Daily Mashriq

امریکی افواج میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے 21 ہزار واقعات کا انکشاف

امریکی افواج میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے 21 ہزار واقعات کا انکشاف

امریکا کی بری، بحری، فضائیہ اور مرین فورسز میں سال 2018 کے دوران خواتین اہلکاروں کے ساتھ ’زبردستی ناجائز جنسی تعلقات‘ قائم کرنے کے 20 ہزار 500 واقعات پیش آنے پر قائم مقام سیکریٹری دفاع نے فوج میں جنسی ہراساں کو ’جرم‘ قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق حالیہ سروے میں انکشاف ہوا کہ ’گزشتہ برس امریکی مسلح افواج میں خاتون ساتھی کے ساتھ ’عدم رضامند پر مبنی جنسی تعلق‘ قائم کرنے کے 20 ہزار 500 واقعات پیش آئے جبکہ سال 2016 میں ایسے واقعات کی تعداد 14 ہزار 900 ریکارڈ کی گئی تھی۔

رپورٹ تیار کرنے والے محققین نے بتایا کہ ’85 فیصد سے زائد واقعات میں متاثرہ فوجی خواتین کو اپنے حملہ آوار کے بارے میں معلوم تھا اور بیشتر حملہ آوار ان کے سینئر افسران تھے‘۔

رپورٹ کے مطابق امریکی مسلح افواج کا حصہ بننے والی 17 سے 24 برس کی خواتین ہلکار اپنے ہی ساتھی فوجیوں کے ہاتھوں جنسی ہراساں ہوئی۔

سروے رپورٹ میں ایک تھائی جنسی ہراساں کے واقعات میں شراب نوشی بڑا سبب قرار دیا گیا۔

محققین نے یقین سے کہا کہ سروے پر 95 فیصد اعتماد ہے تاہم سروے میں ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو شامل کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’جنسی ہراساں کے 3 واقعات میں سے صرف ایک ہی فوج کے متعلقہ حکام کے پاس رپورٹ ہوئے‘۔

اس ضمن میں پینٹاگون نے کہا ’2006 میں صرف 14 خواتین نے جنسی ہراساں کیے جانے کی رپورٹ کرائی‘۔

قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹر شینناہن نے رپورٹ کے پیش کردہ اعداد وشمار پر کہا کہ’جنسی ہراساں غیرقانونی اور غیراخلاقی ہے اور امریکی فوج کے مشن سے مطابقت نہیں رکھتا اور ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں‘۔

متعلقہ خبریں