Daily Mashriq


آشیاں خود جلایا ہم نے

آشیاں خود جلایا ہم نے

یہ بات بعید ازحقیقت نہیں کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے کے بدمعاش ضرور ہیں۔ اگر بدمعاش نہ ہوتے تو اس دنیا میں کیسے آتے۔ ہم نے اپنی بدمعاشی کا آغاز شکم مادر کے اندر ہی کر دیا تھا۔ ماں کی کوکھ میں بدمعاشی کر کے ہم نے اپنے بھائی بندوں کو ہڑپ کر کے جو جنگ جیتی اس کے نتیجے میں ہم ماں کی کوکھ سے ماں کی گود تک پہنچے۔ جھولوں اور پنگھوڑوں سے نکل کر گلیوں اور بازاروں میں اپنے ہم عصر ساتھیوں پر اپنی بدمعاشی کا رعب جھاڑنے لگے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا اس کو چاروں شانے چت گرانے لگے اور اپنی ہر جیت کو فتح اور کامرانی سے تعبیر کرنے لگے۔ بہت سے چنگیز اور ہلاکو پیدا کئے اس بدمعاشی نے۔ سکندر اعظم اگر بدمعاش نہ ہوتا تو وہ فاتح عالم بننے کے خواب کیسے دیکھتا۔ میں تیمور لنگ، ظہیر الدین بابر اور اپنی تاریخ کی ایسی بہت سی فاتح عالم شخصیتوں کیلئے بدمعاش کا لفظ استعمال کرنیکی جرأت نہیں کرسکتا۔ بابر نے پانی پت کے میدان ابراہیم لودھی کی بدمعاشی ختم کی۔ اس نے خیبر کے بے آب وگیاہ پہاڑوں سے بارود حاصل کیا۔ پشاور پہنچ کر لشکر جرار تیار کیا اور یوں وہ تاریخ عالم کا پہلا فاتح بنا جس نے ہاتھیوں کی جنگ میں بارود استعمال کرکے ابراہیم لودھی کی افواج میں بھگدڑ مچا دی اور پھر اس کی پشتوں کی پشتیں ہندوستان پر مغلیہ سلطنت کے جاہ وجلال کو کیش کرتی ر ہ گئیں۔ کفر ہے، گناہ ہے قوم اور تاریخ کے ان ہیروز کیخلاف بدمعاشی کے لفظ کو استعمال کرنا۔ بدمعاش کا لفظ بدکردار، بدکماش، بدچلن قسم کے لوگوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اگر اس لفظ کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بد اور معاش کے اجزائے ترتیبی سے ملکر مرکب لفظ بن کر ہماری ڈکشنریوں میں شامل ہوا، معاش کا لفظ اتنا برا نہیں۔ معاشیات سے مشتق ہے یہ لفظ اور اس کے لغوی معنی روزگار، کاروبار، محنت مزدوری اور کسب کمال کیلئے جاتے ہیں لیکن جب معاش کے اس لفظ کیساتھ ’بد‘ کا سابقہ لگتا ہے تو اس کی شکل ہی بگڑ جاتی ہے۔ اچھے اچھے دل والے پناہ مانگنے لگتے ہیں بدمعاش کے نام کی شہرت پانے والوں کے وجود اور ان کے کردار سے، لیکن جو لوگ اپنی بدمعاشی کی دھاک جمانے پر فخر محسوس کرتے ہیں وہ اپنی بری شہرت یا بدنامی پر نادم ہونیکی بجائے بقول نواب شیفتہ

ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

کے مصداق فخر کرتے ہیں اپنے کردار پر۔ بدمعاشوں کی بڑی قسمیں ہیں جن میں سے شریف بدمعاشوں کو پوری پاکستانی قوم ایک بار نہیں باربار بھگت چکی ہے۔ ہر فرعونے را موسیٰ کے مصداق ہر بدمعاش کو اس سے بڑا بدمعاش ہڑپ کر جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ سکندر مرزا کو ایوب خان نے ہڑپ کر لیا، قائد عوام کو ضیاء الحق ڈکار گیا، ضیاء الحق کو اس سے بڑے بدمعاش نے انجام تک پہنچا دیا۔ جانے کب سے چل رہی ہے زیر زبر پیش کی یہ کہانی، کوئی ہابیل بنتا ہے تو کوئی قابیل۔ کسی زمانے میں ہماے شہر پشاور کو بدمعاشوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، سکھا شاہی دور حکومت میں راجہ رنجیت سنگھ نے ان کی بدمعاشی کو انجام تک پہنچانے کی غرض سے یہاں ابوطبیلہ نامی جرمن بدمعاش بھیج دیا جس نے آتے ہی فصیل شہر کے گرد لکڑی کے کھمبے گاڑھ کر کھڑے کر دئیے۔ پشاور والے اس کی اس حرکت کا مذاق اُڑانے لگے۔ بھپتیاں کسنے لگے اس کی اس حرکت پر، لیکن ایک صبح وہ سو کر اُٹھے تو ان کھمبوں پر پشاور کے نامور بدمعاشوں کی لاشیں لٹکی ہوئی تھیں، اور یوں بے ضرر پشاوری ابوطبیلہ کی بدمعاشی کا ٹھینگہ سر پر اُٹھا کر چلنے لگے۔ سر اولف کیرو لکھتا ہے کہ ابوطبیلہ تحصیل گورکھتری کے صدر دروازے پر بنی بالکونی میں بیٹھ کر مسجد مہابت خان کے میناروں سے گرائے جانیوالے سرکش مسلمانوں کا منظر دیکھ دیکھ کر پھولے نہ سماتا تھا۔ اس ظالم نے مسجد مہابت خان کو گھوڑوں کا اصطبل بنا رکھا تھا اور لوگ اس کی اس بدمعاشی کو دیکھ کر اُف تک کرنے کی جرأت سے عاری تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں اور ہر دور میں مسجد کے میناروں سے اٹھنے والی اللہ اکبر کی صدائیں

تجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا للہ

خودی کا سر نہاں لا الٰہ الا للہ

کا درس دیتی رہی ہیں مگر اس درس کو خاطر میں نہ لانے والی ہر قوم میں اپنے شیطانی ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنے ناجائز مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے بدمعاشوں کے ٹولے سر اٹھا کر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرتے رہے ہیں۔ بدمعاشوں کا قلع قمع کرنے اور حکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے ہمار ے پاس بندوق بھی موجود ہے اور قلم بھی۔ بندوق افواج پاکستان کے ہاتھوں میں ہے اور قلم اپنے وطن کی عدلیہ نے تھام رکھا ہے۔ اگر افواج پاکستان وطن کے دشمن بدمعاشوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو ہماری قلم بدست عدالتیں ان لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم کئے ہوئے ہیں جو اپنی بدمعاشی کے زر اور زور کو شریف النفس شہریوں کی ہتک کرنے اور لوٹنے سے باز نہیں آتے۔ کہتے ہیں قلم کا وار بندوق کی گولی اور تلوار کے دھار سے تیز ہوتا ہے۔ پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ہاتھ میں ایسا ہی قلم ہے جس کی شہ پر انہوں نے پی ٹی آئی والوں کو للکار کر کہا ہے کہ وہ بدمعاشی کر کے نیا پاکستان بنانے چلے ہیں۔ بجلی کی کڑک ہے ان کے اس بیان میں پی ٹی آئی والوں کو اس کڑکتے بیان کی روشنی میں سنبھل کر چلنا ہوگا ورنہ خاکم بدہن وہ کہتے پھریں گے کہ

کون بجلی کی دھمکیاں سہتا

آشیاں خود ہی جلایا ہم نے

متعلقہ خبریں