Daily Mashriq

سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

آپ کی آمد سے پہلے کفار مکہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ لیکن آپ نے ان کو بتوں کی پوجا پاٹ سے نہ صرف روکا بلکہ اللہ تعالیٰ کے 99 صفاتی ناموں کی مدد سے بت پرستوں کو بتایا کہ تم رب ذوالجلال کو ان صفاتی ناموں کے ذریعے تصور میں تو لا سکتے ہو لیکن اس کی تصویر نہیں بناسکتے اس کا بت بنا کر پوجا پاٹ نہیں کرسکتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے 99صفاتی ناموں سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح حضور نبی کریم کی ﷺ ذات گرامی بھی اپنے 99صفاتی ناموں کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔ آپ کو کسی تصویر کے قالب میں ڈھالا نہیں جاسکتا اور اگر خدانخواستہ کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو عاشقان رسولﷺ نے اس کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے کہ ان کی نظر میں ایسا کرنا کفر ہی نہیں گستاخی رسول مقبول بھی ہے۔ جسے کوئی بھی سچا مسلمان کسی صورت بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ وہ ناموس رسالت مآب ﷺ پر اپنی جان مال ماں باپ اور بیوی بچوں تک کو قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے مغرب والوں نے حضور نبی کریم ﷺکی ذات گرامی کو فلمانا چاہا۔ جب یہ خبر فرزندان توحید کے کانوں تک پہنچی تو وہ لشکر جرار بن کر سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ بجلی بن کر کڑکے بادل بن کر گرجے شعلہ بن کر لپکے درد بن کر تڑپے ایسا ، ایک بار نہیں بار بار ہوا۔ آپ کی فرضی تصویر یا مووی بنانے کی کوشش کی گئی اور فرزندان توحید کا بچہ بچہ ایسی مذموم حرکت کے خلاف سینہ سپر ہوکر غلام ہیں غلام ہیں حضورکے غلام ہیں کے فلک شگاف نعرے بن کر فضاؤں میں بکھرنے لگے۔ یوں لگتا ہے اسلام دشمن باطل اور طاغوتی قوتیں ہر دور میں مسلمانوں کے مذہبی جوش اور جذبے کو آزمانے کے لئے ایسی نازیبا اور گستاخانہ حرکتیں کرتی رہی ہیں۔ مسلمانوں کی دل آزاری کرکے ان کا مقصد شر فساد اور بد امنی پیدا کرنا ہوتا ہے اور وہ اپنے مذموم ارادوں میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوجاتی ہیں۔ چند سال ادھر کی بات ہے جب حضور ﷺ کی ذات گرامی کو فلمانے کی خبر وطن عزیز کے مسلمانوں تک پہنچی تو وہ آگ بگولا ہوکر سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بھسم کرکے رکھ دئیے درجنوں سینما ہال۔ ناقابل تلافی نقصان پہنچادیا اپنی قومی املاکات کو ، خس و خاشاک کی طرح بہا لے گئے ہر اس رکاوٹ کو جو ان کے راستے میں آئی ، ان کی ان حرکتوں کو دیکھ کر ہم لہو کے آنسو روتے ہوئے 

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

کا شکوہ یا شکایت کرنے لگے۔ادھر ہم لہو کے آنسو رو رہے تھے اور ادھر وہ ستم ایجاد شیطانی قہقہے بلند کر کے اپنے مقصد میں کامیابی کا جشن منارہے تھے ۔اصل میں ان کا مقصد ہی فرزندان توحید اور عاشقان رسول مقبول ﷺ کو ہیجانی کیفیت میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔ وہ ایسا کرنے کے لئے گستاخی رسول ﷺ کا ارتکاب کرتے ہیں اور آقائے نامدار ﷺ سے عشق اور محبت کے دعوے دار مسلمان ہائے ہائے کرتے جان و دل فدا کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔گستا خان رسول مقبول صرف ہالینڈ کے ناعاقبت اندیش خاکہ گر ہی نہیں ، مسلمانوں کے مذہبی جوش اور جذبوں کو چھیڑنے اور ان کی دل آزاری کرنے والے ملک سے باہرہی نہیں ملک کے اندر بھی موجود ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کو اپنے جیسا عام آدمی سمجھنا حضورؐ کی شان اقدس میں گستاخی نہیں تو اور کیا ہے۔ خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت سے انکار کرنا بھی گستاخی ہے جسے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جرم قرار دے کر منکران ختم نبوت کو کافر قرار دے دیا۔ آقا کی شان گرامی کی گستاخی کرنے والوں کے دانت کھٹے کرنے کے لئے قوم کا بچہ بچہ ہمہ وقت غازی علم الدین شہید ، اور بھٹو شہید بننا چاہتا ہے۔ لیکن ہم ان کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ہمارے نبی رحمت گستاخی کرنیوالوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیتے ۔ گستاخان رسول تو آپ کو سجدے کی حالت میں دیکھ کر ان کی پشت مبارک پر جانوروں کی اوجھڑی ڈال دیتے تھے۔ آپ تو کوڑا پھینکنے والی کی بیمار پرسی کرنے ان کے گھر چلے جاتے۔ طائف کی گلیوں میں دین اسلام کا پیغام لیکر پہنچے تو آپکو لہو لہان کردیا گیا لیکن آپ ایسا کرنے والوں کو دعائیں دیتے رہے۔ آپ نے کسی کی کسی بھی گستاخی کی کوئی پرواہ نہ کی ، ان کی صداقت اور امانت کی قسمیں کھانے والے ان کے خون کے پیاسے ہوگئے تو انہوں نے ان کی اس حرکت کی کوئی پرواہ کی نہ برا منایا، بھلا ان کو کب اور کیا پرواہ ہوتی گستاخی کرنے والوں کی مذموم حرکتوں کی ، آپ کے نام کا کلمہ تو پتھر بھی پڑھ رہے تھے، ہمیں چاہئے کہ ہم ہر مشکل گھڑی میں حضور نبی کریمؐ کی حیات طیبہ اور خلق عظیم سے درس حاصل کریں ، اور اگر دشمن کو معاف نہیں کرسکتے تو ملک اور قوم کے امن و سکون کو تباہ نہ کریں، آپ کا خلق عظیم ہم کو حوصلہ برداشت اورمعاف کرنے کا درس عظیم دیتا ہے۔

سلام اس پرکہ اسرار محبت جس نے سکھلائے

سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں

سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

سلام اس پر کہ دشمن کو حیات جاوداں دے دی

سلام اس پر، ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی

سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں

سلام اس پر، ہوا مجروح جو بازار طائف میں

متعلقہ خبریں