Daily Mashriq

بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کمی لانا ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچائے

بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کمی لانا ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچائے

بلڈ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی سطح میں معمولی کمی لاکر ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں 4 لاکھ 40 ہزار کے قریب افراد کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ چند معمولی چیزیں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض سے موت کا خطرہ دوتہائی حد تک کم کردیتی ہیں۔

دنیا میں ہر سال ہارٹ اٹیک یا فالج سے لاکھوں افراد ہلاک ہوتے ہیں جبکہ بلڈ پریشر ایسا عارضہ ہے جو ہر 4 میں سے ایک فرد کو لاحق ہوتا ہے جبکہ ہر 10 میں سے 5 افراد میں کولیسٹرول کا مرض پایا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے یہ دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ یہ دونوں عناصر کس حد تک صحت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے دریافت کیا کہ صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں 1 ایم ایم او ایل جبکہ بلڈ پریشر 10 ایم ایم ایچ جی کمی دل کے مسائل کا خطرہ 80 فیصد تک کم کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس طرح کے نتائج عام طور پر کولیسٹرول کے لیے استعمال ہونے والی statin ادویات اور فشار خون کے لیے کھائی جانے والی گولیوں سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ دل اور دوران خون کے امراض ہر سال صرف برطانیہ میں ہی ایک لاکھ 68 ہزار ہلاکتوں کا باعث بنتے ہیں مگر کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں معمولی کمی لانا ڈرامائی حد تک دل اور دوران خون کے امراض کا خطرہ زندگی بھر کے لیے کم کردیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نتائج سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھانے والے بنیادی عناصر ہیں مگر اہم سوال یہ ہے کہ کتنے افراد کو معلوم ہے کہ ان کا بلڈ پریشر یا کولیسٹرول لیول کیا ہے یا انہیں ک طرح کم کیا جاسکتا ہے؟

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ تحقیق کے نتائج سے اس خطرے میں 80 فیصد تک کمی لانے کی بات سے لوگوں کے اندر طرز زندگی میں طویل المعیاد بنیادوں میں تبدیلی لانے کا خیال پیدا ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کو طرززندگی میں تبدیلیوں اور ادویات کی مدد سے کم کیا جاسکتا ہے، بس آپ کو ہمت کرنے کی ضروت ہے۔

متعلقہ خبریں