Daily Mashriq

پاکستان کے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات

پاکستان کے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات

پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ملک اور معاشرے کی ترقی اور امن وسلامتی کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔اور وہ پڑوسی جو دیوار کے ساتھ دیوار سے متصل ہوتے ہیں ، بہت اہم ہوتے ہیں ۔ پاکستان کے پڑوسیوں میں چین، ایران ، افغانستان اور ہندوستان شامل ہیں ۔ چین کے ساتھ تعلقات تو پوری دنیا کو معلوم ہے کہ ہمالیہ جیسی بلندی اور بحیرہ عرب جتنی گہرائی پر مشتمل ہیں۔ ایک کڑے وقت میں ایک سپر پاور نے طنز بھی کیا تھا کہ اب کہاںہے پاکستان کے وہ روایتی دوست ، جو مشکل میں اس کے کام آئیں ، چین نے پاکستان کے ساتھ سی پیک معاہدے کے تحت جو تعاون کیا ، وہ پاکستان کی تاریخ میں کسی دوسرے ملک نے نہیں کیا ۔ اور اس وقت پاکستان کی مشکلات کی اہم وجہ یہی سی پیک ہی تو ہے ۔ گوادر پورٹ کا چین کے زیر نگرانی آپریشنل ہونا سپر پاور ، یورپ ، بھارت اور بعض علاقائی مسلمان ملکوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ لیکن ان دومثالی ہمسایہ ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا (انشاء اللہ) اور تعلقات کی پاسداری میں ناقابل یقین کردار ادا کرے گا ۔ بھارے کے ساتھ قیام پاکستان کے بعد بابائے قوم کی خواہش یہ تھی کہ ان دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان امریکہ اور کینیڈا جیسے تعلقات ہونے چاہئیں ۔ لیکن تنگ نظر ہندو پالیسی سازوں نے ایسا ہونے نہیں دیا۔گاندھی کے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل ہونے کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہمسایوں جیسے تعلقات رکھنے کے خواہشمند تھے ۔ واجپائی سے لیکر من موہن سنگھ کے دور اقتدار تک انڈیا پاکستان کئی بار مقبوضہ کشمیر کے بارے میں کسی فیصلہ پر پہنچنے کے بعد کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ بھارتی عقابوں نے پاکستان کے ساتھ امن و سلامتی پر مبنی تعلقات کو استوار نہ ہونے دیا ۔ اور ایک آدھ دفعہ پاکستان کی طرف سے بھی کارگل کی صورت میں ایسا ہی ہوا لیکن سچی بات یہ ہے کہ بھارت اپنی بڑائی اور طاقت کے زعم میں پاکستان کے بارے میں ’’انگوٹھے کے تحت رکھنے‘‘کی پالیسی پر زیادہ عمل پیرا رہا ہے جو پاکستان کو کسی صورت قبول نہیں ۔ ان دو پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات کے بگاڑ میں بنیادی مسئلہ مقبوضہ جموں کشمیر ہے جس کو بھارت اپنی ضد ، انا اور ہٹ دھرمی کا مسئلہ بنائے ہوئے ہے ۔ اور اب اُس کی کوشش یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 35-Aکو منسوخ کردے تاکہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت بھارت سے آئے سرمایہ دار ہندوآباد کاروں کو وہاں جائیداد خریدنے او رمستقل طور پر رہائش پذیر ہونے کا حق حاصل ہو سکے ۔ لہٰذا یہ بنیادی مسئلہ حل ہوئے بغیر خوشگوار اور پر امن تعلقات کا قائم ہونا ممکن نظر نہیں آتا، اگرچہ چین نے کئی بار ان دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے چین کی خواہش ہے کہ سی پیک کی تکمیل و کامیابی اور اس کے ذریعے خطے میں چین کے نئے کردار میں بھارت مزاحم نہ ہو۔ لیکن لگتا ہے کہ چونکہ بھارت کی پشت پر اس وقت سپر پاور کی معاشی اور ٹیکنالوجیکل حمایت و تعاون ہے اس لئے وہ اتراتا پھرتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان جنم جنم کے مذہبی اور ثقافتی رشتے ناتے چلے آرہے ہیں اس لئے عوام کی سطح پر تعلقات عموماً برادرانہ اور خوشگوار رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان ہمیشہ سے بد اعتمادی رہی ہے۔ خصوصاً 9/11 کے بعد جو تماشا بنا اور امریکہ اور بھارت اور نیٹو افواج ہمارے پڑوس میں مقیم ہوئے تب سے تو حالات بہت کشیدہ ہوئے ہیں اس لئے مسئلے کا حل آسانی سے ممکن نظر نہیں آتا۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے یہ عجیب بات ہے کہ رضا شاہ پہلوی کی لبرل حکومت سے لے کر موجودہ قدامت پرستوں کی حکومت تک تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں لیکن خراب کبھی نہیں ہوئے ہیں۔ 1965ء کی لڑائی میں ایران کا برادرانہ تعلق ناقابل فراموش رہا ہے۔ 1971ء کے انقلاب کے بعد بعض اوقات مذہبی و مسلکی اختلافات کے سبب جس میں بیرونی قوتوں کا ہاتھ زیادہ تھا تعلقات ضرور کشیدہ ہوتے رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر بہت جلد دونوں طرف سے اعتدال کا موقف اختیار کرنے پر معمول پر آجاتے۔

پچھلے چند برسوں میں بھی یہی انداز رہا۔ گلے شکوے دونوں طرف سے جاری رہے چاہ بہار کی بندر گاہ میں بھارت کا عمل دخل اور کلبھوشن کی گرفتاری سے دونوں ملکوں کے درمیان دل گرفتگی رہی۔ لیکن پاکستان میں نئی حکومت کے آنے پر ایران کی طرف سے خیر مقدم اور ایران پر امریکہ کے دبائو ‘ پابندیوں اور امریکہ ہی کی طرف سے پاکستان پر دبائو نے دونوں پڑوسی و برادر ملکوں کو ایک دفعہ پھر قریب ہونے پر مجبور کیا۔

گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ کاامریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان سے قبل دورہ پاکستان نئے سرے سے گرم جوشی کی نوید ہے۔ ایران کی طرف سے مقبوضہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین اور گستاخانہ خاکوں پر پاکستانی موقف کی تائید و حمایت قریبی تعلقات کی تجدید میں ایک نیا موڑ ہے۔ پاکستان نے جواباً ایران کے ایٹمی معاہدے پر حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں برادر ہمسایہ ملک سارے چھوٹے موٹے اختلافات اور مفادات سے بالاتر ہو کر مشترک مفادات کے حصول و حفاظت کے لئے کئے گئے معاہدوں ( ایران سے گیس پائپ لائن اور بجلی کی درآمد) پر جلد از جلد عمل کیا جائے اور جس طرح چین اور بھارت امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل درآمد کرتے ہیں پاکستان بھی ایران کے ساتھ تجارت بڑھائے اور مقامی کرنسیوں میں تجارت شروع کرے۔ روپے اور تومان جڑواں کرنسیاں ڈیکلیئر ہونے سے ایک انقلاب آئے گا۔ آگے جا کر اگر ترکی لیرا بھی اس میں شامل ہو جائے تو اس کے خطے پر بہت مثبت معاشی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

متعلقہ خبریں