Daily Mashriq

برنی سینڈر کی چیخ کیا معنی رکھتی ہے؟

برنی سینڈر کی چیخ کیا معنی رکھتی ہے؟

لگ ایسے رہا ہے جیسے دنیا ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے جو یا تو خود مالداراور چالاک ہیں یا اس قسم کے گروہوں کے آلہ کاربن چکے ہیںاوراب ان سے دنیا کے بچت کی کوئی امیدنظر نہیں آرہی ،دنیا میں ان ''سمجھداروں''کی نمائندگی امریکی صدرڈانلڈ ٹرمپ اوربھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جیسے لوگ کررہے ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ اسی وقت دنیا میں گلوبل سوشل موومنٹس بھی چل رہی ہیں جو ان کنزرویٹوزکے سامنے کھڑی ہیں اوران کی سرمایہ دارانہ سوچ، نسل پرستی، مظلوموں اوراقلیتوںکے خلاف اقدامات کوپوری قوت سے چیلنج کررہی ہیں ان کے پاس کوئی حکومت نہیں اوروہ عوام کے اندررہتے ہوئے یہ سب کچھ کررہے ہیں اتوار کے روزہوسٹن میں ایک بڑی تقریب میں بھارت کو کشمیرمیں کرفیو اورمظالم ختم کرنے کے لئے للکارنے والا معروف امریکی رہنما برنی سینڈر اس دوسری قسم کی سوچ کانمائندہ ہے جس کے ساتھ عوام، عورتیں، اقلیتیں، مظلوم، نوجوان اورانسانی حقوق پریقین رکھنے والے لوگ ہیں۔

پہلی قسم کے گروہوں کواپنے ریاستی اداروں، کارپوریٹ سیکٹراورامریکہ کے اندرلابیوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے لیکن دوسری طرف والے نتائج سے لاپرواہ مظلوموں کی آوازہوتے ہیں جو کسی کی ناراضگی کو نہیں دیکھتے ورنہ اگرایسا ہوتاتو کشمیریوں کے لئے آوازاٹھاتے ہوئے برنی سینڈربھارت کی مارکیٹ اورامریکہ میں ہندووں کی بڑی تعدادکو ضروردیکھتے جو امریکی سیاست میں دخل بھی رکھتے ہیں۔سال2016کے امریکی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں پارٹی ٹکٹ سے محروم رہنے والا برنی سینڈراگلے سال 2020میں ایک بارپھرصدارتی انتخابات کے لئے پَرتول رہا ہے ۔اس وقت امریکہ میں دوقسم کے لوگ مقبول سیاسی رہنما ہیں ایک امریکی صدرٹرمپ اور دوسرے ان کے الٹ عادتوں اور اصولوں کے مالک برنی سینڈر، اس لئے برنی سینڈر کی کشمیریوں کے حق میں آواز کوکوئی چھوٹی بات نہیں سمجھنا چاہیئے۔

دنیا بھر میں کمزوروں کی آوازبرنی سینڈربروکلین نیویارک میں پیدا ہوا یونیورسٹی آف شکاگومیں ینگ پیپل سوشلسٹ لیگ کا حصہ بنا۔ یونیورسٹی کی ہاوسنگ پالیسی کے تحت کالے الگ اورگورے الگ رہتے تھے، جہاں اس نے یونیورسٹی کے صدر کے دفتر میں اس امتیاز کو ختم کرنے کے لئے دھرنا دیا اوراس احتجاج کے نتیجے میں یونیورسٹی نے رنگ کی بنیاد پر ہاوسنگ کی پالیسی ختم کردی۔

برنی پولیس کے مظالم کے خلاف بہت سارے احتجاجوں کا حصہ رہا وہ جنگوں کے خلاف بھی آواز اٹھانے والوں میں پیش پیش رہا اورویتنام کی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کیا،وہ 1968میں ریاست ورمانٹ چلا گیا جہاں پراس نے رائٹر، کارپینٹر اورفلم میکر کے طور پر کام شروع کیا اورپھر 1971میں لبرٹی یونین پارٹی کا حصہ بن کر سیاسی کیریئر کا آغاز کیا1980 میں اسی ریاست کے ایک بڑے شہر برلینگٹن کا میئر بنا اورمسلسل تین باریہ اعزازجیتتا رہا، 1990 میں وہ ایوان نمائندگان کا پہلاآزاد رکن منتخب ہوا اور 1991 سے 2007 تک ایوان نمائندگان کا ممبر رہا۔

نائن الیون کے بعدامریکہ میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین کا پیٹریاٹ ایکٹ پاس ہوا جس میں حکومت، پولیس اورایف بی آئی کو مسلمانوں کے خلاف بہت زیادہ اختیارات ملے تھے برنی نے بطور ممبر کانگریس اس کی مخالفت کی اوراس ایکٹ کو بدلنے کے لئے اس میں بار بار ترامیم کے بل جمع کراتا رہا ۔ امریکہ کی جانب سے عراق کے خلاف سال 1991اور2002میں طاقت کے استعمال کے بل کی بھی بطورممبرکانگریس برنی نے مخالفت کی۔ 2005میں اس نے سینٹ کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا جس کے لئے اس وقت کے سینٹرباراک اوبامہ نے بھی اس کے لئے مہم چلائی ،وہ سال 2012 میں 71 فی صد اور2016 میں 67 فی صد ووٹوں سے سینیٹرمنتخب ہوا۔ 2015 میں اس نے صدارتی مہم چلانی شروع کی تونوجوان خصوصاً یونیورسٹی کے طلباء وطالبات نے اس کی مہم کو جاندار بنائے رکھا۔ اس نے انتخابات کے لئے کارپوریشنز سے بڑے عطیات لینے سے انکار کیا اور چھوٹے چھوٹے انفرادی عطیات سے مہم چلائی۔

لیکن بدقسمتی سے وہ سال 2015-16میں پرائمری ہارکرصدارتی انتخاب سے باہرہوگیا اور ہیلری کلنٹن پارٹی امیدواربن گئیں، بعد میں تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ برنی کے خلاف سازش ہوئی تھی جس میں اپنی ہی پارٹی کی اس کمیٹی کی لیڈرشپ بھی شامل تھی جنہوں نے فیصلہ کرنا تھا ،ملک کا میڈیا اس کے بارے میں بہت زیادہ تعصب کا شکار رہا کہتے ہیں نیویارک ٹائمز نے اس کی مہم کورہی نہیں کی اس ''بڑے''اخبارنے ڈانلڈ ٹرمپ کے بارے میں 63اوراس کے بارے میں صرف 14آرٹیکل چھاپے، سی بی ایس اور اے بی سی وغیرہ جیسے بڑے ٹی وی چینلز نے ڈانلڈ ٹرمپ کی مہم کو 234منٹ کور کیا اوربرنی کو صرف دس منٹ دیے۔ پچاس سال سے زیادہ عمر کے لوگ ہیلری کلنٹن کے حق میں تھے جبکہ جوان سارے برنی کی طرف تھے۔

برنی سینڈر کو پرائمری میں ہراکر صدارتی ٹکٹ ہیلری کلنٹن کو ملنے کا اثریہ ہوا کہ برنی کے نوجوان حامی غصے میں آگئے جن کے 12فی صد نے صدارتی ووٹ ڈانلڈٹرمپ کو دے دیااور اتنے ہی ووٹ الیکشن کا پانساپلٹنے کے لئے کافی تھے برنی سینڈرسے میری خیالی ملاقات نیویارک میں رہنے والے ہمارے پاکستانی دوست آغا صالح کی بیٹی فاطمہ نے کرائی تھی جس نے ہیلری کی بجائے برنی کواپنا رہنما چُن کر اسے منافق نہ ہونے کا اعزاز دیا تھا۔

متعلقہ خبریں