Daily Mashriq


کلین اینڈ گرین پاکستان

کلین اینڈ گرین پاکستان

موجودہ حکومت کے اس منصوبے سے کسی کو بھی اختلاف نہیں کہ پورے ملک میں جہاں جہاں بھی گنجائش ہو پودے لگائے جائیں اور گرین اینڈ کلین پاکستان کی ابتدا کی جائے۔ بلا شبہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن ہم اپنے ایمان کے نصف کا خیال کم ہی رکھنے کے سزاوار ہیں جبھی تو پورا ملک کوڑا کرکٹ کا ڈھیر نظر آتا ہے۔ اس ضمن میں خیبر پختونخوا حکومت کا یہ منصوبہ لائق تحسین ہے کہ صوبائی حکومت کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک کی بیکار اشیاء سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ شاید یہی موزوں طریقہ کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا بھی ہے پھر بجلی کی پیداوار ہم خرما و ہم ثواب کے زمرے میں آتا ہے۔ گرین پاکستان تو جیسے مجھے حکومت اور وزیر اعظم کا نہیں اپنا ہی خواب لگتا ہے ہر انسان فطری طور پر قدرتی نظاروں اور سبزہ و شبنم کا شیدائی ہوتا ہے۔ جنگلات اور درخت خواہ وہ ثمر بار ہوں یا بے ثمر دونوں ہی ہمارے ملک ہمارے ماحول اور عوام کی بنیادی اور اولین ضرورت ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی جو عذاب کی صورت میں تیزی سے پھیل رہی ہے اس کا مقابلہ شجر کاری اور ہریالی کے رقبے میں اضافے سے ہی ممکن ہے۔

