں ایک بزرگ خاتون کو ایسے ہی کسی چوہے نے کاٹ کر اس کے پاؤں کی انگلیاں زخمی کردی ہیں اور اب وہ ہسپتال میں زیرعلاج ہیں، جہاں کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ نہ تو اب ہسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین موجود ہے نہ ہی ان چوہوں سے نمٹنے کیلئے کوئی انجکشن دستیاب ہے۔ اوپر سے ڈاکٹروں کی ہڑتال نے صورتحال مزید گمبھیر بنا دی ہے۔ بہرحال ذکر تو روبوٹک چوہوں کا ہو رہا تھا جس کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف جاسوسی کا کام کرتے ہیں یعنی اردو محاورے کے مطابق ہاتھی کے وہ دانت ہیں جو صرف دکھانے کے ہیں یعنی یہ چوہے کاٹنے کے عمل سے عاری ہیں گویا ان کے کھانے کے دانت ہیں ہی نہیں۔ سردار صاحب کے اس انکشاف کے بعد قومی اسمبلی کے ان ممبران کو اپنی فکر ضرور کرنی چاہئے جو بقول سردار گبول کے عمران خان کو جن پر شک ہے اور ضروری نہیں کہ ایسے ممبران اسمبلی صرف اپوزیشن جماعتوں ہی سے تعلق رکھتے ہوں‘ ان میں وہ بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کا یا تو حکومت کے اتحادی جماعتوں سے تعلق ہو یا پھر خود حکمران جماعت کے بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ جن کے مطالبات پورے نہ ہو رہے ہوں یا انہیں وزارتیں نہ ملی ہوں کدورتیں تو ان کے دلوں میں بھی ہوسکتی ہیں اور اس خوف سے کہ کل کلاں (وقت آنے پر) کہیں وزیراعظم (یو ٹو بروٹس) کہنے پر مجبور ہوجائیں۔ گربہ کشتن روز اول کے مصداق ابھی سے ایسے ’’شکی‘‘ لوگوں پر نظر رکھنا لازمی ہو جاتا ہے کیونکہ ویسے بھی ہمارے ہاں بوقت ضرورت ’’خیمے بدلنے‘‘ کا رواج عام ہے اور سیاست میں تو ایسا ہونا ہر لمحے ممکنات میں سے ہے‘ ایسے ہی صورتحال کے بارے میں تو حفیظ جالندھری نے بہت پہلے کہا تھا

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

چونکہ موجودہ کابینہ کا غالب حصہ بھی اسی شعر کی مکمل تفسیر پیش کرتا ہے اور اس میں شامل غالب اکثریت سابقہ حکومتوں کے بھی کابینہ کا حصہ رہے ہیں اس لئے بلاشک وشبہ ان پر شک کرنا جائز کے زمرے میں آسکتا ہے۔ خیر جانے دیجئے‘ اصل مسئلہ چوہوں کا ہے جو کام تو جاسوسی کے آرہے ہیں مگر جن کے کمروں میں ایسے چوہے پائے جانے کے امکانات ہیں وہ وفاقی وزیر پرویزخٹک سے ’’چوہے مار مہم‘‘ کی کامیابی کا راز ضرور معلوم کریں اور ایسے لوگوں کو تلاش کریں جو پشاور میں 20روپے کے عوض چوہے مارنے میں پیش پیش تھے‘ وہ روبوٹک چوہوں کا شکار آسانی سے کرسکیں گے۔

متعلقہ خبریں