نئے ایٹمی بجلی گھروں کا قیام

نئے ایٹمی بجلی گھروں کا قیام

ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پانے کیلئے پاکستان نے متعدد نئے ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ، ابو ظہبی میں نیو کلیئر کانفرنس کے موقع پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ نے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے رائیٹر ز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2030ء تک ایٹمی توانائی کی گنجائش 8ہزار 800میگا واٹ تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کیلئے مزیدتین سے چار بڑے ایٹمی ری ایکٹر ز بنائیں جائیں گے ، امر واقعہ یہ ہے کہ ملک میں بجلی کی ضروریات پہلے ہی زیادہ ہیں جبکہ طلب میں آبادی بڑھنے کی وجہ سے مستقبل میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا ، تاہم بد قسمتی سے منصوبہ ساز مسئلے کی اصل اہمیت کو مسلسل نظر انداز کر کے ان قدرتی وسائل سے صرف نظر کرتے ہوئے ، جن کی بدولت انتہائی سستی ترین بجلی حاصل کی جا سکتی ہے یعنی پانی کے ان منابع سے جو ملک کے شمالی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں موجود ہیں ، نسبتاً مہنگی بجلی کے حصول کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان میں ایک جانب ایٹمی بجلی گھر ہیں ، تو دوسری جانب کوئلے اور ایل این جی ، فرنس آئل وغیرہ سے مہنگی بجلی بنانے کے علاوہ اب ہوا سے چلنے والی چکیوں کو بروئے کار لانے کی حکمت عملی پر کام کیا جارہا ہے ، جن کے بارے میں یہ افواہیں عام ہیں کہ پانی کے ذخائر پر صرف ٹربائن لگانے کے بعد ان میں سے ’’کمیشن اور کک بیکس ‘‘ کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں جبکہ دیگر ذرائع سے مستقل ’’آمدنی اور کمیشن خوری ‘‘ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ، حالانکہ اس طرح سے مہنگی بجلی عوام کو خریدنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور یہی کارن ہے کہ منصوبہ سازوں کی ترجیح میں ملک کے قدرتی وسائل یعنی پانی کے چھوٹے بڑے ذخائر کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ ایٹمی ری ایکٹرز کے قیام کی خبریں خوش آئند ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اگر ملک میں پانی کے ذخائز کو درست طور پر بروئے کار لایا جائے تو تدریسی طور پر ہم ان منصوبوں سے وقت کے ساتھ ساتھ کنارہ کشی کرتے ہوئے پن بجلی کے سستے اور ماحول دوست منصوبوں کی جانب آگے بڑھ کر ملکی وسائل پر انحصار کو یقینی بنا سکتے ہیں ، جو نہ صرف ملکی ضروریات کے مطابق بجلی ملکی صارفین کو مہیا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ ماہرین کے دعوئوں کے مطابق اضافی بجلی ہمسایہ ملکوںپر فروخت کر کے قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں ، تاہم اس قسم کی سوچ کیلئے خلوص نیت اور ملک و قوم سے غیر مشروط محبت اولین شرط ہے ۔
اقلیتوں کیلئے قبرستان
صوبائی حکومت نے صوبے میں موجود اقلیتی برادری کے قبرستانوں کی حالت زار بہتر بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ اوقاف کو ایک ہفتے کے اندر منصوبہ تیا رکرنے اور اسے دوماہ میں مکمل کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ تقسیم کے بعد پشاور میں پنج تیرتھ کے مقام پر موجود شمشان گھاٹ پر عدم توجہی کی وجہ سے ہندوں کو اپنے مردوں کو جلانے میں دقت کا سامنا کرنے کی وجہ سے ہندوئوں ، بالمیکی اور دیگر متعلقہ کمیونٹی کے افراد کو مجبوراً اپنے مردوں کو دفنانے کا رواج پڑ گیا ، حالانکہ اصولی طور پر جو اقلیتی کمیونٹی اپنے مردے شمشان گھاٹ میں جلانے کا فریضہ ادا کرتے تھے انہیں ان کی مذہبی ضرورت کے مطابق متبادل شمشان گھاٹ کے قیام کی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں تھیں مگر بوجوہ ایسا نہ ہو سکا ۔ تاہم عیسائی برادری کو گورا قبرستان میں ضرورت کے مطابق آسانیاں بہم پہنچانی چاہئیں تھیں۔بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اگر صوبائی حکومت نے اس جانب توجہ دے دی ہے تو اس پر اظہار اطمیان کیا جانا چاہیئے ، تاہم اگر ہندوکمیونٹی کی خواہش ہو تو ان کیلئے شمشان گھاٹ بنانے میں بھی کوئی حرج نہیں اس طرح ان کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں بھی آسانی ہوگی اور الگ قبرستان بنانے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی ۔ بہرحال یہ متعلقہ کمیونٹی کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے اور ان کو جس طرح اطمینان ہو ویسا ہی قدم اٹھانا چاہیئے ، البتہ اس موقع پر ہم صوبائی حکومت کی توجہ رحمن بابا قبرستان کی جانب دلانا ضروری سمجھتے ہیں جو انگریز وں کے دور سے ہی وقف ہے لیکن اس کی بیشتر قبروں کو مسمار کرتے ہوئے قبضہ مافیا نے وہاں غیر قانونی طور پر تعمیرات شروع کر رکھی ہیں۔ تقریباً آدھی سے زیادہ زمینوں پر (قبریں مسمار کر کے ) قبضہ جمایا جا چکا ہے اور اب شہر کے لوگوں کو اپنے مردے دفنانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ صوبائی حکومت نے چند ماہ پیشتر ایک متبادل قبرستان کا منصوبہ بنایا تھا لیکن نہ تو ابھی تک اس پر عمل در آمد کی کوئی خبر ہے نہ ہی ہزارخوانی کے علاقے میں قائم رحمن با با قبرستان سے قبضہ مافیا کو نکال باہر کرنے اور وہاں پر ناجائز تعمیرات کو ختم کر کے قبرستان کی بحالی پر توجہ دی جا سکی ہے ، اقلیتوں کیلئے قبرستانوں میں سہولیات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ اگر مسلمانوں کے قبرستان کو بھی قبضہ مافیا سے واگزار کرانے میں صوبائی حکومت دلچسپی لے تو اس پر پشاور کے شہری بھی اطمینان کا اظہار کر سکیں گے ۔

متعلقہ خبریں