Daily Mashriq

افغان مسئلہ کا علاقائی حل

افغان مسئلہ کا علاقائی حل

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بارے میں سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکہ پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے مفادات کو ترجیح دے گا اور یہ کہ امریکہ کو بتا دیا گیا ہے کہ خالی الزامات عائد نہ کریں۔پاکستان میں امریکی انٹیلی جنس کے اہل کاروں کی موجودگی انہونی بات نہیں ہے۔ ایک تو امریکہ کے بارے میں ساری دنیا میں یہ مشہور ہے کہ اس کی خفیہ کار ایجنسیاں دنیا بھر کے ممالک میں کام کرتی ہیں ، دوسرے چند سال پہلے یہ خبر عام تھی کہ پاکستان نے امریکی ایجنٹوں کے بڑی تعداد میں پاکستان میں آنے کے لیے قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے ویزے دیے تھے۔ اس بات کو آج تک جھٹلایا نہیں گیا۔ تو اس صورت میں پاکستان کا امریکہ سے مطالبہ کہ وہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے پاکستان کے اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان میں اب دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں۔ اس کے باوجود ریکس ٹلرسن کا اصرار ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے امریکی سینیٹ کی بیرونی تعلقات کی کمیٹی میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے اس موقف کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی نشاندہی پر پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گا تاہم اس بات پر یقین کرنے کی بجائے انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو ایک موقع اور دینے پر آمادہ ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائے۔ اگر امریکہ کے پاس پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی کوئی انٹیلی جنس ہوتی تو وہ اپنے مؤقف کی سچائی ثابت کرنے کے لیے اب تک پاکستان کو یہ انٹیلی جنس فراہم کر چکا ہوتا جس طرح امریکی کینیڈین جوڑے کے بارے میں امریکہ نے انٹیلی جنس فراہم کی اور پاکستان کے فوجی اداروں نے اس جوڑے کو صحیح سلامت بازیاب کرا لیا۔ اس صورت حال میں یہ دھمکی آمیز رویہ کہ پاکستان کو ایک موقع دیا جا رہا ہے پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کا حربہ ہے ۔ دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے دشمن ہیں انہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا اور یہ مؤقف آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کی صورت میں عملی طور پر واضح ہے۔ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے بارے میں پچھلے دنوں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ یہ افغانستان میں خونریزی کا پیغام ہے۔ آج ساری دنیا پر یہ واضح ہے کہ زور زبردستی کے ذریعے کسی ملک پر قبضہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے باوجود امریکہ کا افغانستان میں سولہ سال سے فوجی موجودگی پر انحصار اور اس میں اضافہ کا مقصد یہی شمار کیا جا سکتا ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام قائم رکھنا ہی امریکہ کا مقصد ہے۔ اس کے لیے اس نے نئے اتحادی بھارت کو بھی شامل کیا ہے جس کی نظر افغانستان کے قیمتی معدنی وسائل پر ہے۔ بھارت افغانستان کے خام لوہے کے بارے میں معاہدے بھی کر چکا ہے۔ افغانستان کا انحصار پاکستان کی بندرگاہوں پر ختم کرنے کے لیے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں اور افغانستان سے چاہ بہار تک جانے والے راستے پر بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ امریکہ اور بھارت دونوں کے لیے افغانستان میں ایسی حکومت موزوں ہے جو اندرونی خلفشار کا شکار ہو۔ اور اس وجہ سے بیرونی تعلقات میں آزادانہ قومی مؤقف نہ اپنا سکے بلکہ اپنے سرپرستوں کی مرہون منت ہو۔ اس لیے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے کہ پاکستان کے قریبی ہمسائیوں کے ساتھ (جن سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں) تعلقات خوشگوار نہیں ہیں‘ پاکستان کے صرف ایک ہمسائے چین سے نہایت اچھے تعلقات ہیں اس لیے پاکستان تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ لیکن اس صورت حال کی بنیادی وجہ افغانستان کا عدم استحکام ہے جو امریکہ افغانستان کے قیمتی معدنی وسائل کی وجہ سے اور سٹریٹجک مقاصد کے لیے بھارت کو استعمال کرنے کے ذریعے قائم رکھنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام کا مطلب افغانوں کے لیے مستقل خونریزی ہے۔افغانستان میں عدم استحکام اس کے قریبی ہمسائیوں پاکستان ‘ ایران اور چین کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ ایران میں اگرچہ دہشت گردی اس پیمانے پر سامنے نہیں آئی جس پیمانے پر پاکستان اور چین کو اس کا تجربہ ہے تاہم ایران چاہ بہار بندرگاہ کی فعالیت کے بدلے دہشت گردی کے فروغ کا خطرہ مول نہیں لے سکتا اور ایران پر یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ محض افغانستان کا مسئلہ نہیں بلکہ سارے علاقے کا اہم مسئلہ ہے ۔ اس حوالے سے اگرچہ امریکہ سمیت چار فریقی پہل قدمی بھی ہو چکی ہے تاہم افغانستان کے قریبی ہمسائیوں کے لیے افغانستان کا امن نہایت ضروری ہے۔ امریکہ کے افغانستان میں جو بھی اہداف اور مقاصد ہوں پاکستان ‘ ایران اور چین کے لیے افغان مسئلہ کا افغان حل نہایت ضروری ہے کیونکہ افغانستان میں عدم استحکام ان تینوں ممالک میں سیکورٹی خدشات کا حامل ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اہم پیش رفت گزشتہ روز پاکستان اور ایران کے خارجہ دفاتر کے ڈائریکٹرز جنرل کی ملاقات میں ہوئی ہے۔ جس کے حوصلہ افزا نتائج کے باعث کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایران کا دورہ کرنے والے ہیں ۔ سولہ سال سے عدم استحکام کے شکار افغانستان میں عدم استحکام تادیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدم استحکام سے سب سے بڑا نقصان پرامن اور غیر متحارب افغان آبادی کا ہو رہا ہے جن کی معیشت تباہ حال ہے۔ بین الافغان مذاکرات کب ہو سکیں گے اس کا انتظار کیے بغیر افغان عوام ہی اس بحران کو ختم کرنے میں جلد اہم کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوں گے۔افغانستان میں عدم استحکام کی موجودہ صورت حال میں پاکستان کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے پاک افغان سرحد پر باڑھ بندی تیزی سے مکمل کی جائے اور افغان مہاجرین کی واپسی جلد یقینی بنائی جائے جس پر ایران بھی متفق ہے۔

اداریہ