Daily Mashriq

اقتصادی مشاورتی کمیٹی کا قیام

اقتصادی مشاورتی کمیٹی کا قیام

وزیر اعظم عمران خان اپنی انتخابی مہم کے دوران کہتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی معیشت کی اصلاح کے لیے بین الاقوامی سطح کے اقتصادی اور مالی ماہرین سے مشاورت حاصل کریں گے اور حکومت کے قیام کے چند ہی دن کے اندر انہوں نے ملکی اور غیر ملکی ماہرین پر مشتمل اقتصادی ماہرین پر مشتمل اقتصادی مشاورتی کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں مانے ہوئے اور محترم ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں علمی اداروں اور نجی شعبہ کے گیارہ ماہرین ہیں اور وزیر خزانہ اور سرکاری افسروں سمیت سرکاری ارکان شامل ہیں۔ اس کے چیئرمین خود وزیر اعظم ہوں گے اور یہ طے پایا ہے کہ اس کمیٹی کا کم ازکم ہر مہینے اجلاس ہوا کرے گا۔ وزارت خزانہ میں کمیٹی کا ایک سیکرٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی حکومت کی مالیاتی اور اقتصادی پالیسیوں کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی۔ کمیٹی کے ارکان کے انتخاب میں علمی اداروں اور نجی سیکٹر کے ماہرین اور سرکاری ارکان کی شمولیت اس بات کی دلیل ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اقتصادیات اور مالیات سے متعلق ہر شعبہ کے ماہرین سے مشاورت حاصل کرنا چاہتی ہے جو اس تفہیم پر مبنی ہے کہ حکومت معیشت کی بہتری کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہے۔ ملک میں اقتصادی مشاورتی کمیٹی پہلی بار نہیں بنائی جا رہی گزشتہ عشرہ کے دوران ایسی کمیٹیاں مختلف حکومتوں نے بنائی ہیں ۔ لیکن موجودہ مشاورتی کمیٹی اور سابقہ ایسی کمیٹیوں میں فرق واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ کمیٹی میں اکادمیہ ‘ نجی شعبہ اور سرکاری شعبہ کے اعلیٰ دماغوںکو شامل کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایسی کمیٹیوں کے لیے انتخاب کا دائرہ اس قدر وسیع نہیں ہوتا تھا۔ سابقہ کمیٹیوں کے اجلاس چار چار ماہ تک نہیںہوتے تھے جب کہ اس کمیٹی کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ اس کا اجلاس ایک ماہ میں کم ازکم ایک بار ضرور ہو گا اور اس کا ایک سیکرٹریٹ بھی قائم کر دیا گیا ہے جہاں کمیٹی کی کارکردگی اور کارروائی بھی دستیاب ہو گی۔ اور سیکرٹری فنانس ڈویژن کمیٹی کے سیکرٹریٹ کے سربراہ ہوں گے۔ ایک انگریزی معاصر کے مطابق گزشتہ عشرہ کے دوران جو ایسی مشاورتی کمیٹیاں بنائی گئیں ان کے کوئی اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے اور زیادہ تر انہیں کمیٹیوں کے ارکان کے ذاتی کام نکلوانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان نے جو اقتصادی مشاورتی کمیٹی قائم کی ہے اس کے ارکان میں نہایت اعلیٰ پائے کے شہرت یافتہ ماہرین معیشت ‘ محققین ‘ اساتذہ اور نجی شعبہ کے اعلیٰ ماہرین کو شامل کیا گیا ہے جن میں سے چند کا امریکہ اور یورپ کے عالمی شہرت کے حامل علمی اداروں سے تعلق ہے۔ اس پائے کے اہلِ علم سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ کمیٹی کی رکنیت کو اپنے کام نکلوانے کے لیے استعمال کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اکادمیہ ‘ نجی شعبہ اور سرکاری شعبہ کے ارکان کے امتزاج سے جو ٹیم تشکیل دی ہے وہ یقینا حکومت کو اقتصادی اور مالی معاملات میں مفید مشاورت فراہم کر سکے گی۔ جس سنجیدگی اور محنت سے وزیر اعظم عمران خان کار حکومت میں مصروف نظر آتے ہیں اس میں اس کمیٹی کا ہر ماہ کم از کم ایک اجلاس اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ وزیر اعظم کی قیادت میں یہ کمیٹی بہت جلد ایسی سفارشات مرتب کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جو ملک کی معیشت کی اصلاح کے وسیع تقاضوں کے مکمل احاطہ اور اہداف کے حصول کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کر سکے گی اور وقتاً فوقتاً اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کے حوالے سے مشاورت بھی فراہم کر سکے گی۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ ہفتہ تک ہونا طے پایا ہے۔ ابتدائی اجلاس نہایت اہم ہونے متوقع ہیں جن میں کمیٹی کا سیکرٹریٹ ممکن ہے اپنے طور پر اقتصادی جائزہ پیش کرے اور معیشت کے فوری اور طویل المیعاد اہداف کا بھی اپنے طور پر احاطہ پیش کرے ۔ جس اعلیٰ پائے کے ماہرین کمیٹی میں شامل ہیں وہ پاکستان کے اقتصادی اور مالیاتی مسائل سے کم آگاہ نہیں ہیں۔ تاہم طویل تجربہ اور تحقیق کی بنا پر ان کے نقطۂ ہائے نظر اور ترجیحات میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس پرمستزاد یہ کہ پاکستان کی سیاسی حکومت کے اپنے اہداف اور مشکلات بھی سامنے آئیں گی۔ پاکستان کی معیشت نہ صرف دباؤ میں ہے بلکہ بعض قوتیں اس دباؤ میں اضافہ کر کے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول پر بھی آمادہ ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کے مزید تین سو ملین ڈالر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی کو ایک طرف ایک متفقہ نقطۂ نظر پر پہنچنا ہے دوسری طرف کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حکومت کو اپنے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانا ہے جو اپنی جگہ ایک اہم کام ہے۔ تاہم ابتدائی چند اجلاسوں کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ کمیٹی کی سفارشات کا رخ معین ہو جائے گا اور سرکاری ادارے ان کی روشنی میں کارکردگی کی اصلاح کی طرف گامزن ہونے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ کمیٹی کی سفارشا ت کو مناسب حد تک عام کیا جائے گا تاکہ کمیٹی سے باہر اگر کوئی ماہرین اپنی رائے دینا چاہیں تو وہ بھی کمیٹی کے زیرِ غور آ سکیں۔ ہر ماہ کم از کم ایک اجلاس کی جس تیز رفتاری سے کمیٹی کام کرے گی اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی معیشت بہت جلد بہتری کی طرف بڑھے گی اور عوام اور سٹیک ہولڈرز اور سرمایہ کار وں کا اس پر اعتماد بڑھے گا۔

متعلقہ خبریں