Daily Mashriq

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

آج مئی کے مہینے کی تین تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں صحافت کی آزادی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ مئی1993سے آج تک اس دن کو ایک تواتر کیساتھ منانے کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور اس پر کسی قسم کی پابندی لگانا یا اس پر دباؤ ڈالنا اس کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ صحافت کا لفظ صحیفہ سے مشتق ہے اور صحیفہ کے لغوی اور لفظی معنی کتاب، رسالہ، خط، پتر، الغرض ہر وہ تحریر ہوتی ہے جس کا مقصد پڑھنے یا سننے والوں کو آگاہی دینا یا ان کو باخبر رکھنا ہوتا ہے۔ یہ دنیا جسے ہم کرۂ ارض یا ورلڈگلوب بھی کہتے ہیں، اس کا ایک اور نام صحیفہ کائنات بھی ہے اور اس دنیا کے ہر کونے کھدرے یا قریہ قریہ پر رونما ہونے والے حالات، واقعات وحادثات کے متعلق خبرگیری یا خبررسانی صحیفہ کائنات کا شغل تقدس مآب یا صحافت کا مقدس پیشہ کہلاتا ہے۔ آسمان سے اُتری ہوئی چار کتابوں کو صحائف آسمانی یا مالک کن فیکون کے بھیجے ہوئے صحیفے کہتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کائنات کے ایک ذرے کو بھی اس کے حکم کے بغیر مجال جنبش نہیں پس اس صحیفہ کائنات میں رونما ہونیوالا ہر واقعہ اس کی رضا سے رونماء ہوتا ہے اسلئے ہم ہر روز رونماء ہونے والے واقعہ کی خبر کو رضائے الٰہی اور امر ربی قرار دینے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا تأمل محسوس نہیں کرتے گویا ہر لحظہ ہر آن رونماء ہونے والے واقعات وحادثات کو ہم اگر صحائف آسمانی قرار نہیں دے سکتے تو آسمان کا کیا دھرا ضرور قرار دے سکتے ہیں۔

زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

دنیا میں کوئی واقعہ یا حادثہ ایک دم سے رونماء نہیں ہوتا۔ ستاروں کا علم جاننے والے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ غیب کا علم جاننے والی اگر کوئی ذات ہے تو وہ صرف اور صرف ذات باری تعالیٰ ہے لیکن کچھ پہنچے ہوئے لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں، ریاضتوں، عبادتوں، چلہ کشیوں اور محنت شاقہ سے حاصل کئے گئے علوم کی بنیاد پر آنے والے وقتوں میں رونما ہونے والے حادثات وواقعات کے متعلق پیشن گوئیاں کرکے دنیا والوں کو ورطۂ حیرت میں مبتلاء کرتے رہتے ہیں اور بقول شاعر ثابت کرتے ہیں کہ

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

لکھ دیتا ہے کاتب تقدیر جو وقت کی پیشانی پر وہ ہوکر رہتا ہے جبھی تو رونماء ہونیوالے واقعات وحادثات کی خبرگیری کو صحافت کا پیشہ کہا گیا ہے۔ بات کہتی ہے تو مجھے منہ سے نکال میں تجھے شہر سے نکال باہر کروں گی۔ کسی بات کا یہ تکبر بھرا لب ولہجہ عکس پیش کرتا ہے ان ناعاقبت اندیش لوگوں کی حرکات وسکنات اور طبیعت وتیور کی جو صحافت پر پابندی لگانے اور سچی خبر کو پھیلنے سے روکنے کی حماقت کرتے ہیں صحافی نام ہے صحافت سے منسلک اس صادق وامین فرد کا جو اپنے اردگرد کے حالات وواقعات کو عام لوگوں تک ورقی اور برقی ذرائع ابلاغ کے وساطت سے من وعن پہنچا کر اس قول وقرار کو نبھاتا ہے جس کا حلف وہ اس پیشہ سے منسلک ہوتے وقت اپنے ضمیر کی عدالت میں اُٹھاتا ہے اور وہ جو دیکھتا سنتا یا محسوس کرتا ہے، مخلوق خدا وندی کے آگے

ہم پروش لوح وقلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

کے مصداق پڑھنے یا سننے والوں تک ان کی امانت سمجھ کر پہنچا دیتا ہے، بہت سے صحافی خبر میں سنسنی پیدا کرنے کی غرض سے رونماء ہونیوالے حالات وواقعات پر اپنی جانب سے لون مرچیں لگا کر یا خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جس سے نہ صرف خبر کی خبریت متاثر ہوتی ہے بلکہ اس طرح کی حرکات وسکنات زرد صحافت کو جنم دیتی ہیں، جس میں خبر کے سنسنی خیز پہلوؤں کو یوں اُجاگر کیا جاتا ہے کہ خبر کی اصلیت دب کر رہ جاتی ہے۔ ہمیں آمرانہ دور حکومت کے وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب اخبارات میں حکومت کی مرضی اور منشاء کے بغیر خبروں کی اشاعت پر پابندی تھی جسکے زیراثر پریس سے شائع ہوکر اخبارات کے بیشتر کالم خالی ہوتے تھے جو اپنی خاموشیوں کی زبان میں پکار پکار کر صحافت کی آزادی کیخلاف احتجاج کرتے دکھائی دیتے۔ انسان حیوان ناطق ہے، صحافت کی آزادی چھیننے والے ان سے قرطاس وقلم چھیننے کی لاکھ کوشش کرلیں۔ ان کو قید وبند کی صعوبتوں میں جکڑیں، ان کا خون ناحق سچ کہنے کی پاداش میں لاکھ بہاتے رہیں، بقول ساحر لدھیانوی

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

کے مصداق ظلم، جبر واستبداد مٹ جاتا ہے اور خون ناحق پکار پکار کر کہتا رہتا ہے کہ

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں

یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

آپ ایک سچے اور کھرے صحافی کو نہ خرید سکتے ہیں، نہ دبا سکتے ہیں کیونکہ نہ وہ بکتا ہے اور نہ ہی دبتا ہے، وہ جانتا ہے کہ سانچ کو آنچ نہیں ہوتی، اور سچ کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے کیونکہ اس کے اندر کا سچ، لاوا بن کر نوک قلم پر آتا ہے اور اسے یہ کہنے پر مائل کرتا ہے کہ

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

جس کے جواب میں آزادیٔ صحافت کے علم بردار بڑے سچے اور کھرے انداز سے پکار اٹھتے ہیں کہ

لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

متعلقہ خبریں