Daily Mashriq


رموز مملکت اور خویش خسروان

رموز مملکت اور خویش خسروان

پاکستان میں ضیاء الحق کے دور سے قبل مذہبی مسائل یوں چوراہوں پر نہیں آئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ ان کے سوشلسٹ نظریات پر بعض مذہبی سیاسی جماعتوں اور علماء کا اختلاف تھا لیکن بہرحال اس میں سارے اختلافات کے باوجود وقار وشائستگی کا پہلو موجود رہتا۔یہ بات تو اب پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ضیاء الحق کے د ور میں مذہبی معاملات اور بالخصوص سیاست میں مذہب کے عمل دخل کو جس انداز میں بڑھاوا ملا‘ پاکستانی معاشرے پر اس کے اثرات مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت کی صورت میں سامنے آئے۔ جہاد افغانستان کے بعد کے حالات نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا اور وہ دن اور آج کا دن پاکستان میں مذہبی اور سیاسی استحکام ہم سب کی خواہش میں تبدیل ہوا۔ اگرچہ ہمارے اس خطے میں اس قسم کے معاملات کو آگے بڑھانے میں عالمی طاقتوں کا بھی بڑا کردار رہا لیکن اس میں آلہ کار کے طور پر ہمارا ہی کردار اہم رہا۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے دوران اراکین اسمبلی کے حلف نامے میں کسی نے ختم نبوتؐ کے حوالے سے جو گڑبڑ کی کوشش کی تھی اس کیخلاف جلسے جلوسوں اور فیض آباد دھرنا نے پہلی بار اہل دانش کے کان کھڑے کئے تھے۔ اس دھرنے کو مسلم لیگ(ن) کیخلاف استعمال کرنے میں بعض عناصر نے جو کردار ادا کیا وہ ہماری تاریخ کا حصہ بن گیا ہے لیکن اس سے جو سبق حاصل ہونا چاہئے تھا وہ ہمارے سیاستدانوں نے نظرانداز کر لیا۔ اس مکتبۂ فکر کے لوگوں کو جب اپنی طاقت کا احساس ہوا تو انہوں نے مسلم لیگ(ن) کیساتھ طفیلی کے طور پر رہنے کے بجائے اپنی مذہبی سیاسی جماعت کے طور پر تعارف کروانے میں کامیابی حاصل کی اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی دو بڑی مذہبی جماعتوں جمعیت اور جماعت سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ اسی چیز نے ان کی طاقت کو سہ آتشہ کر دیا۔

اسلامی دنیا اور پاکستان کے حوالے سے یہ بحث بہت توانا اور متنازع ہے کہ آیا اسلامی معاشرے مغربی لادینی جمہوریت کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا میں مقابلتاً جمہوریت کے علاوہ کوئی ایسا نظام بھی نہیں جو اس سے بہتر ہو۔ خلافت کی بات اسلئے نہیں کر رہا کہ اس وقت کے حالات کے تناظر میں ایک نظریاتی تصوراتی چیز رہ گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ملوکیت نصف صدی سے جاری ہے اور بعض ممالک میں آمریت چل رہی تھی لیکن عرب سپرنگ نے ان کی ناپائیداری اور ناپسندیدگی آشکارہ کر دی ہے۔ ترکی میں بھی طویل آمریت کے بعد جمہوریت اور پھر گزشتہ برس اس پر شب خون مارنے کی روداد کے تلخ اثرات آج بھی جاری ہیں اور ترکی میں صدارتی نظام کے قائم ہونے پر بھی اعتراضات ہو رہے ہیں۔

جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے اپنے اپنے ادوار میں کئی بار اس بات کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان جیسے معاشرے مکمل طور پر مغربی جمہوریت کے متحمل ہو ہی نہیں سکتے۔ جمہوری روایات کو پروان چڑھانے اور ان اقدار کا پاس رکھنے کیلئے تعلیم بنیادی ضررت ہے۔ پاکستان جیسے نیم خواندہ وقبائلی معاشروں میں جمہوری روایات وضوابط تو رہے ایک طرف کہ خود سیاستدان بھی اسے موم کی ناک بنائے ہوئے ہوتے ہیں لیکن جب جمہوریت کے ہوتے ہوئے عدلیہ کے فیصلوں کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا تو اہل دانش سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ واقعی جمہوریت ہی وہ آخری نظام حکومت اور طرز حکمرانی ہے جس کے بغیر رہا نہیں جاسکتا۔

اس بات پر بات کئے بغیر کہ سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلہ بعض مذہبی طبقات کا ردعمل قانون وجمہوریت کے ضابطوں کے مطابق ہے یا نہیں لیکن اتنا تو کہا جاسکتا ہے کہ مملکت کے غریب عوام کی روزی روٹی کمانے کے وسائل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا اور پہلے ہی سے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ملک کے اثاثوں کو آگ لگانا آخر کہاں کا انصاف ہے۔

آپ کو اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ منظور وقبول نہیں۔ یہ آپ کا حق سہی لیکن اس کیخلاف جمہوری حق‘ جمہوری انداز میں شائستگی کیساتھ جلسے جلوس اور مظاہروں کے ذریعے عوام کیلئے سڑک‘ شاہراہیں بند کئے بغیر استعمال کریں۔ وقتاً فوقتاً اس قسم کے حالات سے اس بات کی بھی ضرورت سامنے آرہی ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو کوشش یہ ہونی چاہئے کہ پاکستان کے عوام کو سوفیصد تعلیم یافتہ بنایا جائے‘ تعلیم جتنی عام ہوتی جائے گی معاملات سدھرتے چلے جائیں گے ورنہ ہم سب بنی اسرائیل کی طرح وادی تیہہ میں پھرتے رہیں گے۔ صبح منزل کی تلاش میں نکلیں گے اور شام کو پھر اس مقام پر ہوں گے جہاں سے چلے تھے۔ آج مجھے برطانوی سیاستدان ونسٹن چرچل کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو انہوں نے برطانوی حکمرانوں سے انڈیا کو آزادی دیتے وقت کہے تھے۔

All Indian leaders will be of low calibre. They will have sweet tongues and silly hearts. They will fight amongst themselves for power and India will be lost in & squabbles.

کہیں یہ آج واقعی پاکستانی سیاستدانوں پر بھی درست تو نہیں بیٹھ رہا۔ اللہ تعالیٰ مملکت خداداد پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

متعلقہ خبریں