Daily Mashriq


وزیراعظم دورہ چین سے کیا کچھ حاصل کرسکتے ہیں؟

وزیراعظم دورہ چین سے کیا کچھ حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان چین کا دورہ کر رہے ہیں جو ہمارا نہایت اہم اسٹریٹجک ساتھی ہے۔یہ دورہ ایک بہت ہی نازک دور میں ہونے جا رہا ہے کہ جب امریکا کی جانب سے چین اور روس کیخلاف ایک نئی سرد جنگ کا اعلان کردیا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وجود میں آنیوالے عالمی نظام کو ٹرمپ انتظامیہ نے تار تار کردیا ہے۔ اب امریکا اور دیگر بڑے ممالک عالمی قانون کو بالائے طاق رکھ کر چھوٹے ملکوں کیخلاف یک طرفہ طاقت کا استعمال، زور زبردستی اور مداخلت کرتے ہیں۔ عالمی تجارتی حکومت کو ریزہ ریزہ کیا جا رہا ہے اور یوں مالیاتی نظام دبا کا شکار ہے۔ان مشکل حالات میں، پاکستان کے چین کیساتھ تعلقات اسے اپنی سیکورٹی اور خارجہ پالیسی اور اپنی سماجی و معاشی ترقی کو ضروری سہارا فراہم کرتے ہیں۔ چین پاکستان کی دفاعی ضروریات کو پورا کرتا ہے، پاکستان کا انفرا اسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے، اس کے علاوہ ہندوستانی جارحانہ رویے اور امریکی دھمکیوں کیخلاف ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔اگرچہ پاک چین تعلقات چٹانوں کی طرح مضبوط ہیں لیکن چونکہ موجودہ زمینی و سیاسی حالات میں پاکستان اور چین اپنے دشمنوں کے ہاتھوں جن خدشات اور دبائو کا مقابلہ کر رہے ہیں اس کے پیش نظر دونوں کو اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو بہت ہی مضبوط سطح پر لے جانے کی انتہائی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔وزیرِاعظم کے دورہ چین کی راہ چند ہفتے قبل پاکستان کے آرمی چیف نے ہموار کی تھی جنہوں نے اطلاعات کے مطابق بیجنگ میں دونوں ملکوں کے مابین دفاعی اور سیکورٹی تعاون کو مزید بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ بلاشبہ اہم ترین سیکورٹی تعاون کے حوالے سے حتمی فیصلوں کا اعلان وزیرِاعظم اور چینی رہنمائوں کو ہی کرنا ہے۔دونوں ملکوں کو اس وقت جن سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے اس کیلئے دونوں کو ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے۔ چین، بحیرہ جنوبی چین میں میری ٹائم تنازعات، ون چائنہ پالیسی اور تائیوان اور ژن جیانگ میں اوئی غر (Uighur) انتہاپسندوں کی جانب سے علیحدگی کے اٹھتے خدشے پر پاکستان کی حمایت چاہے گا۔پاکستان کیخلاف امریکی اور ہندوستانی دبائو اور دھمکیوں کیخلاف پاکستان کو اپنے اہم سیکورٹی چیلنجز پر چین کی طرف سے مزید بڑھ کر زبانی حمایت درکار ہے۔ چین کو پاکستان پر طاقت اور اقتصادی دبائو کی دھمکیوں پر مذمت کا اظہار کرنا چاہئے، بین الاقوامی قانون کے مطابق جموں کشمیر مسئلے پر ایک پرامن حل کا مطالبہ کرنا چاہئے اور سی پیک منصوبے کو ختم کرنے کی دھمکیوں کی مخالفت کرنی چاہئے۔ افغانستان میں سیاسی حل کو فروغ دینے کیلئے چین کا کردار نہایت اہم ہے، جس کیلئے چین افغانستان کی ترقی میں مدد فراہم کرے اور سی پیک اور بیلٹ روڈ جال میں شامل کرے۔عمران خان کے دورہ چین کے ایجنڈے کا محور ممکنہ طور پر اقتصادی مسائل ہوں گے۔ گزشتہ ہفتے وزیرِاعظم کی جانب سے حکمتِ عملی اور ہوشیاری کے ساتھ سعودی سرمایہ داری کانفرنس میں شرکت کے دوران بڑی ہی خوش آئند سعودی مالیاتی مدد حاصل ہونے کے باوجود بھی پاکستان کو چین سے ایک بڑی رقم درکار ہے۔ یہ چند صورتوں میں ممکن ہوسکتا ہے: ڈالر ڈیپازٹ، نرم قرضے، تجارتی(کمرشل)کریڈٹ اور سی پیک منصوبے پر پہلے سے سے زیادہ بڑے وعدوں کی صورت میں۔ پاکستان جن شرائط پر آئی ایم ایف پیکج کو حاصل کرنا اور منظور کروانا چاہتا ہے، چین اس معاملے پر کافی مثبت انداز میں اثرانداز بھی ہوسکتا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان کو شنگھائی میں ہونے والے چائنا ٹریڈ ایکسپو میں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا ہے اور اس کیساتھ پاکستان کی درآمداتی اور پیداواری صلاحیتوں کو پیش کرنے کیلئے جو کوششیں کی جائیں گی اس کی وزیراعظم سربراہی کریں گے۔

بدقسمتی سے یہ صلاحیتیں اس وقت محدود ہیں اور انہیں مناسب تجارتی اور صنعتی پالیسیوں کے ذریعے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ چین اس مرحلے میں کافی اہم کردار ادا کرسکتا ہے، مثلاً، اپنے چند غیر مسابقتی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں اور وہ جو نئی مغربی تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں انہیں ایک شعوری جدوجہد کے ذریعے پاکستان منتقل کردیا جائے۔ پاکستان کے زرعی شعبے کی مشترکہ ترقی اور زرعی اجناس اور پراسس شدہ اشیا کی چین برآمدات سے بھی باہمی تجارت، تیزی کے ساتھ پیداوار اور پاکستان میں روزگار بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔عمران خان کیلئے اب یہ ضروری ہے کہ وہ پاکستان کی سی پیک پر لگن اور خلوص کے حوالے سے کسی بھی قسم کے شکوک وشبہات کو ختم کردیں۔ یہ منصوبہ صدر ژی جن پنگ کے بیلٹ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کا فلیگ شپ ہے۔ اگر امریکا اور اس کے دوست، بشمول بھارت، سی پیک کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ نقصان چین، اس کے رہنماؤں اور اس کیساتھ ساتھ پاکستان کیلئے ایک بڑی ناکام خارجہ پالیسی کے برابر ہوگا۔بی آر آئی منصوبہ جس قدر چین کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اتنا ہی ترقی پذیر ممالک کیلئے بھی اہم ہے۔ ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو انفرا سٹرکچر پر سالانہ 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ امریکا اور مغرب یا تو مالی ضرورت کو پورا کرنے کی حالت میں نہیں یا پھر کرنا نہیں چاہتے لیکن دوسری طرف چین یہ کام کر رہا ہے۔ مغرب کی جانب سے بی آر آئی کی مخالفت دراصل ڈاگ ان دی مینجر (dog-in-the-manger) کے مترادف ہے یعنی ایک ایسے شخص کی طرح جو بخل سے کسی ایسی چیز پر اپنا قبضہ جمائے رکھتا ہے جو اس کے کسی فائدے کی نہ ہو۔بی آر آئی کی قرضہ ڈپلومیسی کے طور پر تنقید دراصل مغرب کی صد سالہ پرانی غریب تر ملکوں کے رہنماؤں کیساتھ سمجھوتے اور وسائل پر قبضے کی حکمت عملی دکھا کر ہوائی اندازوں کے سوائے کچھ نہیں۔ سرکاری منصوبوں کیلئے چین کی جانب سے قرضہ انتہائی نرم شرائط پر فراہم کیا جاتا ہے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں