Daily Mashriq

مقتول صحافیوں کے اہلِ خانہ آج بھی انصاف کے منتظر

مقتول صحافیوں کے اہلِ خانہ آج بھی انصاف کے منتظر

مرتضیٰ خان ٹی وی چیننلز بدل رہے تھے کہ ان کی نظر خبر کی پٹی پر پڑی جس میں لکھا تھا کہ ’نامعلوم افراد نے کار پر فائرنگ کردی‘، ملزمان نے نجی نیوز چیننل کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

انہیں یہ سمجھنے میں چند لمحے لگے کہ اصل میں وہ اپنے ہی بھائی ولی بابر خان کے قتل کی لائیو اپڈیٹ دیکھ رہے ہیں۔

جنوری 2011 کے اس دن کے بارے میں مرتضیٰ کہتے ہیں کہ 29 سالہ ولی بابر خان اپنے کام سے گھر واپس آرہے تھے، اس سے قبل وہ کراچی کے علاقے پہلوان گوٹھ کے قریب منشیات فروشوں کے خلاف ہونے والے ایک آپریشن کی کوریج کررہے تھے۔

مرتضیٰ نے بتایا کہ ’ولی اپنی دھن کا پکا صحافی تھا، وہ ہمیشہ لوگوں، خصوصاً مطلوں کے حوالے سے متجسس رہتا تھا، وہ ان کی کہانیاں سامنے لانے میں مدد کرنا چاہتا تھا‘۔

ولی بابر کے 7 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے بھائی مرتضیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ان کا بھائی میڈیکل یا انجینئرنگ کے شعبے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا بلکہ اپنی الگ سمت متعین کرنا چاہتا تھا، ’اس نے مجھے کہا کہ اس کے بارے میں پریشان نہیں ہوں اس کے پاس ایک منصوبہ ہے‘۔

اصل میں وہ میڈیا میں دلچسپی رکھتا تھا جس بنا پر اس نے جیو میں جاب شروع کی، وہ اس وقت بہت پرجوش تھا جب اسکی پہلی خبر ٹی وی پر چلی تھی۔

صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک، پاکستان میں سال 2002 سے اب تک 72 سے زائد صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے اور ولی خان بابر کا کیس اسلیے مختلف تھا کہ اس میں کسی پاکستانی صحافی کے قتل کے مقدمے میں سزا ہوئی اس سے قبل ایسا صرف ڈینیئل پرل کیس میں ہوا تھا۔

حل طلب کیسز

ان 72 صحافیوں کی فہرست میں 48 ایسے صحافی شامل ہیں جنہیں جان بوجھ کر نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، مثلاً روزنامہ اوصاف کے حیات اللہ خان کی لاش 2006 میں شمالی وزیرستان کے علاقے میراولی کے قریب اس گاؤں سے ملی جہاں سے انہیں ایک سال قبل اغوا کیا گیا تھا۔

حیات اللہ کو سر میں گولی مار کے قتل کیا گیا تھا، اس سے قبل انہوں نے رپورٹ دی تھی کہ امریکی میزائل حملے میں القاعدہ کا ایک کمانڈر مارا گیا، جو حکومتی موقف کے برعکس تھا۔

جس پر سپریم کورٹ نے واقعے کا نوٹس لے کر انکوائری کا حکم دیا تھا لیکن آج تک کچھ نہ ہوسکا۔

2014 میں بلوچستان میں اے آر وائے گروپ سے تعلق رکھنے والے اسائنمنٹ ایڈیٹر ارشاد مستوئی کو ایک رپورٹر اور اکاؤنٹنٹ کے ساتھ نامعلوم افراد نے نیوز روم میں گھات لگا کر قتل کیا۔

واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والوں کا دعویٰ سامنے آیا کہ ملزم ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی رپورٹ ’اسٹیٹ آف پاکستانی میڈیا ان 2018‘ کے مطابق روزنامہ تیور کے نائب مدیر جاوید نصیر کے کیس سمیت 5 کیسز کے علاوہ زیادہ تر قتل کی وارداتیں اب تک حل طلب ہیں اور ان کے قاتل آزاد۔

اس رپورٹ میں میڈیا کے خلاف جرائم کی مثالیں دی گئی ہیں جس میں صحافیوں کی ہلاکتیں، قتل، اغوا، بدسلوکی، قید اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، عسکریت پسندوں، وڈیروں اور قبائلی عمائدین کی جانب سے دھمکانہ شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ٹی وی چیننلز، اخبارات، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر پابندی، ریاستی اور غیر ریاستی اداروں کی جانب سے میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں پر دباؤ ڈالنا اور دھمکانہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ہر آنے والی حکومت صحافیوں کے قتل کی تحقیقات میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہے۔

ہولناک کیس

8 سال قبل مئی 2011 میں سلیم شہزاد کی لاش اسلام آباد سے تقریباً 150 کلومیٹر دور ایک نہر سے برآمد ہوئی جہاں سے انہیں نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا، رپورٹس کے مطابق ان کی لاش پر تشدد سے سوراخوں کے نشان تھے، ان کی موت ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک بڑا دھچکہ تھی۔

ان کی بیٹی کا کہنا تھا کہ ’ہم کچھ عرصہ تک اس بات کو قبول ہی نہیں کرسکے کیوں کہ وہ افغانستان کے پیچیدہ حالات سے گزر کر واپس آگئے تھے، ہمیں امید تھی کہ وہ دوبارہ واپس آجائیں گے‘۔

خیال رہے کہ سلیم شہزاد ایشیا ٹائمز آن لائن اور اندکرونوز انٹرنیشنل کے لیے کام کررہے تھے اور ایک ماہ قبل ہی انہوں نے کراچی کی مہران بیس پر ہونے والے حملے کے بارے میں رپورٹ دی تھی۔

ان کی بیوہ نے بتایا کہ ’بچوں کو علم تھا کہ جب سلیم کام کررہے ہوں تو وہ ان کے پاس نہیں جاسکتے، وہ مجھے کہتے تھے کہ بچوں کو سلادو تا کہ وہ اپنے کام پر توجہ دے سکیں یا پھر وہ گھر میں بنائے اپنے آفس میں جا کر لکھتے تھے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سلیم کو اپنے کام کی بہت لگن تھی، جب ہماری ملاقات ہوئی اس وقت بھی وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ملائیشیئن قونصلیٹ کے لیے کام کرتے تھے، وہ ایک رحم دل انسان تھے‘۔

پی ایف ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے یورپی یونین کے انسانی حقوق پروگرام سے تعلق رکھنے والے علی دیان حسن نے کہا تھا کہ سلیم شہزاد نے انہیں چند روز قبل آگاہ کیا تھا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دیا تھا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوسکا۔

رپورٹ کے مطابق اس سے قبل بھی صحافیوں کے قتل کی تحقیقات بھی منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں اسلیے یہ واضح نہیں کہ اس تحقیقات کا معاملہ کسی بھی طرح مختلف ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کیس کے تفتیشی افسر نے بتایا تھا کہ عدم شواہد کی بنا پر اس کیس کو فی الوقت بند کردیا گیا ہے۔

گمشدہ کڑیاں

ایک دہائی قبل شمشاد ٹی وی کے بیورو چیف اور بی بی سی کے رپورٹر جان اللہ ہاشمزادہ پر ہونے والی فائرنگ کا معاملہ بھی ہنوز حل طلب ہے، وہ ایک منی بس میں سوار تھے جسے روک کر انہیں نقاب پوش حملہ آوروں نے 6 گولیاں ماریں۔

ڈینئل پرل کے برعکس جن کا کیس حل کرلیا گیا تھا، ہاشمزادہ کے قتل کا نہ تو عدالت میں مقدمہ ہوا نہ ہی اس سلسلے میں کوئی تحقیقات ہوئیں۔

پی ایف ایف کے مطابق ان 48 کیسز کو اگر صوبوں کے لحاط سے تقسیم کیا جائے تو زیادہ تر صحافیوں کو تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے رپورٹنگ پر نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں ایسے بھی کئی کیسز کا تذکرہ ہیں جن میں کوئی بھی گرفتاری نہ ہونے کے سبب یا عدم شواہد کی بنا پر انہیں بند کردیا گیا، ایک سے زائد کیسز ایسے ہیں جس میں کوئی ملزمان مفور ہیں اور کوئی پیشرفت نہ ہوسکی جبکہ کم از کم 3 مقدمات میں ملزمان کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر قتل میں نامعلوم ملزمان ملوث ہیں جبکہ 3 صحافیوں کے قتل کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی، ایک کی جونیجو قبیلے اور 2 کی ذمہ داری آئی ای ڈی نے قبول کی۔

اس طرح اب تک کل 5 مقدمات مکمل حل ہوسکے ہیں، 4 عدالت میں زیرالتوا ہیں اور 24 سے زائد وارداتوں میں کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔

جسمانی تشدد یا اغوا

اپنی رپورٹ میں پی ایف ایف کا کہنا تھا کہ اس نے 2018 میں 6 صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کیں تاہم وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کیسز میں بنیادی محرک ذاتی، کاروباری یا کام کے حوالے سے دشمنی تھا۔

پاکستانی صحافیوں کے لیے جسمانی بدسلوکی ایک بڑا خطرناک مسئلہ ہے، تحقیق کے مطابق جسمانی بدسلوکی کے کم از کم 22 واقعات ہیں جبکہ 5 صحافی زخمی اور 25 کو ان کی صٓحافتی ذمہ داریوں سے روکنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اسی طرح صحافیوں کا اغوا بھی ایک عام طریقہ کار ہے تا کہ میڈیا کو حساس معاملات پر اظہارِ خیال سے روکا جاسکے، پی ایف ایف نے اغوا اور اغوا کی کوششوں کے 3 کیسز رقم کیے جس میں دی نیشن کی کالم نگار گل بخاری، فرانس 24، نیویارک ٹائمز اور دی گارجیئن کے رپورٹر طحٰہ صدیقی اور ایکسپریس نیوز کے نمائندے اور کوہلو پریس کلب کے صدر زیبدار مری شامل ہیں۔

میڈیا کی حالیہ صورتحال اور حل طلب کیسز کے حوالے سے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ افضل بٹ کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند سالوں نے غیر اعلانیہ اور غیر سرکاری سینسر شپ نافذ ہے، جس سے بعض اوقات ملک میں آمرانہ دور کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پہلے ہم آواز اٹھا سکتے تھے لیکن اب ایسا کرنا ممکن نہیں، تنخواہوں میںکٹوتیوں اور جبری برطرفیوں نے معاملات خراب کردیے ہیں، پاکستان میں صحافیوں کی نوکری اور جان کے تحفظ کی ضمانت نہیں‘۔

دفاتر بند

صحافیوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے پریس کلبز کو بھی خاموش رہنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے مثال کے طور پر خضدار میں پریس کلب کے صدر محمد خان ساسولی کو 2010 میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

جس کے 4 سال بعد کلب سے منسلک صحافیوں کو دھمکیاں موصول ہونے کے بعد پریس کلب کو ہی بند کردیا گیا تھا، اسی طرح 2017 میں خاران، چاغی، قلات اور دیگر پریس کلبس بھی عہدیداروں اور صحافیوں کو دھمکیاں ملنے کے بعد بند کرنے پر مجبور کردیے گئے تھے۔

گزشتہ برس نومبر میں کراچی پریس کلب کے احاطے میں مسلح اہلکار داخل ہوگئے تھے اور یہ کلب کی 60 سالہ تاریخ میں پہلا واقعہ تھا، کے پی سی انتظامیہ نے اسے ریاستی اور غیر ریاستی اداروں کی جانب سے آزادی صحافت کو محدود کرنے کے سلسلے کی کڑی قرار دیا۔

بعدازاں 13 نومبر کو دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیشِ نظر مقامی انتظامیہ کے حکم پر باجوڑ پریس کلب کو بند کردیا گیا تھا اس حوالے سے پریس کلب صدر نے بتایا تھا کہ اعلیٰ افسران نے انہیں خطرے سے آگاہ کیا تھا جس کی وجہ سے اراکین کو 10 دن کے لیے پریس کلب بند کرنا پڑا۔

دوسری جانب صحافیوں کی رہائش گاہوں پر حملہ بھی دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہے کیوں اس طرح وہ اپنے اہلِ خانہ کے حوالے سے محتاط ہوجاتے ہیں، جس طرح 2018 میں شہید بے نظیر آباد کے علاقے میں چیننل 24 کے رپورٹ منظور بوگھیو کے گھر پر حملہ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں