Daily Mashriq

بیمار شرجیل میمن کے کمرے سے برآمد بوتلیں

بیمار شرجیل میمن کے کمرے سے برآمد بوتلیں

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار جب کراچی میں ہسپتالوں کے دورے پر گئے تو سابق وزیر شرجیل میمن کے کمرے میں بھی بیمار پرسی کے لیے گئے جہاں پر شراب کی تین بوتلیں پائی گئیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ یہ بوتلیں ان کی نہیںہیں ۔ سابق وزیر کے خون کا نمونہ حاصل کیا گیا اور اس خیال کے تحت کے وہ اچھے خاصے صحت مند نظر آ رہے تھے شرجیل میمن کو ہسپتال سے دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔ شرجیل میمن کی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اس پر کہا ہے کہ چیف جسٹس چھاپوں سے زیادہ (زیرِ التوا) مقدمات پر توجہ دیں۔ ہسپتال کے دورے کے دوران اگر چیف جسٹس کسی بیمار زیرِ حراست شخص کی بیمار پرسی کے لیے جائیں تو اسے چھاپہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے ساتھ کوئی چھاپہ مار عملہ نہیں تھا۔ اگر کوئی اس اچانک بیمار پرسی کو چھاپہ کہتا ہے اور اس کو چھاپہ تسلیم کر بھی لیا جاتا ہے تو اس حقیقت کو کیا کہا جائے کہ بیمار زیرِ حراست شخص کے کمرے سے شراب کی تین بوتلیں ملیں جن میں سے دو ایک آدھی بھی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے سندھ کے وزیر سید ناصر حسین شاہ کا یہ بیان شائع ہوا ہے کہ شرجیل میمن کے کمرے سے برآمد ہونے والی بوتلوں میں شہد اور زیتون کا تیل تھا۔ یہ صفائی انہوں نے کس بنیاد پر دی یہ سوال اپنی جگہ ہے ۔ کیا یہ بوتلیں متعلقہ لیبارٹری میں جانے سے پہلے سید ناصر حسین شاہ کے قبضے میں آئیں اور انہوں نے اس میں موجود سیال کا معائنہ کیا؟ یعنی ناصر حسین شاہ کو کیسے اور کب معلوم ہوا کہ شرجیل میمن کے کمرے سے ملنے والی بوتلوں میں شہد اور زیتون کا تیل تھا۔ کیا وہ شرجیل میمن کے کمرے میں آتے جاتے رہے ہیں اور ان بوتلوں کے زیتون اور شہد کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو جیل کے رجسٹروں میں کہیں یہ ضرور لکھا ہوا ہونا چاہیے کہ سید ناصر حسین شاہ دن میںکتنی بار شرجیل میمن کے کمرے میں ان سے ملاقات کرنے جایا کرتے تھے۔ شرجیل میمن نے تو کہا ہے کہ یہ بوتلیں ان کی نہیں ہیں ۔ تو پھر یہ بوتلیں کس کی ہیں؟ اور شرجیل میمن کے کمرے میںکس طرح پہنچیں؟ سید ناصر حسین شاہ جب یہاں تک بتاتے ہیں کہ ان بوتلوں میں کیا تھا تو امکان ہو سکتا ہے کہ یہ بوتلیں ان کی ہوں۔ لیکن شرجیل میمن نے یہ نہیں بتایا کہ ناصر حسین شاہ یہ بوتلیں ان کے کمرے میں رکھ گئے تھے۔ شرجیل میمن اور ناصر حسین شاہ نے اپنے لیے مزید جواب دہی کی مشکلات پیدا کر لی ہیں۔ چیف جسٹس کے ہسپتالوں کے دورے علامتی ہیں وہ متعلقہ حکام کو ان کی کارکردگی کے اسقام سے آگاہ کر رہے ہیں تاکہ سارے نظام میں بہتری آ سکے۔ امید ہے کہ چیف جسٹس جیلوں کے نظام پر بھی توجہ دیں گے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کریں گے کہ جیلوں کا نظام بھی درست کر لیا جائے۔ قید خانوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ قیدیوں کی شکایات کے منظر عام پر آنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ان کی شکایات کے سامنے آنے کا کوئی انتظام کیا جائے گا۔

جلال آباد میں پاک قونصل خانے پر حملہ

جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی بندش کی وجہ سامنے آئی ہے کہ قونصل خانے پر 29اگست کو افغان صوبہ ننگرہار کے گورنر حیات اللہ حیات کی سربراہی میں حملہ کیا گیا تھا اور عمارت کو دو جگہ سے نقصان پہنچایا تھا۔ افغان حکام نے اس حملہ میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایسی صورت حال میںیقینا سفارت کاروں کو خطرے میں ڈالا جاسکتا ہے اور نہ سفارتی کارکردگی ممکن ہے۔ افغان حکومت کا پاکستان کے ساتھ رویہ بالعموم ایسا پایا گیا ہے جس پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ایک طرف صدر اشرف غنی کا وزیر اعظم عمران خان کو تہنیتی پیغام اور مسائل کے حل میں تعاون کی یقین دہانیاںہیں اور دوسری طرف گورنر کی سطح کے عہدیداروں کے قونصل خانے پر حملے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ افغان حکومت قونصل خانے پر حملے میںملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ قونصل خانے پر حملہ سفارت کاری اور باہمی تعلقات کی بہتری کے امکانات پر حملہ ہے جس پر افغان حکومت خاموش نظر آتی ہے۔ ممکن ہے افغان حکمران اپنے سینئر اہل کاروں تک کو ریاستی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے میںناکام رہے ہوں تاہم انہیں کم از کم دنیا دکھاوے کے لیے اس حملے میںملوث لوگوں کے خلاف کارروائی تو کرنی چاہیے تھی۔ لیکن ایسا بھی نہیں کیا گیا۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ جب تک سیکورٹی صورتحال کو بہتر نہیں بنایا جاتا قونصل خانہ نہیں کھولا جائے گا۔ احتجاجاً یہ اقدام اپنی جگہ درست ہے تاہم افغانستان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا جانا چاہیے اور قونصل خانے پر حملے میں ملوث لوگوں کے خلاف قرار واقعی کارروائی کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں