Daily Mashriq

یو آن، تجارتی توازن برقرار رکھا جائے

یو آن، تجارتی توازن برقرار رکھا جائے

پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور معاہدے چینی کرنسی یو آن میں کرنے کا فیصلہ اہم ہے خطے کی مقامی تجارت کو ڈالر کی بجائے مقامی کرنسی میں کرنے سے دونوں ممالک کو اپنی کرنسی ڈالر میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی جس سے پاکستان اور چین کو تقریباًچودہ ارب ساٹھ کروڑڈالر کی خریداری نہیں کرنی پڑے گی علاوہ ازیں ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھائو کے باعث مصنوعات کے نرخوں پر اثر نہیں پڑے گا اور قیمتیں مستحکم رہنے سے تاجروں کیلئے مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال پیش نہیں آئے گی ڈالر کی خریداری سے گریز اور ڈالر کے استعمال میں کمی آنے سے ڈالر کی قیمت کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کی شرح میں کمی آئے گی جس سے دونوں ممالک کے تاجروں کو فائدہ ہوگا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اچھی ابتداء ہے جس کو وقت کے ساتھ آگے بڑھانے کے مواقع ملیں گے پاکستان اور چین کے درمیان چینی کرنسی میں تجارت کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی واضح ہونے کے بعد ان ممالک کی جانب سے بھی تجارت مقامی وعلاقائی کرنسی میں ہونے کی حوصلہ افزائی ہوگی اور خطے میں تجارت کے فروغ میں زرمبادلہ کی جو بچت ہوگی وہ بین الاقوامی ادائیگیوں کے کام آئے گا خاص طور پر پاکستان کو قرضوں کو ڈالر میں ادائیگی کرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کے جو مسائل سامنے آئے تھے اس میں پاکستان کو کافی فائدہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اچھی ابتداء ہوگی جس سے خطے کے ممالک کے درمیان باہم تجارت کا حجم بھی بڑھے گا اور تاجروں کو بھی مقامی کرنسی میں تجارت سے آسانی ہوگی۔روپے کی قدر میں بار بار کمی اور ڈالر کی قیمت میں بار بار اضافہ سے اشیاء کی اچانک مہنگائی کا معمول بن جانے سے حکومت اور عوام جن مشکلات کا شکار رہتے ہیں اس فیصلے کے بعد اس میںکمی آنا ممکن ہوگا تاجروں اور صارفین دونوں کو ریلیف میسر آنے اور مزید چینی مصنوعات اور متوع اشیاء کے مارکیٹ میں آنے کی حوصلہ افزائی ہوگی جن اشیاء کو ہم در آمد کرنے پر مجبور ہیں اور غیر ملکی مصنوعات کے بغیر گزارہ نہیں وہ اپنی جگہ اب وقت آگیا ہے کہ غیر ملکی مصنوعات سے جان چھڑانے کیلئے سمگلنگ کی مکمل روک تھام کی جائے اور جو مصنوعات درآمد ہوں ان پر ٹیکس کی وصولی یقینی بنانے کے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔چین سے تجارت اور چینی مصنوعات کی چینی کرنسی میں خریدوفروخت کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ تجارت کو متوازن بنانے کی سعی ہی بہتر ہوگا چین کے ساتھ درآمدات وبر آمدات کا توازن ہی تجارتی خسارے میں کمی لانے کا باعث ہوگا فی الوقت چین کے ساتھ ہماری تجارت کا حجم اور توازن ہمارے حق میں نہیں تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق چین کے ساتھ تجارت میں پاکستان کو سالانہ دس ارب ڈالر کا خسارہ ہے جس میں کمی لانے کی ضرورت ہے علاوہ ازیں چینی مصنوعات کے سستی ہونے سے پاکستانی صنعتیں بری طرح متاثر ہورہی ہیں صارفین کی سستی چینی مصنوعات کی خریداری اور مقامی مصنوعات کی مہنگائی ایک مستقل مسئلہ ہے اس کا کوئی موزوں حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے مقامی کارخانوں کی بندش سے بیروزگاری اور مقامی کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے لہٰذا چینی کرنسی میں لین دین ضرور کی جائے لیکن چینی مصنوعات کی مارکیٹ پر چھاجانے اور اجارہ داری ہونے نہ دی جائے اور تجارت کا توازن برقرار رکھا جائے۔

سمگلنگ کی اشیاکے خلاف مہم کے تقاضے

صوبائی دارالحکومت پشاور اور اس سے متصل ضلع نوشہرہ اور ضلع خیبر میں سمگل شدہ سامان رکھنے والوں کے خلاف کارروائی اور گنڈے ماری کی روک تھام کی مساعی میں اس امر کا خیال رکھا جائے کہ اس سے کاروباری برادری کا کاروبار متاثر نہ ہونے پائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ احسن اقدام یہ ہوگا کہ سمگلنگ کی روک تھام سرحدوں اورسڑکوں پر کی جائے گوداموں تک مال پہنچنے اور پہنچانے کی نوبت نہ آئے جہاں تک گنڈے ماروں کا تعلق ہے اس میں بڑی تعداد معذوروں اور خواتین کی ہے جو گنڈے مار اس پیشے سے بطور سمگلر وابستہ ہیں ان کا اثر ورسوخ اور ملی بھگت کوئی پوشیدہ امر نہیں جو پولیس کسٹم اور ایکسائز حکام کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیںان عناصر کے خلاف جتنا جلد اور مئو ثر کارروائی ہو سمگلنگ میں کمی آئے گی جہاں تک معذور افراد اور بیوہ و لاچار اور مجبور خواتین کا تعلق ہے ان سے پوری طرح ہمدردی کے باوجود گنڈے ماری کی اجازت ممکن نہیں یہ چند سو بلکہ سو ڈیڑھ سو حقیقی مستحق افراد ہوں گے جن کی فہرست مرتب کر کے اور ان کے کوائف کی تصدیق کے بعد حکومت ان کی سوشل ویلفیئر اور زکوٰة فنڈ سے مدد کرے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کیلئے حکومت ان کی مدد کرے تاکہ گنڈے ماری پر مکمل پابندی کے بعد وہ سخت مالی مشکلات کا شکار نہ ہوں۔حکومت ایسے اقدامات یقینی بنائے کہ شفیع مارکیٹ ،شاہین بازار، مینا بازار، کارخانوں مارکیٹ،حاجی کیمپ اور قصہ خوانی میں آپریشن کی بجائے ان مرکزی مارکیٹوں تک مال کی رسائی ممکن نہ رہے ۔تاجروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سمگلنگ کے مال کی بجائے قانونی مال اورخاص طور پر ملکی مصنوعات کی فروخت کو ترجیح دیں اور غیر ملکی مصنوعات کی فروخت سے قبل ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں ایسا تب ہوگا جب وہ دستاویزی اور قانونی طریقے سے تجارت کریں گے۔

متعلقہ خبریں