Daily Mashriq

وفاقی وزیر کا احتساب کے ادارے کو لگام دینے کا مطالبہ

وفاقی وزیر کا احتساب کے ادارے کو لگام دینے کا مطالبہ

اسلام آباد: ملک میں جہاں ایک طرف ایک فوجی آمر کی جانب سے 2 دہائیوں قبل بنایا گیا قومی احتساب آرڈیننس میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا گیا تو وہیں وفاقی وزیر نے احتساب ادارے کو لگام دینے کا مطالبہ کردیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری کو صحت کی سہولیات دینے کی فراہمی سے انکار پر سینیٹ میں بحث کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی کا کہنا تھا کہ قومی احتساب ادارہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ-نواز (پی ایم ایل-این) کو ان کیسز کا سامنا ہے جو انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف بنائے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'نیب کو لگام دینے کی ضرورت ہے، آپ نیب سے کیا امید رکھتے ہیں جس میں 70 سے 80 فیصد ملازمین سابق چیئرمین کے منتخب کردہ ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے یہ کیسز نہیں بنائے اور حکومت نیب کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی'۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بالا دست تھی اور اس کے پاس یہ حق تھا کہ کسی کے خلاف تحقیقات نہیں ہوگا، آئیں ہم مل ان قیدیوں کو رہا کرکے جیل خالی کریں یا پھر امیروں اور غریبوں کے لیے علیحدہ قانون بنائیں'۔

یہ معاملہ ایوان بالا میں پی پی پی کی رہنما سینیٹر شیری رحمٰن نے اٹھایا جنہوں نے آصف علی زرداری کو فوری طور پر جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 'سابق صدر آصف علی زرداری کو ڈاکٹروں کی تجویز کے باوجود جیل بھیج دیا گیا ہے اور عدالتی احکامات کے باوجود ان کے اہلخانہ کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ زیر حراست سیاستدانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ دردناک ہے، ان کا علاج قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مسلم لیگ (ن) کے زیر حراست رہنما رانا ثنا اللہ کو اپنے سسر کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی، حکومت کا اپوزیشن سے برتاؤ ایسا ہے جیسا بھارت کا کشمیریوں کے ساتھ ہے۔

سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں پر کرفیو لگا دیا گیا ہے اور آئندہ آنے والی نسل قانون ساز بننے سے کترائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو جیل بھیجنے کے بجائے نظر بند کیا جاسکتا تھا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت جو روایت ڈال رہی ہے مستقبل میں یہ اسی کو لے ڈوبے گی۔

بعد ازاں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے سابق چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کے لیے بل پیش کیا۔

بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی پیش کردیا گیا جس کے تحت نیب کو کم از کم 50 کروڑ کے کیسز دیکھنے کی اجازت ہوگی جبکہ نیب کے چیئرمین سے گرفتار کرنے کے اختیارات بھی واپس لے لیے جائیں گے۔

اعظم سواتی نے ایوان کو بتایا کہ حکومت بھی نیب آرڈیننس میں ترامیم کے لیے اپنا بل پیش کرنا چاہتی ہے تاہم وہ اپوزیشن کے بل کی مخالفت نہیں کرتی۔

متعلقہ خبریں