Daily Mashriq


پولیس، پی ڈی اے، ریسکیو اور عوام

پولیس، پی ڈی اے، ریسکیو اور عوام

کچھ برقی پیغامات اور کالز ایسی آئی ہیں جن کو پڑھ یا سن کر تھوڑی دیر اس حیرت میں گزر جاتی ہے کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے، کیا پیغام ارسال کرنے والا یا کالر درست کہہ رہا تھا؟ لیکن وہ بات ہوتی حقیقت ہے۔ کبھی کبھار جب ذہن اس بات کو قبول نہیں کرتا تو سمجھنے میں دشواری اور لکھتے ہوئے ادھورے پن کا احساس ہوتا ہے۔ ایک ایسے ہی مسئلے سے آج کے کالم کی ابتداء ہے۔ پولیس پبلک سکول اینڈ کالج کی سابق پرنسپل ناصرہ ملک نے اپنی مدت ملازمت کی تکمیل کے بعد سکول انتظامیہ کی طرف سے اپنے ساتھ ہونیوالی ناانصافی کی جو روداد بیان کی میرے لئے تو اسے سمجھنا ہی مشکل ہو رہا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سرکاری ادارے کے زیر انتظام چلنے والے سکول میں ساری عمر انتظامی عہدے پر گزارنے والی محترمہ خاتون کو یہ بتا دیا جائے کہ چونکہ اس سکول کو 2005ء میں نجی شعبے میں دیدیا گیا تھا اسلئے آپ پنشن اور بقایاجات سے محروم رہیں گی۔ آپ کے حوالے سے بس اتنی سی غلطی ہوئی تھی کہ ہم آپ کو بتانا بھول گئے تھے۔ پولیس کے محکمے نے سکول وکالج کو فروخت کرتے وقت سکول کے پرنسپل کو بھی اعتماد میں لینے کی زحمت گوارا نہیں کی، نیز سکول کیسے بغیر کسی اشتہار اور اطلاع کے فروخت کر دیا گیا۔ سکول کی اتنی بڑی عمارت طالب علموں اور والدین کا اعتماد سب کچھ فروخت ہوا اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی۔ اب افواہ ہے کہ سکول کی شاندار عمارت کی جگہ کوئی کمرشل عمارت تعمیر ہوگی۔ ناصرہ ملک نے بنی گالہ جاکر مکین بنی گالہ سے فریاد کی اور منصفین سے بھی ملیں مگر ان کو انصاف نہ ملا۔ یہ ایک ایسا پیچیدہ معاملہ ہے کہ اس میں فریق ثانی کا مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا، ان کو ہم اسی کالم میں وضاحت کی دعوت بھی دیتے ہیں اور موقع بھی تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آئے۔ تصویر کا ایک اور رخ حیات آباد کے مختلف سیکٹرز میں غیرقانونی پارکنگ کے ذریعے پی ڈی اے کو ماہانہ آمدنی سے محروم کرنے والوں کا ہم نے دکھایا تھا جس پر کسی نے کان دھرا۔ الفاظ میں اس منظر کی تشریح ممکن نہیں کسی ٹی وی چینل کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ یہ برقی پیغام ملا ہے حیات آباد کی ایک خاتون قاری کی طرف سے۔ انہوں نے حیات آباد کی گلیوں میں اور سڑکوں پر گھروں سے نکلنے والے فالتو پانی کے کھڑا ہونے اور اس کو مؤثر طریقے سے روکنے، مکینوں کو وارننگ جاری کرنے کی ذمہ داری، خالی پلاٹوں میں موجود کوڑا کرکٹ اور غلاظت کی صفائی سے متعلق ہے۔ انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ حیات آباد کی تعمیر کے بعد سے سرکاری پانی کی ٹینکیوں کی صفائی نہیں ہوئی جس کے باعث پانی بدبودار اور آلودگی کا شکار آرہا ہے۔ معلوم نہیں پانی کی ان ٹینکیوں میں کتنے پرندے اور رینگنے والے جانوروں کی باقیات گھل مل گئی ہوں گی۔ بیس سال گزر گئے مگر کسی سرکاری ٹینکی کی صفائی نہیں ہوئی۔ حیرت اس بات کی ہے کہ حیات آباد میں صرف عام لوگ ہی نہیں رہتے، اعلیٰ سرکاری افسران اور خود ہی پی ڈی اے کے افسران وعملہ بھی رہتا ہے مگر کسی وزیر مشیر، اعلیٰ افسر اور پی ڈی اے حکام کو اس مسئلے کا احساس نہیں۔ حیات آباد کی مارکیٹوں میں تجاوزات اور اردگرد گندگی، کوڑا کرکٹ، آلودہ پانی پھینکنے، برتن دھونے کے باعث تعفن پر تو کسی کی نظر ہی نہیں جاتی۔ ان مسائل کے باعث گرین بیلٹ بھی متاثر ہو رہے ہیں، پودوں کی جڑوں پر آلودہ پانی ڈالنے سے پودے سوکھ جاتے ہیں، آگ کی تپش سے پودے جھلس جاتے ہیں مگر کسی کو رحم نہیں آتا۔ خالی پلاٹوں کی صفائی اور اس میں چونا ڈالنے کی تو پی ڈی اے کی روایت ہی نہی حالانکہ یہ ان کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے۔ لوگ حیات آباد کو پوش بستی گردانتے ہیں، ایسا ہی ہوگا اگر پی ڈی اے کا عملہ نظافت اپنی ذمہ دای کو سمجھے۔ ذمہ داری تو ایک شہری نوجوان نے بی آر ٹی کے جنگلے سے ٹکرا کر شدید زخمی ہونیوالے موٹر سائیکل سوار کی اطلاع 1122 پر دیکر پوری کی تھی مگر بُرا ہو اس قانون کا کہ ریسکیو کے عملے نے نوجوان کو اس امر پر ہراساں کیا کہ ان کو اس اطلاع دینے کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اُن کیساتھ ہسپتال جانا پڑے گا۔ قانون اور ریسکیو کے عملے کی مجبوری اپنی جگہ لیکن کیا اس طرح سے کوئی قانون کی مدد کرنے پر باآسانی وبخوشی آمادہ ہوگا۔ جو لوگ دفتروں، کاروبار یا جو بھی کام سے جا رہا ہو اُس کیلئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ صرف ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کیلئے ہسپتال یا تھانے جائے۔ ریسکیو فرائض کی ذمہ داری ریسکیو عملے ہی کو نبھانی چاہئے جبکہ پولیس بھی غیرضروری طور پر اطلاع دہندہ کو ملوث نہ کرے اور ہسپتالوں کی انتظامیہ زخمی پہنچانے والے ہی کو ذمہ دار ٹھہرانے کا رویہ ترک کر دے تبھی لوگ قانون کی مدد کی ہمت کریںگے۔ قانونی طور پر بن تو جانا چاہئے تھا ان لوگوں کا قومی شناختی کارڈ جن کو بوجوہ بلاک کر کے نادرا نے بھلا دیا ہے۔ چارسدہ سے ہمارے قاری مقصود خان لکھتے ہیں کہ وزیراعظم بنگالیوں اور افغانیوں کیلئے پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بعد میں بنوائیں پہلے ان پاکستانیوں کے کارڈ تو بنوا دیں جو سالوں سے نادرا کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں مگر ان کے شناختی کارڈ بلاک پڑے ہیں۔ یہ ایک ایسا سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس سے کئی لاکھ افراد دوچار ہیں اور خاندانوں کے خاندان سخت مشکل میں ہیں۔ وزیراعظم پر سب سے پہلا حق ان فرزندان زمین کا ہے پہلے ان کی التجا سنی جائے بعد میں دوسروں کا سوچیں، اول خویش بعد درویش۔اس کالم میں اب خویش ہی کے نہیں درویشوں کے بھی دور دراز سے برقی پیغامات آنے لگے ہیں۔ گزشتہ کالم کی طرح اس بار بھی اگلا برقی پیغام پنجاب سے موصول ہوا ہے اور مسرت کی بات یہ ہے کہ اس پیغام سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے قارئین میانیوالی کے بعد ننکانہ صاحب میں بھی موجود ہیں جہاں سے ہمارے ایک قاری نے شکایت یہ کی ہے کہ ننکانہ ریلوے سٹیشن کے سامنے چمن میں لوگ بھینس بکریاں چراتے ہیں اور پودوں کی شاخیں توڑ کر بکریوں کو ڈالی جاتی ہیں۔ کاش اس قسم کا احساس ہم میں سے ہر ایک میں پیدا ہو، ہم اپنے ملک کے پودوں، اشجار اور باغات کا خیال رکھنے لگیں تو ملک واقعی ہرا بھرا بن جائے۔

متعلقہ خبریں