انصاف انصاف اور انصاف

انصاف انصاف اور انصاف

ہمار ا معاشرہ انتشار اور بے چینی کا شکار ہے۔ لگتا ہے جیسے سکون و اطمینان ہم سے روٹھ چکے ہیں قتل و غارت گری کی وارداتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ لوگ معاشی طور پر بھی پریشان ہیںبجلی کا بل آتاہے تو دل کی دھڑ کنیں بے ترتیب ہوجاتی ہیں یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ نا معلوم کتنے فالتو یونٹس ہمارے بل میں ڈالے گئے ہوں گے اور پھر نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ادویات خریدتے وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں جعلی دوائیاں تو نہیں بیچی جارہی ہیں۔ دفاتر میں جائز کاموں کے لیے بھی اہل کاروں کی مٹھی گرم کرنی پڑتی ہے ۔کسی ناجائز کام کے لیے پیسے دیے جائیں تو اسے رشوت کہا جاتا ہے لیکن جائز کام کے لیے جو پیسے دیے جاتے ہیں تو اسے کیا نام دیا جائے جب لوگوں کو اپنے جائز کاموں کے لیے بھی رشوت دینی پڑے اور ان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کا تدارک نہ کیا جائے کوئی پرسان حال نہ ہو تو پھر لوگ مایوس ہوجاتے ہیں۔ عدم تحفظ کا احساس انہیں مار ڈالتا ہے۔ معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے اکثر خیال آتا ہے کہ اگر کوئی قوم انصاف سے محروم ہے تو وہ آزاد ہونے کا دعویٰ کیسے کرسکتی ہے؟ یوں کہہ لیجیے کہ انصاف سے محروم معاشرہ ترقی کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا کیونکہ معاشرے کی فلاح و بہبود میں انصاف کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ انصاف اور آزادی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ جب کوئی معاشرہ انصاف سے محروم ہوجاتا ہے تو وہاں بے چینی اور بے برکتی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ عدم اعتماد کی فضا قائم ہو جاتی ہے نفرتیں بڑھ جاتی ہیں لوگ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے معاشرتی نظام درہم برہم ہو جا تا ہے اور پھر چاروں طرف نفرت لا قا نو نیت پھیل جاتی ہے جس سے حکومت کمزور پڑ جاتی ہے۔ ایسی حکومت جب عوام کا تحفظ نہیں کرسکتی انہیں انصاف مہیا نہیں کرسکتی تو پھر عوام حکومت سے دل برداشتہ ہو کر متبادل قوتوں کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ حکومت میں عدلیہ کی مثال ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے جس ملک میں عدلیہ منصفانہ فیصلے کرنے میں آزاد ہوتو اس قوم کی آزادی و خودمختاری کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ۔قوموں کی زندگی میں انصاف کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور آزاد عدلیہ کے بغیر انصاف کے حصول کا تصور بھی محال ہے ۔ قومی ناانصافی یقینی راستہ ہے قومی زوال کا ۔ اگر انصاف تاخیر سے ملے تو وہ انصاف نہیں ہوتا ہمارے یہاں بھی سا لہا سال تک مقدمات چلتے رہتے ہیں اور لوگ انصاف کے حصول کا انتظار کرتے کرتے قبروں میں پہنچ جاتے ہیں لیکن انہیں انصاف نہیں ملتافوجداری مقدمات نبٹانے میں برسہا برس لگ جاتے ہیں۔ فریقین کے درمیان دشمنیاں پروان چڑھتی رہتی ہیں۔ گھر اجڑتے رہتے ہیں اور قبرستان آباد ہوتے رہتے ہیں۔ درحقیقت انصاف کی حکمرانی قائم کرنا اسلامی ریاست کی سب سے پہلی ذمہ داری ہے اور حقیقی انصاف وہ ہوتا ہے جس کی بنیاد سچ پر استوار ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر کوئی بھی فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ پاکستان کا استحکام صاف شفاف عدلیہ پر منحصر ہے جس میں عام آدمی کو سستا انصاف گھرکی دہلیز پر میسر ہو۔جب سستے انصاف کا حصول عام آدمی کے لیے خواب بن جائے تو پھر معاشرہ توڑ پھوڑ کا شکار ہوجاتا ہے عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے لیکن ہمارے ہاں جاری جنگ میں تو کشتوں کے پشتے لگ گئے تحمل ، برد باری، صبر و برداشت کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ شاہر ا ہو ں پر خون بہہ رہا ہے جب یہ صورتحال ہو تو قوم انتشا ر کا شکار ہوجاتی ہے آپ اسے بہت سارے لوگوں کا جم غفیر تو کہہ سکتے ہیں لیکن قوم کا نام نہیں دے سکتے اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنا ہوگا ان رہنمائوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا ہوگا جنہوں نے اپنی بکھری ہوئی انتشار کا شکار قوموں کودرست منزل کی طرف گامزن کرنے پر ابھارا ان کی قیادت کی ان کے سامنے منصوبے رکھے انہیں اعتماد میں لیا اور پھر پورے یقین و اعتماد کے ساتھ اپنی قوم کو لے کر آگے بڑھے اور پستیوں میں گری ہوئی قوم کو ترقی کے راستے پر ڈال دیا کسی قوم کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہی ہوتی ہے کہ اسے ایک عظیم رہنما مل جائے۔ رہنماکی مثال ایک گڈریے جیسی ہوتی ہے جو اپنی بھیڑوں کا ہر دم ہر لمحہ خیال رکھتا ہے انہیں شدید گرمی میں سایہ فراہم کرتا ہے انہیں پیاس لگے تو انہیں پانی مہیا کرتا ہے ان کے چارے کا بندو بست کرتا ہے۔ وہ یہ سارے کام پوری جانفشانی اور تندہی سے کرتا ہے۔ اس کی نظر ہر وقت بھیڑوں کے گلے پر ہوتی ہے وہ اٹھے بیٹھتے ان کا خیال کرتا ہے وہ بھیڑوں کی ہر ضرورت پوری کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ گڈریا دنیا کے عظیم رہنمائوں کی تمام خوبیوں سے مالا مال ہوتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی اب گڈریے کا کردار ادا کرنا ہے اپنی بکھری ہوئی بھیڑوں کو سمیٹنا ہے ان کے بارے میں ہمدردانہ غورو فکر کرنا ہے۔ بلوچ پختون سندھی اور پنجابی میں کوئی فرق روا نہیں رکھنا ہے۔ دین ہی ہماری طاقت کا سرچشمہ ہے ہم جمہوریت کے نعرے تو بہت لگاتے ہیں لیکن عوام سے جو وعدے کیے گئے تھے انہیں اب پورا بھی کرنا ہے حالات کی نزاکت بھی اپنی جگہ پر ہے عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں