Daily Mashriq


بدلے بدلے میرے سرکارنظر آتے ہیں

بدلے بدلے میرے سرکارنظر آتے ہیں

وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال پر آئندہ حکمت عملی سے متعلق اپوزیشن کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی وفد نے اپوزیشن جماعتوں سے ملاقات کی تھی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا موجودہ حالات پر آئندہ حکمت عملی سے متعلق شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو اعتماد میں لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے حکومت کو اس معاملے میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وفاقی حکومت ملک میں جاری حالیہ بحران کے حل کیلئے سیاسی حکمت عملی سے کام لے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی ملک کی اساس ہے، اداروں کو بے توقیر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) حالیہ سیاسی صورتحال کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کرے گی جس طرح ماضی میں تحریک انصاف نے اپنے دھرنے میں کیا تھا۔حزب اختلاف کی جماعتوں کو ڈاکو اور چور کے القابات سے یاد کرنے والے حکمران جماعت کو حزب اختلاف سے بالآخر رجوع کرنے کا معاملہ ملکی سیاسی افق پر نمودار ہونے والا ایک ایسا تارہ ہے جس کی روشنی کی مثبت کرنیں حکومت اور حزب اختلاف دونوں کی سیاست پر پڑنے سے الزامات اور گالم گلوچ کی سیاست میں تبدیلی اور بہتری آئے گی۔ گو کہ یہ کسی عجوبے کا باعث نہیں تاہم اتنا ضرور ہے کہ تحریک انصاف کے بر سر اقتدار آنے کے بعد بھی لب و لہجے میں تبدیلی نہیں آئی تھی یا پھر معاملہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی والا معاملہ تھا۔ سیاسی اور جمہوری نقطۂ نظر سے یہ تبدیلی احسن ہے۔ یہ مجبوری کی شادی بھی ہوسکتی ہے لیکن بہرحال اس قسم کی مفاہمت ہر حکومت کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور اس سیاسی نظریہ ضرورت کی بھینٹ عوام اور حتساب چڑھتے ہیں حالانکہ مناسب الفاظ میں تنقید اور اس کا جواب اوراحتساب ساتھ ساتھ ہونے اور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت دیکھا جائے تو قابل احتساب عناصر یا تو منہ میں گنیاں ڈالے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں یا پھر بولتے ہیں تو قومی اسمبلی کے فلور پر مفاہمت اور ساتھ چلنے کا پیغام دیتے ہیں۔ خود حکمران جماعت کی مجبوری بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں جس کی صفوں اور کابینہ میں موجود اہم افراد کا نام نیب کی فہرست میں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکمران جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی مفاہمت کی ابتدا جاری ملکی حالات سے نہیں بلکہ نیب کے ناخن تراشنے اور نیب قوانین میں تبدیلی پر ا تفاق رائے سے شروع ہو چکی تھی۔ مفاہمت کا پیغام دینے اور حکومت کاحزب اختلاف سے محفوظ رابطے کاموقع توہین رسالت کیس کے فیصلے سے ہاتھ آ یا اور احتساب کا نعرہ زن جماعت اور قابل احتساب جماعتیں شیر و شکر ہوگئیں۔ ہمیں ملک میں سیاسی مفاہمت کی خوشی ضرور ہے لیکن اس سے احتساب کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ جن رہنمائوں پر ٹھوس بنیادوں پر مقدمات بنتے ہیں ان پر ضرور مقدمہ چلایا جائے لیکن جو مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے اور ان کو آگے بڑھانا وقت کے ضیاع کے مترادف ہو ان مقدمات سے ہاتھ کھینچ لیا جائے تو یہ مفاہمت کی بہتر صورت ہوگی لیکن اگر احتساب کے عمل ہی کو حسب سابق روایتی بنا کر رکھ دیا جائے اور قابل احتساب لوگ خواہ وہ حکمران جماعت کی صفوں میں ہوں یا پھر حزب اختلاف کی صفوں میں اگر محفوظ رہ جاتے ہیں تو یہ اس ملک اور اس ملک کے عوام کیساتھ بڑی نا انصافی ہوگی۔ بے نامی اکائونٹس اور بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے جو سر گرم تحقیقات جاری ہیں ابھی ان کاد ائرہ کار صرف انکشاف کی حد تک دکھائی دیتاہے ۔ان کو نتیجہ خیز بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے اور ایسا کرنا زیادہ مشکل نظر نہیں آتا۔ اتنی بھاری رقوم رکھنے اور رکھوانے والے ہرگز نا معلوم نہیں ہوسکتے۔ اسے بدقسمتی ہی قرار دیاجائے گا کہ وطن عزیز میں مفاہمت کی سیاست کا مطلب احتساب سے آنکھیں بند کرنا ہے جبکہ حزب اختلاف کی تنقید اور شور شرابا کے پس پردہ چھوٹ اور رعایت طلبی ہے۔ موجودہ حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم کے دو ٹوک اعلانات سے اس امر کی توقع ہو چلی تھی کہ ان کے سخت الفاظ اور اعلانات بے معنی اور ادھورے ثابت نہیں ہوں گے گو کہ اب بھی امید نہیں ٹوٹی اور آس باقی ہے لیکن آثار کچھ اچھے نہیں اور کچھ بدلے بدلے میرے سرکار دکھائی دیتے ہیں۔ امور مملکت کی نزاکتیں اور مجبوریاں بھی بہرحال پیش نظر ہیں جس میں دوست ممالک کا دبائو بہرحال ایک عنصر ہے جبکہ اس سے بھی زیادہ اہم عنصر یہ ہے کہ کوئی بھی ملک کسی ایسے ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا رسک نہیں لے سکتا جہاں سیاسی استحکام نہ ہو۔ اس تناظر اور وزیر اعظم کے عین دورہ چین کے موقع پر حکومت کی حزب اختلاف سے رابطوں کو دیکھا جائے تو معاملے کو سمجھنا مشکل نہیں۔ ملک میں مفاہمت کی فضا اور ذمہ دارانہ سیاست کی ضرورت و اہمیت سے کسی طور صرف نظر کی گنجائش نہیں لیکن یہ احتساب جیسے ضروری عمل کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں