Daily Mashriq

مودی اور انگاروںکا کھیل

مودی اور انگاروںکا کھیل

پاکستان سے قبل ہی بھارت میں انتہا پسند ہندوئوں کا مقبول نعرہ ''ہندو ہندی ہندوستان مسلم جائے عربستان'' ہو ا کرتا تھا۔قیام پاکستان کے بعد اس نعرے میں ''مسلم جائے پاکستان'' کی ترمیم کر دی گئی ۔ اس نعرے کی تکمیل کے لئے انتہا پسندہندئووں کا پہلا نشانہ اور ہدف مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر تھی ۔انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ نے انیس سو پچاس میں ہی اپنے انتخابی منشور میں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا نکتہ شامل کیا ۔بعد کے تمام ادوار میں بھارت کا کٹر پنتھی ذہن قدم بقدم اس سمت آگے بڑھتا چلا گیا ۔یہ سلسلہ یہیں رکتا ہوا نظر نہیں آتا بلکہ بھارت ایک سخت گیر ہندو ریاست کے طور پر تیزی سے اپنی شناخت قائم کرتا جا رہا ہے ۔پہلے جو سرگرمیاں ڈھکے چھپے انداز میں جاری تھیں اب وہ ریاستی سرپرستی میں تیزی کے ساتھ کسی رکاوٹ اور ڈرو خوف کے بغیر جاری ہیں۔یہ سٹائل بتارہا ہے کہ بھارت اپنی کثیر القومی شناخت اور پلورل ازم کو ترک کرکے وحدانی طرز حکومت اور ایک مضبوط ہندو مرکزیت کا حامل ملک بننے کی راہ پر ہے ۔کشمیر کے بعد بھارت میں خصوصی شناخت کی حامل دوسری ریاستوں پر ہاتھ صاف کئے جانے کی تیاریاں دکھائی دے رہی ہیں جن میںناگالینڈ ،گوا اور کئی دوسری ریاستیں شامل ہیں ۔اسی طرح مسلمانوں کے بعد سکھ اور عیسائی بھی اس دست درازی کی زد میں آنے جا رہے ہیں یہ احساس سکھ کمیونٹی کو بھی ہورہا ہے اور وہ اسی لئے خالصتان کی مہم تیز کرتے نظر آنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے ساتھ دنیا کے ہر کونے میں کھڑے نظر آرہے ہیں ۔سکھ یہ حقیقت جان گئے ہیں کہ کشمیری آج الگ شناخت کی حامل تمام قومیتوں اور مذہبی اقلیتوں کی بقا اور سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔کشمیر کا الگ پرچم برداشت نہ کرنے والا بھارت ریاست گوا کا لہراتا پرچم کیوں کر ہضم کر سکتاہے ۔عین ممکن ہے ہندووں کے معاملے میں بھارتی حکومت کشمیر سے الگ معیار اپنائے مگر اپنی نئی ضرورت کے تحت بھارت کے نظام اور جغرافیے پر سخت گرفت قائم کرنے کا جو جنون بھارتی حکمرانوں کے سر پر طاری ہو چکا ہے ۔کشمیر کی خصوصی شناخت کے ساتھ چھیڑ کر کے بھارتی حکومت نے ''پنڈورہ باکس '' یعنی بلائوں کے صندوق کا ڈھکن کھول دیا ہے ۔جس سے بلائیں نکل کر اب اپنا حساب برابر کرتی جائیں گی۔مسلم یونیورسٹی حید رآباد میں طلبہ کے ایک جلوس میں آزادی کے نعروں کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے اور بھارتی میڈیا بھی اس آزادی کے ان نعروں پر سوال اُٹھا چکا ہے۔ریاست کیرالہ میں سلمان آرٹس اینڈ سائنس کالج میں پاکستان کا پرچم لہرانے کا واقعہ ہوا جس کے بعد ایک طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ پچیس طلبہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔کشمیر کی شناخت پر حملے کے اثرات داخلی نہیں بلکہ بیرونی ہیں ۔پاکستان اس مسئلے کو پوری قوت سے اُٹھائے ہوئے ۔عالمی اداروں ،عالمی راہنمائوں اور عالمی ذرائع ابلاغ میں کشمیر موضوع بحث ہے ۔کشمیر میں بھارت کا سیکولر ،جمہوری اور کثیر القومی ہونے کا تاثر اور تصویر بری طرح بکھر چکی ہے ۔اوپر سے عمران خان دنیا کو بھارت کی طرف متوجہ کرکے باربار ہٹلر اورمسولینی کی یادیں ذہنوں میں تازہ کر رہے ہیں ۔گزشتہ دو عشروں سے اسلامی شدت پسندی اور دہشت گردی کا ڈھول پیٹنے والوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کے ایک اہم خطے میں ہندو شدت پسندی کا خطرہ اُبھر رہا ہے یہ اس لحاظ سے زیادہ خطرناک ہے کہ ایک پوری ریاست اس شدت کی لپیٹ میں آچکی ہے ۔باالفاظ دیگر ہندو شدت پسندی کی سوچ نے دنیا کی ایک بڑی ریاست کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔کشمیر کا زخم ابھی رس ہی رہا ہے کہ آسام کا مسئلہ شروع ہوگیا ہے جہاں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن سے انیس لاکھ چھ ہزار چھ سو ستاون افراد کی شہریت ہی خارج کر دی گئی ہے ۔ان میں اکثریت بنگلہ دیشی مسلمانوں کی ہے ۔ان لوگوں کو رفتہ رفتہ بہت سے حقوق سے محروم کر دیا جائے گا ۔بنگلہ دیش نے پہلے ہی ان لوگوں کی حمایت وقبولیت سے ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں بھارت کے ایک سیاست دان نے آسام کے حوالے سے بہت چونکا دینے والی بات کی ہے کہ بھارت آسام میں میانمار کی طرح بے وطن مسلمانوں کا نیا گروہ پیدا کرے گا ۔ کشمیرکے حصے بخرے کرنے اور شناخت چھین لینے کے بعد ہماچل پردیش ،ناگالینڈ ،سکم ،منی پور ،میزورام اور گوا کی خصوصی شناخت ختم نہ کی گئی تو یہ تاثر پختہ تر ہوگا کہ بھارتی حکومت کی اس سوچ کے پیچھے مسلمان دشمنی اور ایک مسلمان اکثریتی ریاست کا تیا پانچہ کرنے کی خواہش ہے۔بھارت میں آزاد تجزیہ نگاروں کی رائے یہ ہے کہ کشمیر کے بعد آسام پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد مودی حکومت رام مندر کا مسئلہ اُٹھائے گی اور یوں مسلمان آبادی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا نیا بہانہ ہاتھ آجائے گا ۔مودی حکومت مسائل کو نہ ٹالنے اور پالنے کے نام پر بھارت میں مرکزیت کو فروغ دیا جارہا ہے۔یہ انگاروں سے کھیلنے کا عمل ہے جس میں دامن ،گریباں اور ہاتھ تک جلنے کا احتمال وامکان ہے ۔مودی جہاں ایک طرف خود کو ہندو آبادی کا ٹارزن بنا کر پیش کررہے ہیں وہیں بھارت کی معیشت کا جنازہ نکالنے کا'' کارنامہ'' بھی انجام دے رہے ہیں۔ مودی حکومت میں جی ڈی پی کی رفتار چھ سال سے کم تر سطح پر پہنچ چکی ہے ۔اسی پر پریانیکا گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی نے معیشت کی حالت پنکچر کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں