Daily Mashriq


گیس و بجلی کے مسائل اور بقایاجات

گیس و بجلی کے مسائل اور بقایاجات

صوبائی وزیر خزانہ نے صوبہ خیبر پختونخوا کے پن بجلی کے بقایاجات کی عدم ادائیگی پر وفاق سے احتجاج کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف گزشتہ دو سالوں کے پن بجلی منافع اور بقایاجات کی مد میں 51ارب روپے کی رقم وفاق کے ذمہ واجب الادا ہے۔ جن میں 15ارب روپے اور گزشتہ سال کے سالانہ منافع کے 8ارب جبکہ رواں سال کے منافع کے 18ارب روپے شامل ہیں جن میں ایک پائی تک کی ادائیگی نہیں ہوئی۔ دوسری جانب قدرتی گیس میں کمی کے حوالے سے بھی تواتر کے ساتھ خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ موسم سرما کے شروع ہوتے ہی صوبائی دارالحکومت پشاور میں گیس پریشر میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے حالانکہ ایک قومی اخبار کے ساتھ خصوصی ملاقات میں جنرل منیجر سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ پشاور ریجن نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا قدرتی گیس کی پیداوار میں ملک کا خود کفیل صوبہ بن چکا ہے۔صوبائی دارالحکومت پشاور میں گیس کے حوالے سے مزید بہتری لانے کے لئے خصوصی پروگرام کے تحت کرک سے ایک الگ ٹرانسمیشن لائن لائی جا رہی ہے جو رواں مالی سال کے د وران مکمل ہو جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پن بجلی اور گیس کے حوالے سے صوبہ خیبر پختونخوا نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ یہ صوبہ اب بھی پن بجلی کی مد میں اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح گیس کے وسیع ذخائر بھی صوبے کی اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ ہیں مگر بد قسمتی سے نہ تو صوبے کو اس کے حصے کی پوری بجلی قومی گرڈ سے مہیا کی جاتی ہے‘ نہ ہی اب تک اپنی گیس پر صوبے کو اختیار حاصل ہے اور اگرچہ آئین کے تقاضوں کے مطابق صوبے کی پیداوار میں سے اپنے صوبے کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنا لازمی ہے مگر اس کلیئے پر آج تک عمل کرکے آئینی تقاضے پورے کرنے کی ضرورت کا احساس ہی نہیں کیاگیا بلکہ جس طرح آئین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبے کے حق کو تسلیم کرنے کی خوبو نہیں پالی جا رہی ہے اسی طرح پن بجلی کے بقایاجات کی ادائیگی میں بھی ایک خاص روئیے کا مظاہرہ کرتے ہوئے منفی رجحان سامنے آرہا ہے۔ پن بجلی کے خالص منافع کے لئے صوبے نے ایک طویل جنگ لڑ کر بالآخر اے جی این قاضی کمیشن کے فیصلوں کی روشنی میں ایک خاص فارمولا طے کرایا تھا جس کے بعد بھی واپڈا نے اسے عدالتوں میں چیلنج کیا مگر صوبہ یہ تمام مقدمے بھی جیت چکا ہے او ر بالآخر صدر مملکت کی ضمانت کے ساتھ معاہدہ طے پایا جس کے تحت اگر صحیح طور پر دیکھا جائے تو صوبے کے پن بجلی کے منافع کی رقم اس وقت موجودہ ادا کی جانے والی رقم سے کئی گنا زیادہ بنتی ہے۔ مگر نہ تو واپڈا حکام اس رقم کی ادائیگی کے لئے تیار رہتے ہیں نہ ہی وفاقی حکومت اس حوالے سے صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہونے والے معاہدے کی پاسداری پر واپڈا کو آمادہ کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتی ہے اور صوبے کو اپنے جاری اخراجات پورے کرنے کے لئے بار بار وفاق سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ کئی برس سے صوبے کی مختلف حکومتیں کوششیں کرتی آرہی ہیں مگر نہ تو وفاق اور نہ ہی واپڈا حکام اس پر کوئی توجہ دے رہے ہیں۔ سابقہ صوبائی حکومتیں بھی اپنے اپنے انداز میں اس روئیے پر احتجاج کا ڈول ڈال چکی ہیں جس میں ان ادوار کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی بھرپور ساتھ دیا مگر نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات۔ اب ایک بار پھر تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی موجودہ حکومت نے بھی ایک بار پھر اس معاملے پر پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے احتجاج کا عندیہ دے دیا ہے جبکہ معاملہ صرف پن بجلی کے خالص منافع کا نہیں ہے بلکہ ساتھ ہی این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وفاق کی غیر سنجیدگی ہے۔ خاص طور پر جبکہ نئی مردم شماری کے ابتدائی نتائج بھی سامنے آچکے ہیں اور ان میں صوبوں کی آبادی میں رد و بدل بھی سامنے آچکی ہے اور باوجود یکہ ان نتائج پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے تاہم اس کے باوجود صوبہ خیبر پختونخوا کے حصے میں اضافہ کیا جانا ہے مگر وفاقی حکومت مسلسل ٹال مٹول سے کام لے کر معاملے کو طول دینا چاہتی ہے جو بذات خود آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس لئے وفاقی حکومت اس معاملے کو مزید التواء میں ڈال کر صوبوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھنے کی پالیسی اختیار کرنے سے اجتناب کرے تاکہ صوبوں میں محرومیوں میں اضافہ ہونے کی راہ روکی جاسکے۔ اسی طرح قدرتی گیس میں تعطل نہ ہونے کے جو دعوے کئے جا رہے ہیں زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ صوبے کے دیگر علاقوں کو رکھیئے ایک طرف صوبائی دارالحکومت پشاور میں اگر سردی کے موسم میں شدید گیس لوڈشیڈنگ کی صورتحال سامنے آتی رہتی ہے تو دیہات اور دور دراز علاقوں کا تو ذکر ہی لاحاصل ہے۔ اس لئے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کے ذمہ دار جس قسم کے دعوے کر رہے ہیں اور زمینی حقائق کو جھٹلانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر ان کی بجائے وہ صورتحال کو جلد از جلد بہتر بنانے پر توجہ دیں تو اس سے عوام کی شکایات بھی دور ہوسکیں گی اور محکمے کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں