Daily Mashriq


احتساب کا عمل بنی گالہ سے شروع کرنے کا موقع

احتساب کا عمل بنی گالہ سے شروع کرنے کا موقع

وزیراعظم عمران خان نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر احتساب کے عمل کو بغیر کسی دباؤ کے شفاف انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دوسری جانب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ تجاوزات کے عمران خان کے عدالت کو لکھے گئے خط کے سلسلے میں ہونیوالی طویل کارروائی کے بعدکہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پہلے اپنا گھر ریگولرائز کرائیں اور جرمانہ بھی ادا کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت سے کام نہ ہوسکا تو ہم خود حکم جاری کریں گے۔ چیف جسٹس نے انتخابی نتائج کے بعد بھی کچھ اس قسم کے ریمارکس دیئے تھے کہ بنی گالہ کے معاملے میں اب عمران خان خود ہی کوئی اقدام کریں لیکن وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے تقربیاً ایک ماہ گزرنے کے باوجود اس ضمن میں کوئی پیشرفت نہ ہوئی۔ اس معاملے میں عمران خان پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اولاً یہ کہ چونکہ اس معاملے کا نوٹس لینے کا خط انہوں نے ہی لکھا تھا اور دوم یہ کہ وہ اقتدار کی کرسی پر ہیں اور جس شفاف احتساب کا وہ دعوے کرتے ہیں وہ دعوے خود ان سے احتساب کا متقاضی ہے، سوم یہ کہ اگر ملک کا وزیراعظم جرمانہ بھر کر مثال قائم کرتے ہیں تو ملک بھر میں حکومتی وغیرحکومتی، سیاسی وغیر سیاسی اور سرکاری افسران سمیت کسی کو بھی اس ضمن میں ابہام نہیں رہے گا کہ سرکار کو رقم کی ادائیگی اور غیرقانونی معاملات کو قانونی بنانے، احترام قانون اور احتساب کے ہونے کے ضمن میں اب ان کو کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ احتساب کا عمل اگر وزیراعظم اپنے گھر سے شروع کر کے مثال قائم کرتے ہیں تو یہ احسن بھی ہوگا، مثال بھی اور قانون پر عملدرآمد بھی۔ علاوہ ازیں بھی اگر دیکھا جائے تو سپریم کورٹ کے حکم کی عدم تعمیل کی گنجائش نہیں، زیادہ سے زیادہ نظرثانی کی اپیل کا قانونی ماہرین مشورہ دے سکتے ہیں مگر اس معاملے میں اس کا بھی فائدہ نظر نہیں آتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان جس احتساب اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں اس کی عملی مثال وزیراعظم ہاؤس اور بنی گالہ سے سامنے آئے تو یہ تحریک انصاف کی حکومت کیلئے ایک مشعل رہ اور دیگر عناصر کیلئے ایک سنجیدہ تنبیہہ ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب کا عمل جتنا جلدی اور جس قدر سنجیدگی سے شروع ہوگا اتنا بہتر ہوگا۔ سابقہ ادوار میں کسی نہ کسی طرح احتساب اور الزام ہر دور حکومت میں لگتے رہے ہیں اسلئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ اگر دیکھا جائے تو نیب جس طرح قبل ازیں متحرک تھی موجودہ حکومت کے آنے کے بعد نیب اب اس طرح متحرک نہیں بلکہ ان کی کارروائی کی رفتار سست ہوگئی ہے جبکہ دوسری جانب حکومت اُٹھتے بیٹھتے یہ کہتی ہوئی نہیں تھکتی کہ گزرے حکمران ملک لوٹ کر لے گئے۔ اب سیاسی بیانات بند اور عملی طور پر احتساب کے سنجیدہ عمل کا آغاز ہونا چاہئے۔ کسی سابق حکمرن کے حوالے سے الفاظ کی گولہ باری کی بجائے اگر عملی طور پر اس کیخلاف ریفرنس دائر کر کے اس کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے اور اس پر وہ الزامات ثابت کرنے کے پورے جتن کئے جائیں، تبھی احتساب کے ٹھوس عمل پر یقین آئے گا صرف سیاسی بیانات کیلئے الزام تراشی مناسب نہیں۔ اسلئے کہ جب عقدہ کھلتا ہے تو سوائے پشیمانی اور خجالت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جس پنجاب حکومت کے صوبے کا بیڑا غرق کرنے کا راگ الاپا جا رہا ہے اس کے سابق وزیراعلیٰ اور کابینہ کے اراکین کو کٹہرے میں لانے میں کیا امر مانع ہے۔ علاوہ ازیں خود تحریک انصاف کی صفوں اور حکومتوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو یا تو سابق ادوار میں عہدوں پر رہ چکے ہیں یا پھر ان پر سنجیدہ الزامات ہیں۔ ان سارے عناصر اور بلاامتیاز جماعت وقیادت وحکومت جب جھاڑو پھیر ے گی تبھی حقیقی احتساب کا یقین آئے گا، وگرنہ ان نعروں کو عوام حسب سابق کھوکھلے، غیرحقیقی اور سیاسی سمجھنے لگیں گے اور ان کا احتساب کے عمل سے مایوسی فطری امر ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ملک میں جلد احتساب کے ایک ایسے عمل کا آغاز ہوگا جس کی زد میں آنے سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا اور یہ عمل ایسا ہوگا جس میں نہ تو کسی انتقام کی بو آئے گی اور نہ ہی حکومتی صفوں میں ہونے کے باعث کسی سے رعایت برتی جائے گی۔ جس طرح وزیراعظم ملک میں احتساب کے شفاف اور بلاامتیاز ہونے کی عوام کو اپنے جلسوں، میڈیا اور تقریروں میں ہونے کا یقین دلاتے رہے ہیں اب جبکہ وہ خود ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہیں تو عوام کا اُن سے اُسی قسم کے احتساب کی امید اور توقع رکھنا فطری امر ہے۔ بلاامتیاز احتساب ہی ملک میں شفافیت کے نئے دروازے کھول دے گا اور پرانے دروازوں کو اسی طرح سربمہر کیا جاسکے گا کہ اُن پر احتساب اور مکمل احتساب کی اتنی بھاری سل رکھ دی جائے کہ پھر کوئی اسے ہٹانے کی جرأت نہ کرسکے۔ احتساب ہی موجودہ حکمران جماعت کا نعرہ رہا ہے اور یہی نعرہ اُن کی کارکردگی اور خلوص کو تولنے کی عوامی کسوٹی ثابت ہوگی، اگر اس میں کامیاب رہے تو کامران اور اگر خدانخواستہ ناکام رہے تو پیش روں سے مختلف انجام کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں