Daily Mashriq


کتابوں کی چوری ، کار ثواب ہے

کتابوں کی چوری ، کار ثواب ہے

کتابوں کی چوری کار ثواب ہے۔ بڑا عجیب سا لگا یہ جملہ جب ہم نے اسے پہلی بار سنا ۔ شاید اس لئے کہ ہم کتابوں کے چور نہیں تھے، البتہ سینہ زور ضرور تھے۔ جس کا مظاہرہ ہم نے پشاور صدر کی ارباب روڈ کے پرلے چوک میں قائم اپنے وقت برٹش کونسل کی نہایت نستعلیق لائبریری میںکیاتھا۔ یوں ہوا کہ میں برٹش کونسل لائبریری سے اپنے نام جاری کی گئی دو کتابیں واپس کرنے کی غرض سے پہنچا۔ جانے کس ٹینشن کا شکار تھے اس لائبریری کے ہیڈ لائبریرین جو مجھ سے کتابیں واپس لینے کی بجا ئے مجھ شامت کے مارے پرغصہ جھاڑنے لگے۔ ’’اب لائے ہو تم یہ کتابیں اتنے دن گزارنے کے بعد‘‘۔ ’’جی ۔دیر سویر تو ہوتی رہتی ہے‘‘ میں نے جان کی امان پاکر عرض کی ۔لیکن میرے دھیمے لہجے سے ان کے غضب ناک لہجے پر کوئی اثر نہ ہوا، وہ برابر غصہ کئے جارہے تھے جس کے جواب میں مجھے بھی ان ہی کے سے انداز میں کہنا پڑا کہ’’ دیکھئے صاحب۔ اگر میں یہ کتابیں واپس کرنے نہ آتا تو آپ میرا کیا بگاڑ لیتے‘‘۔ جس کے جواب میں حضرت بے دل مزید بپھر کرکہنے لگے کہ ’’ہم قانونی کارروائی کرتے‘‘۔ اچھا۔ تو کر لیجئے اپنی قانونی کارروائی۔ اتنا کہہ کر میں نے کتابیںاٹھائیں۔ ان کو بغل میں دبایا اور پھر دوسرے ہی لمحے ارباب روڈ پشاور صدر کی سڑک ناپنے لگا۔ اس دوران میں نے دو تین بار مڑ کر دیکھا۔برٹش کونسل کا خوش پوش ہیڈ لائبریرین اپنے انگریزی سوٹ کے حصار میں بے بس ولاچار کھڑا مجھے یوں گھور رہا تھا جیسے اس کو غصہ نامی بادہ تلخ کو گھونٹ نہ کرسکنے کا انجام مل گیا ہو۔ شاید دل ہی دل میں مجھے بد دعائیں دے رہا تھا وہ۔ شاید کہہ رہا تھا کہ’’جا تو میری طرح سدا ٹینشن کا شکار رہے۔ جا تجھے اللہ لائبریرین بنائے‘‘۔ اس بات کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں پشاور یونیورسٹی سے لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کرنے کے فوراً بعد میونسپل پبلک لائبریری کا ہیڈ انچارج مقرر ہوگیا۔ برٹش کونسل کی وہ کتابیں جو میں نے چوری ہی نہیں سینہ زوری کرکے اڑائی تھیں سالہا سال تک نہ صرف میرے قبضے میں رہیں بلکہ پانی میں مل کے پانی ،انجام یہ کہ فانی کے مصداق نشتر میونسپل پبلک لائبریری پشاور کے ذخیرہ کتب میں غلطاں ہوکر رہ گئیں۔ میں اس لائبریری سے جون 2010میں اپنی عزت و آبرو کی گٹھڑی سنبھال کر ریٹائر ہوا۔ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ میں کتابوں کی چوری، یا ان کو چرانے کی غرض سے کی جانے والی سینہ زوری یا کتاب چوروں کی ہیرا پھیری سے بچ سکا۔ کتابیں چراکر ثواب کمانے کا نظریہ رکھنے والوں نے مجھ پر بھی پھن پھلائے رکھے اور میں مقدور بھر کوشش کرتا رہا بلدیہ پشاور کے زیر انتظام قائم اس کتب خانہ کوکسی قسم کے نقصان پہنچنے کے اندیشے سے محفوظ رکھنے کی، اور اللہ کے کرم سے میں اس مقصد میں بہت حد تک کامیاب بھی رہا ۔ مگر اہالیان پشاور کے اس قیمتی اثا ثے کو ایک عمارت سے نکال دوسری اور دوسری کے بعد تیسری عمارت میں منتقل کرنے کے عمل کو نہ روک سکا کہ ایسا کرنا میرے اختیار ہی میں نہ تھا۔ ہم سوچنے لگتے ہیں کہ انتقال در انتقال کے اس عمل میں جانے کس کس نے کتنا کتنا ثواب کمایا ہوگا کتابوں کی چوری کا۔میں نے آج کے کالم کا آغازکتابوں کی چوری کار ثواب ہے کے جملہ معترضہ کے حامل فتوے سے کیا ۔ Borrow, Buy or Steel, but you must have books.یعنی مستعار لو، خریدو یا چراؤ، لیکن تمہارے پاس کتاب کا ہونا ضروری ہے جیسے مغرب میں گردش کرتے جملے اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ کتابوں سے ٹوٹ کر پیار کرنا اوران کے ساتھ ’جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے ‘ جیسے روئیوں کو اپنانا دانش مندان شرق و غرب کا مرغوب مشغلہ رہا ہے۔ 

کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے۔ کسی کو کتاب دینے والا بے وقوف ہوتا اور کتاب لیکر واپس کرنے والا اس سے بڑا بیوقوف، گویا برٹش کونسل کے ہیڈ لائبریرین کی بد دعا سے نشتر میونسپل پبلک لائبریری کے ہیڈ بے وقوف کی جاب پر فائزآپ کے اس کالم نویس نے سال 1979ء کے دوران اس کتب خانہ کا چارج سنبھالا تو کتب خانہ میں موجود کتابوں کو ان کی دستیاب فہرست کی گنتی کے مساوی نہ پاکر اس کی تحریری شکایت افسر مجاز کو کی جو اس لائبریری کے ریکارڈ پر موجود ہونی چاہئے۔ چارج سنبھالتے وقت اس کے نوٹس میں یہ بات بھی آئی کہ گور مکھی اور ہندی رسم الخط میں لکھی ہوئی کتابیں بلدیہ پشاور کے محافظ خانہ یا ریکارڈ روم میں ناقابل پرسان حالت میں پڑی ہیں۔ جب ریکارڈ کیپر سے ستلیوں میں بندھی ان کتابوں کے انبار کے بارے میں سوال کیا تووہ مجھے اتنا کہہ کر چپ ہوگئے کہ ’’ لے جاؤ، ان کتابوں کو اور رکھ دو اپنی لائبریری میں۔مجھے یاد پڑتا ہے ، پشاور کی ایک ممتاز سماجی اورسیاسی شخصیت اقبال اخونزادہ عرف لالے بالے نے مجھے بتایا تھا کہ کچہری گیٹ پشاور شہر میں پرانی میونسپل کمیٹی کی عمارت کی باقیات میں ایک سٹوپا تھا جس میں لائبریری کی بہت ساری کتابوں کو ڈمپ کرکے دیمک ، کاکروچ ، جھینگر، سفید مچھلی اوراس قبیل کے بہت سارے کتابی کیڑوں کی دعوت کا اہتمام کردیا تھا۔ اللہ جانے کہاں گئیں وہ کرم زدہ کتابیں ۔ کاش کوئی چرا لے جاتا ان کتابوں کوبھی اور کمالیتا ڈھیروں ثواب اور ہم کہتے رہتے کہ

نہ لٹتا دن تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا

رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو

متعلقہ خبریں