Daily Mashriq


ایک خدشہ ، ایک اقدام

ایک خدشہ ، ایک اقدام

نے کہیں پڑھا تھا کہ ’’لوگوں کے لئے صرف وہ جرم ہوتا ہے جو کسی دوسرے نے کیا ہو‘‘اور اس بات کو باربار زندگی میں حقیقت کی کسوٹی پر تلتے اور سچ ہوتے میں نے خود دیکھا ہے ۔ بات صرف لوگوں تک ہی موقوف نہیں ، یہ بات قوموں میں بھی دکھائی دیتی ہے ۔ اس ملک میں مشرق اور مغرب کی تہذیبوں کے فرق کی زبان بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے ۔ مذاہب کی تقسیم بھی اس بات کو مزید مستحکم کردیتی ہے ۔ ہر بار ایک نئی صورت میں ایک نئی حیثیت سے یہ بات نگاہوں کے سامنے آکر کھڑی ہو جاتی ہے ۔ یہ بات مجھے دوبارہ اس لیے یاد آنے لگی کیونکہ کسی نے مجھے بنا سیاق وسباق کے ایک وٹس ایپ میسج کیا UN watchکے ایک اجلاس کی ایک ننھی سی فوٹیج تھی ۔ UN watch، جنیوا ، سوئٹرزلینڈ میں اقوام متحدہ کے ہی تحت بنائی گئی ایک این جی او ہے جو انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے کام سے جانی جاتی ہے ۔ اس این جی او نے کانگو اور دارفرمیں ہونے والے معاملات پر خاصی آواز بھی اٹھائی تھی ۔ چین ، وینزویلا ، کیوبا اور روس میں بھی ہونے والے انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کا بھی خاصا پروپیگنڈا ، اسی این جی او نے کیا تھا ۔ یہ این جی او اسرائیل مخالف جذبات کے حوالے سے بھی خاصا کام کرتی رہتی ہے ۔ اس کلپ کے مجھے بھیجے جانے کے بعد میں نے اس این جی او کے حوالے سے کچھ تحقیق بھی کی تو معلوم ہوا کہ اسرائیل سے محبت اور تعلق پر اس این جی او کو مسلسل سراہا جاتا رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے گزشتہ سیکرٹری جنرل کو فی عنان نے اس حوالے سے اس این جی او کی خدمات کو خاصا سراہا تھا ۔ یہ کلپ اسی این جی او کے ایک اجلاس کی ہے جس میں الطاف حسین اور پاکستان میں موجود پچاس ملین مہاجرین کے حوالے سے توجہ دلائی گئی ہے ۔ نہ صرف اس میںالطاف حسین پر پاکستانی حکومت کی زبان بندی کا ذکر ہے بلکہ اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ الطاف حسین اپنی جان کے خوف کی وجہ سے برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں ۔ میںشاید اس بات کے حوالے سے اتنی جذباتی نہ ہوتی کیونکہ مغرب کا اپنا ایک ایجنڈا ہے جس پر وہ مسلسل کا ربند رہتا ہے ۔

پاکستان سے مغرب کو خاصا خطرہ بھی محسوس ہوتا ہے اسی لئے وہ ہمیں مسلسل مشکلات و معاملات میں اُلجھائے رکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ پاکستان کو قدرت کی ودیعت کردہ جغرافیائی نعمتوں سے بھی بخوبی واقف ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان کتنی اہم راہداری بن سکتا ہے ، تبھی تو انہوں نے کبھی ایک ، کبھی دوسرے طور سے پاکستان کو مسائل میں اُلجھا کر رکھا ہے ۔ یہ این جی او اسرائیل کی جانب اپنے جھکائو کی وجہ سے تو مشہورر ہی ہے لیکن اگر یہ الطاف حسین اور پاکستانی مہاجرین کی بات کر رہے ہیں تو یقیناً اس کا مطلب ہے کہ مغرب کی جانب سے ہم ایک پراپیگنڈے کا شکار ہونے والے ہیں ۔ اور یہ بات اس وقت اور بھی اہمیت اختیار کرجاتی ہے جب 28اگست2018ء کو شیریں مزاری کی جانب سے امریکی ادارے ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر کو ایک جوابی خط لکھا گیا جس میں نہایت ہی خوبصورت ، مناسب اور مضبوط پیرائے میں ان کی جانب سے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کے اظہار کا جواب دیا گیا ۔ یہ خط نہ صرف موجودہ حکومت کی پاکستان سے محبت کا غماز ہے بلکہ اس بات کا بھی عکاس ہے کہ کچھ محب وطن لوگ اب یوں اقتدار میں موجود ہیں کہ مغرب کے لیے انہیں بے وجہ دبائو کا شکار کرنا ، یا ملک کے نقصان پر آمادہ کرنا ممکن نہ رہے گا۔ اس خط میں جہاں پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے حکومت پاکستان کے ارادوں کا ذکر ہے وہیں کشمیر اور فلسطین میں ہوتی انسانی حقوق کی پامالی کی جانب خصوصی توجہ دلائی گئی ہے ۔ بات یہیں تک موقوف نہیں ،نہایت مدبرانہ طور سے کئی یورپی ممالک کے ان رویوں کی جانب بھی اشارہ کیا گیا جہاں مسلمانوں کو اپنے مذہب کے حوالے سے کسی قسم کی آزادی نہیں ۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی توجہ اس جانب دلاتے ہوئے انہیں مہمیز بھی کیا گیا ہے کہ چونکہ ان کا کام پوری دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی کے بچائو کے اقدامات کرنا ہے اس لیے انہیں ان باتوں کا خصوصی جائزہ لینا چاہیئے ۔ احسن اقدامات کی تعریف ہونی بہت ضروری ہے اور تجزیہ کار کا کام حکومتی حلقوں کی مدد کرنا بھی ہے تاکہ جس جانب سے خطرہ محسوس ہوتا ہو اس کی نشاندہی کرنا اور توجہ دلانا بھی اہم کام ہے ۔ تنقید اپنی جگہ لیکن کسی بھی احسن اقدام کے نتیجے میں تالی ضرور بجنی چاہیئے ۔ اور حکومت وقت کی توجہ اس جانب بھی ہونی چاہیئے کہ ان کی مضبوطی مغرب کے لیے بہت تکلیف دہ ہوگی ۔ اور یہ کلیہ مغرب کا ہی ہے کہ صرف دوسروں کا کیا گیا جرم ہوتا ہے ۔ اگرچہ اس کی مثال اب ہمیں اپنے معاشرے میں بہت ملتی ہے ۔ الطاف حسین کو خاموش کرائے ذرا وقت ہوگیا ، وہ اب بھی خاموش رہیںگے تو رہی سہی سیاست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ، سو اب اس جانب سے بھی شور اٹھنے کا خدشہ ہے ۔ اللہ کرے ہماری حکومت مضبوط رہے اور اس کے مقاصد ان کے لئے ہمیشہ ہی اتنے واضح رہیں ۔ پاکستان کے لیے یہ وقت بہت اہم ہے ۔

متعلقہ خبریں