Daily Mashriq


دو دن کے سفر کی باتیں

دو دن کے سفر کی باتیں

پچھلے دو دن سفر‘ ملاقاتوں اور ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے گزرے۔ پوٹھوار کے خالص دیہاتی ماحول میں زندگی بسر کرتی اور محنت و مشقت سے تعمیر ذات کرتی میری چھوٹی بہن نے جس لگن سے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر دھیان دیا یہ اس کا نتیجہ ہے کہ آج اس کے بچے اس کے سسرال اور بچوں کے ننھیال میں دونوں ہاتھوں سے محبتیں سمیٹتے ہیں۔ تین دن ادھر کمپیوٹر سائنس میں لیکچرار بھانجی زندگی کے نئے سفر پر روانہ ہوئی‘ رخصتی کے وقت اس کے چھ ماموئوں میں سے پانچ خیر و برکت کے لئے دست دعا بلند کئے ہوئے تھے۔ قرآن مجید اور درود سرکار احمد مرسلؐ کی چھائوں میں بھانجی کو رخصت کیا۔ ان لمحوں میں شدت کے ساتھ مجھے اپنی والدہ محترمہ یاد آئیں‘ آنسو چھپاتے بنی۔ اپنی ذات سے بندھی ایک تقریب اور رشتے کا ذکر اس لئے کیا کہ حالات کیسے اور ماحول جیسا بھی ہو اولاد کی تعلیم و تربیت میں والدین کو کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہئے۔ لاہور سے خطہ پوٹھوار کے دور دراز کے قصبے دو بیرن تک کا سفر بڑا دلچسپ رہا۔ ٹرین میں پچھلی نشستوں پر تشریف فرما ہم سے چند سال بڑے دو بزرگوں نے پورے پانچ گھنٹے ملکی سیاست‘ اخلاقیات‘ دینداری‘ پولیس اور پٹرول پمپوں والوں کی چیرہ دستیوں پر کھل کر اور بلند آواز گفتگو فرمائی۔ دونوں بزرگ عمران خان کے تبدیلی پروگرام کے حوالے سے پر امید تھے۔ نواز شریف اور زر داری سے ان کا کوئی ذاتی جھگڑا تھا‘ خدا جانے کوئی پیسوں کا تنازعہ تھا یا دو ایکڑ زمین کا۔ بلند آواز میں جاری گفتگو کے دوران ایک بزرگ کہہ رہے تھے نواز شریف اور زرداری نے نچوڑ کے رکھ دیا ہے قومی خزانے کو‘ دوسرے بولے نواز کی تو بات ہی نہ کریں وہ تو بھارت نواز تھا۔ فقیر نے ان کی خدمت میں عرض کیا وہ جو جنرل ضیاء الحق نے ایک مندر میں گھڑیال بجایا تھا وہ؟ تڑخ کربولے شہیدوں کا مذاق نہیں اڑاتے۔ شکر ہے کہ اس مرحلے میں ساتھ والی نشست پر بیٹھے نوجوان نے مدد کی اور پچھلی نشست پر تشریف فرما بزرگوں سے کہا‘ قبلہ یہ ٹرین ہے گفتگو اتنی آواز میں کیجئے کہ دوسرے ڈسٹرب نہ ہوں۔ اب ساتھ والی نشست پر بیٹھے نوجوان سے تعارف ہوا۔ احمد حلیم چودھری‘ گزری شب بیرون ملک سے لاہور پہنچے تھے‘ راولپنڈی کے قریب ایک گائوں کے پشتینی باسی‘ آکسفورڈ کے طالب علم ہیں۔ مطالعہ بہت اچھا اور مشاہدہ کمال کا تھا۔ اس نوجوان کا موقف تھا اہل پاکستان جتنا وقت ایک دوسرے کی برائیوں میں صرف کرتے ہیں اس کا نصف بھی اگر وہ تقابلی مطالعے کو دیں تو فکری جہالت سے دائمی نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگلے اڑھائی تین گھنٹے ان سے خوب محفل جمی۔ گفتگو میں تسلسل تھا روایتی نوجوانوں کی طرح آدھی کچی پکی بات کرنے کی بجائے دلیل سے اپنے موقف کی عمارت اٹھانے کا ہنر بہت اعلیٰ تھا۔ خاندانی پس منظر بارے دریافت کرنے پر بتایا کہ والد اب اس دنیا میں نہیں تین بہن بھائی ہیں اور تینوں تعلیم کے آخری سالوں میں ہیں۔ بہن ڈاکٹر بننے والی ہیں‘ ایک بھائی سیاسیات میں ایم اے ہے اور ان دنوں بر صغیر کے سیاسی اتار چڑھائو پر پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔ وہ خود معاشیات کے طالب علم ہیں ترکے میں ملی اراضی کا 30 فیصد راولپنڈی میں اور 70فیصد ضلع وہاڑی میں ہے۔ ان کی والدہ اپنے بھائی کے تعاون سے حاضر زمیندار کے طور پر عشرہ بھر سے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں‘ ان ( والدہ محترمہ) کی خواہش ہے کہ بچے اپنی پسند کے مضامین میں جہاں تک پڑھ سکتے ہیں پڑھیں۔ دیہی علاقوں میں علم دوستی کی شاندار مثالیں قدم قدم پر ملتی ہیں۔ سفر کا اختتام ہوا تو انہیں دعائوں سے رخصت کیا۔ نوجوان نے ٹرین سے اترتے دونوں بزرگوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا‘ بزرگو کسی دن ٹھنڈے دل سے اس سوال پر غور ضرور کیجئے گا کہ جس نئی نسل سے آپ شاکی ہیں اس کو آپ لوگوں نے دیا کیا ہے‘ سوائے سارے جہان کی برائیاں کرنے اور خود کو تقدس مآب سمجھنے کے؟۔ واپسی کے سفر سے قبل اسلام آباد میں ترقی پسند شعور کے حامل نوجوان دوست یاسر عرفات کی میزبانی اور محفل سے استفادہ کیا۔ یاسر عرفات کے دادا پروفیسر مداح حسین اسلامیہ کالج گورو مندر کراچی میں فارسی کے پروفیسر تھے۔ والد اختر حسین مسلم 1970ء کی دہائی کی کراچی کے معروف اخبار نویس اور خود ایک نجی کمپنی میں اعلیٰ منصب پر ہے۔ علم دوستی یاسر عرفات کو ورثے میں ملی۔ ان کی محفل میں ڈھیروں باتیں ہوئیں۔ سیاست 1980ء کی دہائی تک کے دائیں بائیں بازو کے دھڑوں کی سیاسی اٹھان‘ علم و ادب اوردوسرے موضوعات تھے۔ گفتگو کے دوران فقیر نے عرض کیا کہ پاکستان میں ترقی پسندانہ سیاست اور مذہبی سیاست کے علمبرداروں نے اپنے اپنے وقت پر ثابت کیا کہ ان سے بڑا خود غرض اور کوئی نہیں۔ انتہا پسندی اور عدم برداشت کا سودا دونوں نے فروخت کیا مگر ایک اعتدال پسند سماج کی تشکیل اور عادلانہ نظام و مساوات کا قیام کسی کے بھی پیش نظر نہیں تھا چند بزرگوں کا علم‘ مکالمہ اور اخلاص اپنی جگہ لیکن سماجی اٹھان کے تقاضوں سے منہ موڑا گیا جس کے نتائج ہم بھگت رہے ہیں۔ ہماری یہ بھی بد قسمتی ہے کہ جس طرح ہم صرف سیاستدانوں کو کرپٹ سمجھتے ہیں اسی طرح بدیسی تاریخ کو گلے سے لگائے اپنے اصل سے کٹے ہوئے ہیں۔ ہمارا اصل ہماری زمین‘ تہذیب اور تاریخ سے بندھا مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ’’رہنے کو گھر نہیں سارا جہاں ہمارا‘‘

متعلقہ خبریں