Daily Mashriq


جنگلات کو ٹمبرمافیا کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے

جنگلات کو ٹمبرمافیا کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے

ایک خصوصی رپورٹ میں اس امر کا انکشاف کہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیربالا کی جنت نظیر وادی کمراٹ میں جنگل کا انتہائی بیدردی سے صفایا سخت تکلیف دہ اور فوری توجہ کا متقاضی امر ہے۔ دیودار اور چیڑھ کے قیمتی درختوں کی بے دریغ کٹائی پوری ڈھٹائی کیساتھ جاری ہے۔ سیاحوں کی جنت سمجھے جانے والی وادی کمراٹ میں ایک طرف سیاحوں کی آمد کے باعث جہاں اس وادی کا ماحول متاثر ہو رہا ہے اور ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے وہاں ٹمبرمافیا نے بھی اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں اور محکمہ جنگلات کی ناک کے نیچے پوری وادی کمراٹ میں مشینی آری کی آوازیں آتی ہیں جو درخت کاٹ کاٹ کر ٹریکٹر ٹرالیوں میں لادے جاتے ہیں اور یہ ٹریکٹر ٹرالیاں محکمہ جنگلات سمیت مختلف چیک پوسٹوں سے گزرتی ہیں لیکن کسی بھی چیک پوسٹ پر روک ٹوک نہیں کی جاتی۔ اس خوبصورت وادی میں قدم قدم پر تازہ کٹے درختوں کی باقیات کی موجودگی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ انتہائی منظم انداز میں اس وادی کو اس کے قدرتی حسن سے محروم کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ملک میں جنگل لگانے میں دلچسپی اور خیبر پختونخوا حکومت کی صوبے کے مختلف علاقوں میں شجرکاری اور جنگل لگانے کی مساعی کسی سے پوشیدہ امر نہیں لیکن دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دیر، چترال اور سوات سمیت قبائلی اضلاع میں جنگلات کا صفایا کرنے والی ٹمبرمافیا پوری طرح سرگرم ہے جس سے محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام اور عملہ ملا ہوتا ہے اور ڈری اور دبی بھی ہوتی ہے۔ ٹمبرمافیا اس قدر طاقتور ہے کہ حکومت جو بھی ہو اس کا دھندہ بند نہیں ہوتا۔ ان افراد پر اہم سیاسی جماعت بشمول حکمران جماعت کی صفوں میں موجود ہیں، ان افراد کی شناخت خفیہ نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا دھندہ چھپا ہوتا ہے۔ محکمہ جنگلات، پولیس اور متعلقہ حکام ان کی سرگرمیوں سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں مگر مصلحت اور ملی بھگت کے باعث کارروائی نہیں ہوتی۔ کمراٹ میں جنگلات کے قتل عام کی جس طرح نشاندہی کی گئی ہے وہ ایک جھلک ہے جس کا وزیراعلیٰ محمود خان اور متعلقہ صوبائی وزیر اور محکمے کے حکام کو نوٹس لینا چاہئے۔ اگر خدانخواستہ جنگلات کی کٹائی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو بلین سونامی ٹری منصوبہ بھی سالوں سال کے نشو ونما کے بعد درخت بننے والے ان قیمتی اشجار کا متبادل ثابت نہیں ہوگا۔

صفر سے آگے بھی بڑھئے

خیبر پختونخوا میں موجودہ حکومت کے پیشرو تحریک انصاف کی حکومت کے کئی ایک مجوزہ اقدامات کا مجوزہ رہ جانا اور بعض اقدامات کا موجودہ حکومت کی جانب سے تبدیلی اور خاتمے کا امکان صوبے میں نہ صرف اچھے تاثرات کا باعث امر نہیں بلکہ اس سے ناکامی کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ وفاق اور دیگر صوبوں میں گزشتہ حکومتوں کے اقدامات کے پیچھے چھپنے کی گنجائش سے حکمران جماعت پورا فائدہ اٹھا رہی ہے مگر خیبر پختونخوا میں مسلسل دوسری حکومت ہونے کے باعث ایسا ممکن نہیں۔ یہ امور قابل غور ہیں کہ صوبے میں اہم اقدامات کے فیصلے ہنوز منتظر بہ عملدرآمد ہیں۔ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح خیبر پختونخوا کا بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونا فطری امر ہے۔ بارشوں میں کمی، خشک سالی اور گلیشئرز کے پگھلنے سے آنے والے سیلابوں کی تباہ کاریوں سے صوبہ متاثر ہو رہا ہے تاہم 6سال سے زائدکا عرصہ گزرنے کے باوجود ادارہ تحفظ ماحولیات خیبر پختونخوا صوبے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے الگ ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ گزشتہ سال صوبائی حکومت نے صوبے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کیلئے موسمیاتی تبدیلی پالیسی کی منظوری دی تاہم ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باجود اس حوالے سے معاملات صرف اجلاسوں تک محدود رہے ہیں جبکہ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ساٹھ سال سے زائد عمر کے شہریوں کیلئے آمد ورفت اور علاج کی ترجیحی سہولیات کی فراہمی کیلئے سینئر سٹیزن ایکٹ پر عملدرآمد تین سال بعد بھی نہ ہو سکا ہے۔ عالمی طور پر بزرگوں کا دن منانے اور کاغذی کارروائی کے علاوہ اس حوالے سے کسی قسم کی پیش رفت نہیں کی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ میں رعایت مل رہی ہے نہ ہی ہسپتالوں میں انتظامات کئے گئے ہیں اور تو اور اس قانون کے ثمرات سے تاحال عام آدمی کو آگاہی نہیں دی گئی۔ صرف یہی دو مقامات ناکامی کے ہوتے تو صرف نظر کیا جا سکتا تھا یہاں المیہ یہ ہے کہ ادارے بنانے، انتظامات اور تدارک کرنے کے عندیئے تو دیئے جاتے ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں نتیجہ صفر۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس حکومت کے فیصلوں پر عملدرآمد کاجائزہ لینے کیلئے بھی بلانا چاہئے تاکہ حقائق سے آگاہی ہو اور زیر التواء معاملات کو عملی شکل دینے کا آغاز کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں