Daily Mashriq

پیشاب کی کس رنگت پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟

پیشاب کی کس رنگت پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟

پیشاب کی رنگت بھی انسانی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ بیان کرتی ہے اور طبی زبان میں اسے یوروکروم کا نام بھی دیا گیا ہے۔

عموماً قدرتی طور پر پیشاب کی رنگت میں زرد رنگ موجود ہوتا ہے یعنی جب جسم میں پانی کی مقدار مناسب ہو تو یہ رنگت ہلکی پیلی ہوجاتی ہے اور لگ بھگ شفاف ہونے کے قریب ہوتی ہے۔

اگر جسم میں پانی کی کمی ہو تو یہ رنگت کچھ گولڈن یا ہلکی بھوری بھی ہوسکتی ہے۔

کئی بار پیشاب کی رنگت غذا یا ادویات کا نتیجہ بھی ہوتی ہے جو غذائی نالی میں جاکر پیشاب کی رنگت کو بدل دیتے ہیں۔

کئی بار پیشاب کی رنگت کسی بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اب یہ آپ کی غذا، ادویات اور پانی کی مقدار پر ہے کہ پیشاب کی رنگت کیسی ہوسکتی ہے، تاہم بیشتر رنگ کو تشویشناک نہیں سمجھا جاتا مگر کئی بار یہ فکرمندی کی علامت بھی ہوتی ہے۔

شفاف رنگت

اگر پیشاب کی رنگت بالکل شفاف ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ روزانہ درکار پانی کی مقدار سے زیادہ پی رہے ہیں، ویسے تو ہائیڈریشن صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے مگر بہت زیادہ پانی پینا نمکیات کا توازن بگاڑ کر الیکٹرولائٹس کو متاثر کرسکتا ہے، کبھی کبھار پیشاب کی رنگت شفاف ہونے پر فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم ہمیشہ یہ رنگت نظر آئے تو ضروری ہے کہ پانی کی مقدار میں کچھ کمی لے آئیں کیونکہ نمکیات کے اخراج سے جسم میں کیمیائی عدم توازن ہوسکتا ہے۔

زرد سے گولڈن یا عنبر

پیشاب کی اس رنگت میں ہلکے پیلے رنگ سے گہرے گولڈن یا عنبر جیسے رنگ نظر آسکتے ہیں،یہ قدرتی ہوتا ہے جو کہ پانی پینے سے اس سیال میں ہلچل کے کتنیجے میں ہوتا ہے۔ جسم میں خون کے خلیات پہنچانے میں مدد دینے والے ہیموگلوبن بھی پیشاب کی رنگت پر اثرانداز ہوتا ہے جبکہ بی وٹامنز کا بہت زیادہ استعمال بھی اس رنگت کو نیون پیلا کرسکتا ہے۔

سرخ یا گلابی

پیشاب کی رنگت سرخ یا گلابی بھی ہوسکتی ہے جو کچھ غذاﺅں جیسے چقندر، بلیو بیریز یا دیگر کو کھانے کا نتیجہ ہوسکتا ہے، مگر کئی بار اس کی وجہ مختلف ہوسکتی ہے کچھ امراض میں بھی ایسا ہوتا ہے جیسے مثانے پھول جانے، مثانے اور گردے میں رسولی اور گردوں میں پتھری وغیرہ، اگر پیشاب کی اس رنگت پر تشویش ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

نارنجی

اگر پیشاب کی رنگت نارنجی یا اورنج ہوگئی ہے تو یہ جسم میں پانی کی کی یا ڈی ہائیڈریشن کی علامت ہے، اگر پیشاب کی اس رنگت کے ساتھ فضلے کی رنگت بھی ہلکی ہوگئی ہے تو یہ ممکنہ طور پر بائل (پتے میں موجود سیال) کا دوران خون میں شامل ہونا ہوسکتا ہے، یرقان کے شکار افراد کو بھی پیشاب میں اس رنگت کا سامنا ہوتا ہے۔

نیلا یا سبز

یہ دونوں رنگ فوڈ کلرنز کا نتیجہ ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ یہ گردوں یا مثانے کے طبی ٹیسٹ کے لیے استعمال ہونے والی ڈائیز کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے، مگر کئی بار بیکٹریا انفیکشن کے نتیجے میں بھی پیشاب کا رنگ نیلا، سبز یا جامنی ہوسکتا ہے، عموماً پیشاب کی نیلی رنگت شاذونادر ہی نظر آتی ہے اور زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ غذا میں کسی چیز کو کھانے کا نتیجہ ہے۔

گہرا بھورا رنگ

اگر پیشاب کی رنگت میں بھورا رنگ گہرا ہوجائے تو یہ اکثر ڈی ہائیڈریشن کا عندیہ ہوتا ہے، مگر یہ کچھ مخصوص ادویات کا سائیڈ ایفیکٹ بھی ہوسکتا ہے۔ زیادہ مقدار میں کورا گندل کھانے کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے جبکہ ایک مرض porphyria کے نتیجے میں بھی دوران خون میں قدرتی کیمیکلز جمع ہونے لگتے ہیں جس سے یہ رنگت نظر آسکتی ہے۔ تاہم کئی بار یہ جگر کے امراض کی علامت بھی ہوتی ہے۔

جھاگ زیادہ ہونا

یہ پیشاب کی نالی میں سوزش کی علامت ہوسکتی ہے جبکہ گردوں اور دیگر سنگین امراض کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے، ویسے کئی بار یہ صرف ڈی ہائیڈریشن کی بھی علامت ہوتی ہے۔ اس رنگت میں پیشاب میں جھاگ یا بلبلے نظر آتے ہیں اور اگر یہ نظر آئے تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کرنا چاہیے۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں

اگر پیشاب میں خون واضح طور پر نظر آئے یا اگر اس کی رنگت ہلکی گلابی یا گہرے سرخ رنگ کی ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، یہ کسی سنگین مرض کی علامت ہوسکتی ہے اور اس کی تشخیص جلدازجلد کرائی جانی چاہیے۔

نارنجی رنگت بھی کسی سنگین مرض کی علامت ہوسکتی ہے جن میں گردے اور مثانے کے امراض قابل ذکر ہیں، اس حوالے سے بھی ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا چاہیے۔

اگر پیشاب جھاگ دار، بھورا، نیلا یا سبز ہو اور اس کی رنگت کچھ دنوں میں دوبارہ زردی مائل نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں