Daily Mashriq


پاک بھارت جنگ ۔۔ بات کچھ اور ہے

پاک بھارت جنگ ۔۔ بات کچھ اور ہے

بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی فلاسفر ، سیاسی کارکن،ماہر لسانیات پروفیسر نوم چومسکی کہتے ہیں کہ حکومتیں عوام کی توجہ اصل سماجی مسائل سے ہٹانے کیلئے ان کو غیرضروری اور معمولی نوعیت کے مسائل میں الجھا کر رکھتی ہیں۔ ان کو مصروف رکھا جاتا ہے تاکہ انہیں سوچنے کیلئے کوئی وقت نہ ہی ملے۔اگر ہم غور کریں تو امریکہ کے فلسفی، سیاسی کارکن، پروفیسر نوم چومسکی کی باتوں میں بڑا وزن ہے کیونکہ بھارت اور بالخصوص پاکستان میں مسائل کچھ ہیں اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ان کو کسی اور طرف لگا دیا جاتا ہے۔ پاک وہند اور خاص طور پر پاکستان کے مسائل میں لاقانونیت، مہنگائی، بیروزگاری، بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ، اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، گرتے ہوئے سماجی واقتصادی اعشارئیے اور اس کے علاوہ ایسے مسائل ہیں جن کو حل کرنا دونوں ممالک کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دونوں ممالک کے حکمران اپنے اپنے ممالک کے اقتصادی، سماجی مسائل سے عام لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے بازی گری میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت عنقریب ایک دوسرے کیخلاف میدان جنگ میں اُتریں گے۔ دونوں ممالک کے عوام کے رویوں سے ایسا لگتا ہے کہ جنگ کیلئے تیار ہیں۔ مگر میری ناقص رائے کے مطابق ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ دونوں ممالک جوہری اور میزائل طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کیخلاف مہم جوئی سے گریز کریں گے۔ بھارت اور پاکستان کے حکمرانوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں۔ انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہم وطنوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عوام کو ایک کروڑ نوکریاں اور 50لاکھ مکانات تعمیر کرکے دیں گے۔ انہوں نے اور موجودہ وزیرخزانہ اسد عمر نے بار بار ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ٹاک شوز میں کہا تھا کہ اقتدار میں آکر بجلی، گیس، تیل اور اشیاء صرف کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی۔ خان صاحب پچھلی حکومتوں پر تنقید کر کے کہتے تھے کہ بجلی، تیل، گیس اور اشیاء خوردونوش کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے کئی گنا مہنگی ہیں۔ مگر افسوس کا مقام ہے اقتدار میں آکر عوام کو کوئی ریلیف دینے کے بجائے روزانہ استعمال کی چیزوں میں کئی گنا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ عمران خان جو جلسے جلوسوں اور پبلک میٹنگز میں بڑے دعوے کرتے تھے اب عوام کو صبر، کفایت شعاری اور سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔حکومت نے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ عوام پر اربوں روپے کے ٹیکس بھی لگا دیئے۔ اسی طرح کی گمبھیر صورتحال بھارت میں بھی ہے۔ وہاں کی اپوزیشن کی طرف سے فرانس کیساتھ جنگی جیٹ طیاروں کے معاہدے میں بدعنوانی کے الزامات پر وزیراعظم نریندر مودی سے استعفے اور کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے دھرنوں کے دوران عوام کی توقعات اتنے بڑھائیں کہ اب عوام کپتان سے اُمید لگائے بیٹھے ہیں اور ان سب مسائل کو حل کرنا عمران خان کے بس سے باہر ہے ۔ سیاسیات کا طالب علم ہونے کے ناتے میں نے پوسٹ گریجویٹ لیول پر کئی ایسے ابواب پڑھے جن میں اس حکمت عملی کو بتانے اور سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کون کونسے حربے استعمال کرکے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جائے۔ اس سلسلے میں کبھی کالاباغ ڈیم کے منصوبے کو سامنے لایا جاتا ہے اور کبھی نان ایشو کو ایشو بنایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے کرکٹ، ہاکی میچز اور کبھی دوسرے نان ایشوز کو سامنے لایا جاتا ہے۔ بھارتی حکمران اور پاکستانی حکمران عوام سے کئے گئے وعدوں سے جان چھڑانے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے جنگ اور تنازعات کی بات کرتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو بھارت کے سماجی اقتصادی اعشاریئے پاکستان سے بہتر ہیں۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات خراب ہوتے اور جنگ کی فضا ہوتی تو بھارت کی مسلح افواج کے سربراہ کا بھتیجا انیل مسرت کیسے اسلام آباد میں کابینہ کی میٹنگ میں بیٹھتا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی ٹینشن نہیں اور حکمران عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ان کے جذبات اور احساسات کو اُبھار کر عوام کو اصل مسائل کے بجائے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے اقدامات کریں۔

متعلقہ خبریں