ہمیں یہ تو معلوم ہے ہی کہ حضرت انسان کی ترقی نے دنیا کے چہرے کی تحریر بدل دی ہے۔ وہ علاقے جہاں درخت ہونے چاہئے تھے وہاں سے کروڑوں درختوں کو کاٹ ڈالا گیا۔ انسان نے ترقی کی خواہش میں جو صنعتیں لگائیں ان کے منہ پر کوئی غلاف نہیں چڑھایا۔ وہ کڑوا کسیلا کاٹ دار دھواںاس دنیا کی فضاء میں بھرتی رہیں۔ یہاں تک کہ اوزون کی جھلی میں ہی سوراخ ہو گیا۔ سورج کی تابکار شعائیں جن کو باہر ہی روکے رکھنے کے لئے یہ جھلی اس کرہ ارض کے ارد گرد قدرت نے تخلیق کی تھی اسکا تو ہم نے خود ہی تیا پانچہ کردیا۔ اس جھلی کو نقصان پہنچنے سے سورج کی تابکار شعاعوں کی کچھ نقصان دہ حدت نے زمین تک پہنچنا شروع کردیا۔ جس کے نتیجے میں زمین کے دونوں سروں یعنی قطب شمالی اور قطب جنوبی پر موجود گلیشیئرز پر اس کے اثرات کچھ یوں ہونے لگے کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھ گئی۔ سائنسدان اور ماہرین موسمیات کا خیال ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں اگر اس صورتحال کا سد باب نہ کیاگیا تو معاملات میں بہت زیادہ بگاڑ آسکتا ہے۔ زلزلوں کی شدت اور تعداد دونوں میں ہی اضافہ ہوا چلا جائے گا۔ اسی حوالے سے ایک جگہ بات ہو رہی تھی۔ ایک صاحب جو موسمیات کی وزارت سے تعلق رکھتے ہیں بتا رہے تھے کہ ابھی تک دنیا میں اس حوالے سے مسلسل بات چیت اور تحقیق ہو رہی ہے۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں‘ ایل نینو فیکٹر اور ایسی کئی باتوں کے حوالے سے تو بے شمار تحقیق ہوچکی ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ کیا کیا اثرات کس طور مرتب ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تحقیق کرنا تو اچھی بات ہے لیکن کوئی تدابیر بھی تو کی جانی چاہئیں۔ اثبات کی کارروائیوں میں ان کا حصہ بھی ہونا چاہئے۔ اگر لوگوں کو اس حوالے سے متعلقہ خطرے کا احساس دلایا جائے‘ انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی اس وقت کی ذرا سی محنت ان کے بچوں کے مستقبل کے لئے بہت سود مند ثابت ہوسکتی ہے تو یقینا وہ ان کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہی بات چیت کرتے ہوئے میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ موسم کی یہ تبدیلی تو فصلوں کی کاشت کے موسموں میں بھی تغیر کا باعث ہے۔ اس حوالے سے کیا کاشتکاروں کے لئے کوئی آگہی پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ کیا انہیں بتایا جا رہا ہے کہ انہیں کونسی فصل اب کس کس مہینے میں کاشت کرنی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کے بے شمار مسائل کا حل انہی فصلوں سے وابستہ ہے۔ جب ہم اس تشویش میں مبتلا ہوتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود اربوں ڈالرز کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے اور یہ درآمد اس کی سب سے بڑی درآمد یعنی پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں ایک دور میں زیتون اور پام آئل کی کاشت کے حوالے سے خاصی تگ و دو بھی کی گئی تھی لیکن وہ سب تو حکومتوں کی بے اعتنائی کی نذر ہوگیا۔ وہ صاحب کہتے ہیں‘ کچھ نہیں۔ ابھی پور ی دنیا میں تحقیق ہو رہی ہے۔ میں ان سے بحث کر رہی تھی کہ تحقیق تو ہو رہی ہے لیکن یہ تو ممکن نہیں کہ امریکہ‘ یورپ اور ترقی یافتہ ممالک ان موسمیاتی تبدیلیوں کو اپنے معاملات کا حصہ نہ بنا رہے ہوں۔ وہ صاحب میرے مسلسل سوالوں سے جھنجھلا کر بولے‘ ہمارے ہاں تو ابھی تک اس سلسلے میں کوئی آگہی مہم شروع نہیں کی گئی۔ نہ ہی حکومت کی توجہ اس جانب ہے۔ ہماری طرف سے کئی تجاویز حکومت کو دی جا چکی ہیں۔تاہم اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد کی نوبت ابھی نہیں آئی۔ میں نے ان سے کہا کہ اس دنیا میں آلودگی کا سہرا تو ترقی یافتہ ملکوں کے سر ہے۔ وہ اس سلسلے میں سد باب کے طریقے بھی ڈھونڈ رہے ہوں گے لیکن کیا ہمیں اس میں صرف اپنی حد تک بھی کوئی کردار نہیں کرنا۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے۔ غریبوں کو آج کی فکر ہوتی ہے۔ آج پیٹ کیسے بھرے گا‘ تن کیسے ڈھانکا جائے گا۔ رات کی صبح کیسے ہوگی۔ ہم بھی صرف اس میں مشغول ہیں۔ اس سے زیادہ کا کون سوچے۔ کون لوگوں کو یہ سمجھائے کہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی میں حصہ دار نہ بنیں۔ ہم مسلمان ہیں۔ قیامت کی نشانیاں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ قیامت کی نشانیاں پوری کرنے کے خواہشمند رہنا بھی کوئی کمال نہیں۔ یہ دنیا ہمارا گھر ہے جب تک قیامت نہ آئے ہماری نسلوں کا گھر ہے۔ ہم اپنی کوتاہ نظری سے اس دنیا کو تباہ کر رہے ہیں اور کوئی سدباب نہیںکرتے۔ میرے خیال میں اس ضمن میں جس قدر مساعی اور اقدامات کی ضرورت ہے اس کا عشر عشیر بھی نظر نہیں آتا۔ کلین اینڈ گرین پاکستان اس وقت ہی قابل تحسین کہلایا جائے گا جب عملی طور پر اس کے اثرات و ثمرات نظر آئیں فی الحال تو یہ منصوبہ ہی ہے جس کی کامیابی کی دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں