Daily Mashriq


سوات کا انتخابی جلسہ اور ن لیگ کی کارکردگی

سوات کا انتخابی جلسہ اور ن لیگ کی کارکردگی

وزیراعظم نواز شریف نے سوات میں ایک بھاری بھر کم انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اگرچہ اپنے سامعین کو آئندہ انتخابات میں اپنی پارٹی کو ووٹ دینے کیلئے راغب کیا تاہم انہوں نے کسی حد تک اپنے ’’نظریاتی مؤقف‘‘ پر بھی بات کی۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ پانچ لوگوں نے لاکھوں ووٹوں کے تقدس کو چیلنج کیا اور انہیں نکال دیا۔ ’’کیوں نکالا‘‘ کے حوالے سے اس ذکر کے علاوہ انہوں نے ساری تقریر عمران خان کی مخالفت اور اپنی مسلم لیگ کے ایسے کارنامے بیان کرنے میں صرف کی جو درحقیقت ن لیگ کے کام نہیں ہیں۔ البتہ عدلیہ کیخلاف محاذ آرائی کی ذمہ داری سوات جلسے میں ان کی صاحبزادی مریم نواز کیلئے رکھی۔ اس تقسیم کار کی وجہ کیا ہے فی الوقت اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ’’انتقامی فیصلوں کے احترام کی توقع ہم سے نہ رکھی جائے۔ ’’اداروں کا سارا زور ہم پر چلتا ہے۔ مشرف کو پکڑنے کی جرأت نہیں‘‘ پتہ نہیں ن لیگ والوں کو یہ لفظیات کون گھڑ کے دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ انصاف نہیں انتقام ہو رہا ہے۔ انتقام اس حملے یا زیادتی کو کہا جاتا ہے جو کسی نے کسی کیخلاف کی ہو اور جس کیساتھ کی گئی ہو وہ اس کا انتقام لے۔ انصاف کے اداروں سے آپ نے کیا زیادتی کی ہے جس کا ’’انتقام‘‘ لیا جا رہا ہے۔ آپ کے دورِ حکومت میں زیادتی عوام کیساتھ ہوئی ہے اور عوام کے انتقام سے عدلیہ کچھ کام کر کے آپ کو بچا رہی ہے۔ ہاں البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف کی ایک سابقہ حکومت کے دور میں ان کی یا ان کے جیالوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا لیکن وہ تو اب پرانی بات ہو چکی ہے۔ اس دور کے بعد کتنے ہی چیف جسٹس آچکے ہیں۔ رہا فیصلوں کا احترام تو یہ آئین کے احترام کے باعث لازم آتا ہے۔ اگرکوئی آئین کا احترام نہ کرنے کا اعلان کرے تو یہ اس کی مرضی اور حکومت وقت کی مرضی کہ اس کیخلاف قانونی چارہ جوئی حکومت کا فرض ہے۔ موجودہ صورتحال میں چونکہ حکومت بھی مسلم لیگ ن کی ہے اور فیصلوں کا احترام نہ کرنے کا اعلان بھی مسلم لیگ ن کے سٹیج سے ہو رہا ہے اسلئے سب جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ کہا کہ اداروں کا زور صرف ہم پر چلتا ہے۔ اس زور چلنے کی راہ میں عدالتوں کا صفائی کا اور اپیل کا موقع دینے کا اصول آڑے آتا ہے۔ اسلئے عدالتیں ڈھیل دیتی رہتی ہیں۔ میاں نواز شریف نے البتہ سوات کے جلسے کو انتخابی جلسے ہی کا رنگ دیا۔ انہوں نے عمران خان کو الزام خان قرار دیا۔ ان پر کرپشن کے الزام لگائے جو وہ ن لیگ کے قائدین پر لگاتے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ انتخابات میں خیبر پختونخوا میں بھی حکومت مسلم لیگ کی ہوگی۔ اس رو میں اس قدر بہہ گئے کہ اعتراف کر لیا کہ وفاق میں ان کے دورِ حکومت کے دوران ترقی اگر کی تو پنجاب نے کی‘ چھوٹے صوبے اس سے محروم رہے۔ یوں انہوں نے پنجاب کیساتھ مسلم لیگ ن کے ترجیحی سلوک کا اقرار کر لیا اور کہا کہ اگر ترقی دیکھنی ہے تو پنجاب میں دیکھو‘ لاہور میں آ کر دیکھو۔ سوات کے جلسے میں کون سا لوگ اپنے خرچ پر آئے ہوں گے جو ترقی دیکھنے کیلئے لاہور اور پنجاب کا رُخ کریں گے۔ خیبر پختونخوا کے چند لاکھ ہی لوگوں کے پنجاب کے سرکاری دورے کا بندوبست کر دیتے تو وہ خود جا کر پنجاب کی ترقی کا احوال دیکھ لیتے۔ ان کے اس اعلان کی وجہ سے خیبرپختونخوا اور دوسرے صوبوں کی حکومتوں کی ان شکایتوں کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ وفاق نے ان کے فنڈز جاری کرنے میں لیت ولعل سے کام لیا۔ انہوں نے سوات میں امن لانے کا کریڈٹ بھی خود لیا۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان مولا بخش چانڈیو نے فوراً ہی حساب بے باق کر دیا اور کہا کہ سوات میں آپریشن تو پیپلز پارٹی اور اے این پی کا مرہون منت ہے ن لیگ کا اس میں حصہ نہیں ہے لیکن چانڈیو نے بھی پاک فوج کا ذکر نہیں کیا جس نے سوات کو طالبان کے غلبہ سے نجات دلائی تھی۔ اس طرح ن لیگ والے آپریشن ضرب عضب کا بھی کریڈٹ لیتے ہیں حالانکہ آپریشن شروع ہونے کے کئی دن بعد حکومت نے اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ کراچی کی روشنیاں بحال کرنے کا کریڈٹ بھی نواز شریف لیتے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ کام کس نے انجام دیا۔ چند ہفتے پہلے تک میاں صاحب ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے، اس وقت سردی کا موسم تھا‘ پنکھے اور ایئرکنڈیشنز نہیں چلتے تھے لیکن اب اپریل کے آغاز ہی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بعض علاقوں میں دس گھنٹے تک پہنچ چکا ہے۔ اب وزیرعظم شاہد خاقان عباسی گیس کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کر رہے ہیں جب گرمی کا موسم آ گیا ہے اور گھروں میں ہیٹر نہیں جلتے لیکن یہ انتخابی جلسہ تھا تو میاں صاحب کو عوام کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ ان کی جماعت نے اپنے 2013ء کے منشور پر کہاں تک عملدرآمد کیا۔ پبلک سیکٹر کے خسارے میں چلنے والے اداروں سٹیل ملز‘ پی آئی اے‘ ریلوے وغیرہ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ دیانتدار ارکان پر مشتمل بورڈ بنائے جائیں گے جو ماہر چیف ایگزیکٹو تعینات کریں گے لیکن سٹیل ملز کا خسارہ بڑھ گیا ہے۔ پی آئی اے کی مدد کی گئی اس کا مالی خسارہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ریلوے کا حال بھی اچھا نہیں ہے۔ بجلی بنانے والی کمپنیوں کا سرکلر قرضہ اتارا گیا جو ایک بار پھر بڑھ کر اتنا ہی ہو گیا ہے۔ میاں صاحب کی وزارت عظمیٰ کے دوران وزیر بجلی وآبپاشی خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے ایوان میں بیان دیا کہ بجلی بنانے والی کمپنیاں حکومت سے کم قیمت پر فرنس آئل لیکر مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کر رہی ہیں۔ اس کے بعد ان کیخلاف کارروائی نظر نہیں آئی۔ میاں صاحب کہتے ہیں کہ عدالتیں اٹھارہ لاکھ زیرِ التواء مقدمات کی طرف دھیان دیں لیکن ان کی حکومت نے عدالتی اصلاحات کیلئے اپنے دور حکومت میں کیا کیا؟ عدالتی نظام کی اصلاح نیشنل ایکشن پلان کی ایک شق تھی۔ ایکشن پلان میں فوج کے ذمے جو کام تھے وہ تو مکمل ہو گئے لیکن سول حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکی۔

متعلقہ خبریں