Daily Mashriq

شہد اور زیتون،اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کردیا

شہد اور زیتون،اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کردیا

کیا زمانہ آگیا ہے ، پہلے لوگ شہد چاٹتے تھے یا زیادہ سے زیادہ کھا لیتے تھے مگر اب حالات میں تبدیلی آرہی ہے اور لوگ شہد پینے بھی لگے ہیں ، بلکہ شہد پی کر ’’اڑان‘‘ بھی بھرنے لگتے ہیں ، اور دوسری دنیا میں پہنچ جاتے ہیں ۔ حالانکہ اس سے پہلے اڑنے کا کام صرف پروانے کرتے تھے جو شہد کے بائی پراڈکٹ پر دیوانہ وار رقص کر کے جان تک نثار کر دیتے تھے ۔ اس حوالے سے ایک استاد نے کیاخوب کہا ہے کہ 

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو

کہ ناحق خون پر وانے کا ہوگا

ایک شعر کے اندر پوری کہانی کس خوبصورتی سے بیان کردی ہے کہ مگس یعنی شہد کی مکھی کو باغ میں جانے نہ دینا کہ وہ وہاں جا کر پھولوں کا رس چوس کر شہد بنائے گی اور شہد کے چھتے میں موم بھی بن جائے گا ، اس سے موم بتی بن جائے گی ، جس کی روشنی کے گرد رقص کرتے ہوئے پروانہ اپنی جان سے جائے گا۔ پروانہ توخیر کیا اڑان بھرتا ہوگا کہ اس کی ساری پرواز ایک شمع کے گرد ہی محدود ہوتی ہے اور اسی میں اس کی جان بھی چلی جاتی ہے مگر اس نئی قسم کا شہد پینے والے تو ایسی ایسی اڑانیں بھرتے ہیں کہ نئی دنیائوں میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر بھی ان کی اڑان بھرنے کی خواہش ادھوری رہتی ہے ۔ اگلے روز پھر اسی شہد کومنہ سے لگاتے ہوئے کہتے ہیں چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی ۔ کیونکہ انہیں ایک بار پھر نئی دنیائوں کی سیر جو کرنا ہوتی ہے ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ جس شہد کو یہ منہ لگا رہے ہیں بالآخراس کی وجہ سے جان بھی چلی جاتی ہے مگر یہ اس کا فرشہد کو یہ کہہ کر پیتے رہتے ہیں کہ

تو وہ قاتل تما شا دیکھنے کوخون کرے میرا

میں وہ بسمل کہ زیر خنجر خونخوار رقصاں ہوں

اس نئے طرز کے شہد کی ایجاد کا سہرا کس کے سر ہے اس حوالے سے راوی خاموش ہے۔ دراصل اسے خوف ہے کہ اگر کسی ایک کا نام لے دیا تو دوسراناراض ہو جائے گا ، کیونکہ اکثر لوگ نئی ایجادات کا سہرا اپنے سر لینے پر اس لئے مصر ہیں کہ اس طرح ان کانام ہوجائے گا مگر یہ واحد ایسی ایجاد ہے جس کا کریڈٹ لینے کو شاید کوئی بھی تیار نہ ہو ، حالانکہ پہلی بار اس کانام اس وقت سامنے آیا جب ایک زلف دراز کی گاڑی کی تلاشی لینے پر اسلام آباد پولیس کے ہاتھ اس کی بوتل لگی جس پرلیبل کسی مغربی کمپنی کا لگا تھا ، اب گزشتہ روزکراچی کے ایک ہسپتال میں ایک خاص مریض کے کمرے پر چھاپہ پڑنے کے دوران اسی نوعیت کا شہد چیف جسٹس کے ہاتھ لگا ہے ، اور صرف ’’شہد‘‘رکھنے کی پاداش میں بے چارے مریض کو فائیو سٹار ہوٹل جیسی سہولیات والے ہسپتال کے ’’بہشتی‘‘ کمرے سے ہاتھ دھونا پڑے اور موصوف کو دوبارہ جیل بھجوانے کا حکم سامنے آیا ، حالانکہ جیلوں سے نکل کر اس قسم کے ’’بہشتی ہسپتالوں ‘‘تک پہنچنے میں لوگوں کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس حوالے سے معلومات عوام کو پہلے ہی حاصل ہیں ، مگر شاید اسے ہی کہتے ہیں رنگ میں بھنگ ڈالنا یعنی جناب چیف جسٹس نے بے چارے دل کے مریض اس ’’بہشتی قیدی‘‘ کے ساتھ جو کچھ کیا اسے رنگ اور بھنگ والے محاورے کے علاوہ کن الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔ اگرچہ مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان کا ایک شعر بھی اس صورتحال پر منطبق ہوتا ہے کہ

پیئں نہ رندیہ واعظ کے بس کی بات نہیں

تمام شہر ہے ، دوچار ، دس کی بات نہیں

یہ جیل وغیرہ تو غریب غربا قسم کے لوگوں کیلئے ہوتے ہیں ، جبکہ ’’شہد‘‘پینے والے قیدیوں کیلئے کیا جیل کیا ہوٹل اور کیا گھر ایک ہی بات ہے ، یہ تو جنگل میں منگل کا بندوبست بھی کر لیتے ہیں ۔ انہیں تو وہاں بھی سہولیات کا کوئی فقدان نہیں ہوتا اور اس نئی قسم کے شہد کی بوتلیں وہاں بھی پہنچ جاتی ہیں جہاں ان کے قدوم میمنت لزوم پڑتے ہیں ، کیا ہم ان خبروں کو بھول جائیں جو چند ماہ پہلے ہی میڈیا پر عام اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھیں جن کے مطابق پارلیمنٹ لاجزکے مختلف کمروں سے بھی نئے شہد کی بوتلیں برآمد ہوئی تھیں۔ ہمیں تو ماضی کے اس لیڈر کا وہ ڈائیلاگ بھی یادہے جس پر ’’شہد‘‘ پینے کا الزام لگاتو اس نے بر سرعام کہا ، ہاں پیتا ہوں ، ’’شہد‘‘ پیتا ہوں غریبوں کا خون تو نہیں پیتا ، پھر کیا تھا ، آج کی سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی جماعتوں کے سرگرم سیاسی جموروں کی طرح جو اپنے اپنے لیڈروں کی ہر بات کو تائید کی بیسا کھیوں سے درست اور مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کو ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں، اس دور کے سیاسی جیالوں نے بھی اپنے لیڈر کے اس ڈائیلاگ پر وہ تالیاں پیٹی تھیں کہ آسمان سر پر اٹھا لیا تھا ۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اسی جماعت کے ایک نیم سربراہ نے گزشتہ دنوں ایک جلسے کے دوران سرعام اسی ’’شہد‘‘ کو پینے کا مظاہرہ کیا ، تاہم موصوف نے شہد پیتے ہوئے اپنے چہرے کے سامنے کپڑا ضرور رکھا تاکہ کم از کم ’’شہد ‘‘کے برانڈ کی تشہیر نہ ہوسکے ، یقین نہیں آتا تو یہ پوسٹ اب بھی مختصر سی ویڈیوکی شکل میں ٹویٹر اور فیس بک پر دیکھی جا سکتی ہے ۔ بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ چیف جسٹس کے چھاپے کے بعد یہ معاملہ کہاں جاکر رکتا ہے کہ جن کے کمرے سے برآمدگی ہوئی ان کے بارے میں سندھ حکومت کے ایک ذمہ دار کا بیان کچھ اور کہانی سنا رہا ہے اور بالآخر ہوگا بھی یہی کہ نہ تو لیبارٹری ’’شہد‘‘ کی تصدیق کرے گی نہ ہی ایف آئی آر اصلی شہد اور زیتون کے تیل کی کہانی سے آگے جائے گی ۔ یعنی اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کردیا۔

متعلقہ خبریں