Daily Mashriq

مدد مگر سانحہ سے قبل

مدد مگر سانحہ سے قبل

کوہستان میں رابطہ پل ٹوٹ جانے کے باعث مسافر گاڑی کے حادثے کے جاں بحق افراد کے لواحقین کی پانچ پانچ لاکھ روپے کی امداد اشک شوئی کی ایک ممکنہ کوشش ضرور ہے اس افسوسناک حادثے کے بعد جو ممکن تھا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وہ ضرور کیا لواحقین سے ملاقات وتعزیت اور امداد مناسب اقدامات تھے موقع پر وزیراعلیٰ کی کوہستان کی بوسیدہ سڑکوں کی رپورٹ طلبی بھی احسن اقدام تھا لیکن کیا ہی بہتر تھا کہ اس کیلئے کسی بڑے حادثے کا انتظار نہ کیا جاتا۔ صرف اپر کوہستان میں ہی سڑکیں خستہ حال اور پل شکستہ وپرخطر نہیں صوبے کے دوردراز کے تمام اضلاع میں کم وبیش یہی صورتحال ہے جس پر بروقت توجہ کی اس لئے ضرورت ہے کہ خدانخواستہ پھر کوئی سانحہ رونما نہ ہو۔ بہتر ہوگا کہ صوبائی حکومت اپر کوہستان سمیت تمام اضلاع میں پر خطر سڑکوں اور پلوں کی ترجیحی تعمیر وبحالی اور مرمت کے کام پر توجہ دے اور سفر کو محفوظ بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے۔

پنجاب اورکے پی پولیس کی کالی بھیڑیں

رحیم یار خان میں اے ٹی ایم سے کارڈ نکالتے ہوئے منہ چڑانے والے ذہنی طور پر غیر متوازن ملزم کی پولیس کی حراست میں جاں بحق ہونے کا واقعہ تھانوں میں بد ترین تشدد کا ایک اور ثبوت ہے حوالات میں پولیس سے ملزم کے معصومانہ مگر فلسفانہ سوال کی ویڈیو اس امر کاثبوت ہے کہ ملزم کو پولیس کے بے تحاشا تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔پنجاب پولیس تو ملزموں پر تشدد کیلئے بد نام زمانہ شہرت کی حامل ہے خیبر پختونخوا کی اصلاح شدہ اور باکردار ونیک وشریف پولیس کی جانب سے کڈنی سنٹر کے اہلکار کے خلاف مبینہ طور پر نرس کے ٹرانسفر کے انتقام میں منشیات سمگلنگ میں ملوث کرنے کی جو گھنائونی حرکت کی گئی وہ بھی ذلت آمیز اور باعث شرم حرکت ہے تحقیقات کے بعد کڈنی سنٹر کے اہلکار کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کرنے والوں کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے ان کا فرار دیگر ملزموں کی طرح کا ہے یا اس میں ملی بھگت اور چشم پوشی کا عمل دخل ہے اس بارے تو کچھ کہنا مشکل ہے البتہ پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کی کوشش ضرور ہوگی ان کو محکمانہ اور عدالتی کارروائی سے بچانے میں پولیس کا محکمہ مدد گار نہ ہو اور ان کالی بھیڑوں کو سزا ملے تو ہی انصاف ہوگا۔

انکوائری میں لیت ولعل کیوں؟

ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر 4ہزار سے زائد سٹاف کی بھرتی سے متعلق چھان بین کی انکوائری کمیٹی سیکرٹری صحت کے تبادلے کے بعد ایک مرتبہ پھر ٹوٹ گئی ہے جس کے نتیجے میں انکوائری کی کارروائی بھی معطل ہوگئی ہے۔ انکوائری ٹیم نے پہلے مرحلے میں بڑے عہدوں پر بھرتیوں کی چھان بین سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تھی اور دوسرے مرحلے کی انکوائری کا آغاز کیا تھا لیکن انکوائری ٹیم کے افسران کے تبادلے کے بعد 7 ماہ سے زائد عرصہ تک یہ انکوائری معطل رہی تین ماہ قبل اس بارے میں قائم مقام سیکرٹری صحت نے خود کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن سیکرٹری کا چارج واپسی کے بعد انکوائری کمیٹی دوسری مرتبہ ٹوٹ گئی واضح رہے کہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں تین سالہ عرصہ کے دوران بھرتیوں کی چھان بین کی انکوائری محکمہ صحت کی تاریخ میں سب سے لمبی کارروائی بن گئی ہے جو ڈیڑھ سال سے آگے نہیں بڑھ رہی انکوائری کے پہلے مرحلے کی سفارشات پر بھی تاحال کسی قسم کی کارروائی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے دوسرے مرحلے کی چھان بین میں بھی محکمہ صحت کے حکام دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں بھرتیوں کی تحقیقات کے ضمن میں سپریم کورٹ کے احکامات پر من وعن عملدرآمد اور فوری رپورٹ پیش کرنے کی بجائے تکنیکی طریقے سے لیت ولعل کے مظاہرے سے اس امر کا شبہ ہونا فطری امر ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی پر کوئی دبائو ہے عین ممکن ہے کہ یہ حکومت وقت کی طرف سے ہی ہو جو نہ صرف نامناسب اور عدالتی احکامات کا مذاق اڑانے کے مترادف امر ہے بلکہ یہ خود اپنی حکومت اور اپنی جماعت کے انصاف اور احتساب کے دعوئوں کی سراسر نفی بھی ہے۔ہمارے نیوز رپورٹر کی جامع رپورٹ سے صورتحال پوری طرح واضح ہے جس میں مزید اضافہ کی گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ وزیراعلیٰ اور وزیرصحت عدالت عظمیٰ کے احکامات کے تحت انکوائری کی تکمیل یقینی بنائیں اور بھرتیوں میں بے ضابطگیوں بے قاعدگیوں ملی بھگت اور ممکنہ بد عنوانی کو بے نقاب کیا جائے جن حقداروں کی حق تلفی ہوچکی ہے ان کو ان کا حق دلا یا جائے اور جو لوگ اس کام میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اسی طرح سے ہی میرٹ آئے گا اور انصاف ہوگا۔

متعلقہ خبریں