Daily Mashriq


پاک چین بس سروس پر بھارت کا بلاجواز اعتراض

پاک چین بس سروس پر بھارت کا بلاجواز اعتراض

پاکستان اور چین کے درمیان بس سروس کے آغاز پر بھارت کی جانب سے کئے گئے احتجاج کی اسلئے کوئی حقیقت نہیں کہ ان کو دو ہمسایہ اور عظیم دوست ممالک کے درمیان مواصلات کے شعبے میں قریبی تعاون پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی مسلسل غلط بیانی سے نہ تو تاریخ کے حقائق تبدیل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی مسئلہ جموں وکشمیر کی قانونی حیثیت بدل سکتی ہے۔ خیال رہے کہ سی پیک بس سروس کے نام سے لاہور اور چین کے صوبے کاشغر کے علاقے تاشقورغان تک نئی سروس کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیرخارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم نے پاکستان اور چین سے بس سروس کی تجویز پر شدید احتجاج کیا ہے جو جموں وکشمیر اور سی پیک کے ذریعے چلے گی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کشمیر سے بس سروس کا چلنا بھارتی خودمختاری اور سرحدی سا لمیت کی خلاف ورزی ہوگی۔ بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پوری ریاست جموں وکشمیر متنازعہ ہے اور اس کی حیثیت کا حتمی تعین اقوام متحدہ کے زیر جمہوری اور غیرجانبدار رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکینگ کا بریفنگ کے دوران بس سروس پر بھارتی احتجاج کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال پر کہنا تھا کہ سی پیک ایک معاشی تعاون کا منصوبہ ہے جو کسی تیسرے ملک کو نشانہ نہیں بنا رہا ہے، اس کا کسی خودمختار سرحدی مسئلوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور کشمیر پر چین کے اصولی مؤقف پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ سی پیک کے حوالے سے بھارت کی سازشیں، تخریب کاری اور دہشتگردی کوئی راز کی بات نہیں جسے پاکستان نے بلوچستان میں کلبھوشن نیٹ ورک پکڑ کر طشت ازبام کر دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے کے ممالک اگر باہم تنازعات کا حل نہیں نکال سکتے تو اختلافات کے باوجود کم ازکم عوام کی فلاح اور معاشی واقتصادی منصوبوں کی مخالفت سے باز آئیں۔ بھارت کو سی پیک کی مخالفت کی بجائے اس میں شمولیت کی سعی کرنی چاہئے اس کیلئے اب یہ اس لئے بھی ضروری ہوگیا ہے کہ عالمی حالات کے باعث اب اس کا چاہ بہار بندرگاہ کے منصوبے کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں جبکہ عالمی سطح پر دنیا کے مختلف ممالک کی سی پیک میں شمولیت میں دلچسپی سے اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ بھارت کی لاکھ مخالفت کے باوجود سی پیک دوستی بس سروس کا اجراء ضرور ہونا چاہئے اس کی حفاظت اور روٹ کو محفوظ بنانے کیلئے دونوں ممالک کو خاص طور پر سعی کرنی ہوگی تاکہ اسے محفوظ اور کامیاب بنایا جاسکے۔

افغانستان کے مسئلے کا یکطرفہ نہیں مشترکہ حل

پاکستان کی جانب سے اہم طالبان رہنما عبدالغنی برادر کو رہا کیا جانا، امریکہ طالبان کے براہ راست مذاکرات کی تیاریاں اور افغانستان میں طالبان کے مقابلے میں حکومت کا تیزی سے زمینی کنٹرول کھو دینے کا عمل آمدہ دنوں میں افغانستان میں نئے حالات کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں رواں موسم سرما میں افغانستان میں طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ اور زمینی کنٹرول حاصل کرنے کے عمل میں تیزی آسکتی ہے۔امریکی واچ ڈاگ ایجنسی کے مطابق امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت ملک کے بیشتر علاقے طالبان کے حق میں کھو چکی ہے جبکہ جنگ میں سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ الجزیرہ رپورٹ کے مطابق اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغانستان تعمیرنو (سیگار) کی سہ ماہی رپورٹ میں کابل حکومت کو درپیش بھارتی دباؤ کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ اسی دوران امریکا نے طالبان سے ابتدائی مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سہ ماہی میں افغانستان کے مختلف اضلاع، عوام اور علاقوں پر کنٹرول کیلئے شدید مقابلہ دیکھا گیا۔ ملک میں صدارتی انتخابات سے6ماہ قبل اس طرح کے اعداد وشمار ملک کی تشویشناک سیکورٹی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا مکمل حل امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات سے بھی ممکن نہیں اس مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنے کیلئے اس امر کی ضرورت ہے کہ خطے کے تمام ممالک افغانستان کے جملہ فریقوں سے معاملت کریں جبکہ اس سے قبل افغانستان کی داخلی قوتوں کو کسی فارمولے پر اتفاق کرایا جائے تاکہ مفاہمتی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔ خطے کے ممالک کیلئے یہی افغانستان کے مسئلے کا حل ضروری نہیں بلکہ امریکہ کو افغانستان میں اپنے قیام کے اخراجات میں کمی لانے اور خود کو امریکی ایئر بیسز تک محدود اور محفوظ رکھنے کیلئے بھی معاملت ضروری ہے جبکہ دوسری جانب سی پیک اور ایشیائی ریاستوں سے رابطہ کاری کیلئے یہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کیلئے یکساں اہمیت کا حامل ہے جو افغانستان میں استحکام اور قیام امن کے بغیر ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں