Daily Mashriq


شہید ذوالفقار علی بھٹو۔ سامراج دشمن رہنما

شہید ذوالفقار علی بھٹو۔ سامراج دشمن رہنما

سچ بہرطور یہی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ہماری نسل کو ریاستی جبر اور طبقاتی بالادستی کیخلاف باغیانہ اُمنگوں سے بھر دیا۔ وہ ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہوئے اور کچلے ہوئے طبقات کیساتھ آن کھڑے ہوئے۔ سیاسی عمل میں وہ سکندر مرزا کے دور میں داخل ہوئے، اقوام متحدہ جانیوالے پاکستانی وفد کے کم عمر ترین رکن تھے۔ جنرل اسمبلی میں ان کی کارکردگی نے انہیں سکندر مرزا کی کابینہ میں وفاقی وزیر بنوایا۔ ایوب خان اسی کابینہ میں وزیر دفاع تھے۔ پھر ایوب نے سکندر مرزا کا تختہ اُلٹا اور اقتدار سنبھال لیا۔ 1956ء کا دستور منسوخ ہوا، احتساب کانعرہ لگا۔ ایبڈو قانون نے بڑے بڑے چراغ گل کر دیئے۔ اس بدنام زمانہ قانون نے حسین شہید سہروردی جیسے نفیس اور دیانتدار شخص کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ خان عبدالقیوم خان بھی بائیس میل طویل لپیٹ کر گھر کو سدھار ے۔ خیر یہ ایک الگ موضوع ہے، تاریخ کے اوراق پر پڑی گرد جھاڑ کر کسی دن ان سطور میں عرض کروں گا کہ مغربی پاکستان کی سول وملٹری اشرافیہ نے مغربی لولی لنگڑی جمہوریت پر شب خون کیوں مارا، ایک بات بہرطور ہے وہ یہ کہ سیاستدان تنہا مجرم تھے نہ ہیں۔ بس چکنی مٹی سے سیاستدان بنتے ہیں۔ توڑ دو، پھوڑ دو، پھانسی چڑھا دو، زہر دلوا دو یا سڑک پر گولی مار دو کچھ نے ان ہولناکیوں سے بچنے کیلئے سمجھوتے کئے، گھروں کو رخصت ہوئے یا جلاوطنی خریدی اور پتلی گلی سے نکل گئے۔ بھٹو واحد شخص تھے جنہوں نے کہا۔ جرنیلوں کے ہاتھوں مرنا قبول ہے تاریخ کے ہاتھوں نہیں مروں گا اور انہوں نے بات پوری کر دکھائی تاریخ میں زندہ ہو گئے۔ ایک نئی سیاسی اُمت اور چند مچونے بھٹو زندہ کو پبھتی بنائے تمسخرا اُڑاتے ہیں۔ اس اُمت اور مچونوں نے وہ سیاہ دن رات نہیں دیکھے جو چار فوجی آمریتیں لیکر آئی تھیں۔ ہم بھٹو صاحب کی باتیں کرتے ہیں، ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ کے طور پر انہوں نے اپنی اہلیت کا لوہا منوایا۔ نیشنل عوامی پارٹی اور کونسل لیگ دو جماعتوں سے ان کے مذاکرات ہوئے، بالآخر انہوں نے دوستوں کے مشورے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا، ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی قیام گاہ پر پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ سامراج دشمن عوام دوست ترقی پسند خیالات کی حامل پیپلز پارٹی کو قیام کیساتھ ہی مغربی پاکستان میں عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔ 1970ء کے انتخابات میں ان کی جماعت مغربی پاکستان کی بڑی جماعت کے طور پر اُبھری، پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں انہیں واضح اکثریت حاصل تھی 16دسمبر 1971 کو پاکستان ٹو ٹ گیا۔ کیوں ٹوٹا ایک الگ اور طویل داستان ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان کے سارے کرداروں نے اپنے اپنے حصے کی سیاہی بھٹو کے چہرے پر ملنے کی بھونڈی کوشش کی،دولخت ہوئے پاکستان میں بھٹو کو اقتدار فوجی بغاوت کے خطرے کی وجہ سے سونپا گیا۔ 1973ء کا آئین چند تحفظات کے باوجود بھٹو کا کارنامہ ہے۔ اس وقت کی قومی اسمبلی میں بیسویں صدی کے بڑے بڑے لوگ تھے سب نے آئین بنانے میں تعاون کیا۔ یہی آئین آج بھی موجودہ فیڈریشن کی ضمانت ہے۔ ذرعی اصلاحات ہوئیں، صنعتیں، مالیاتی ادارے، تعلیمی ادارے، قومی تحویل میں لئے گئے۔ 1960ء اور 1970کی دہائیاں اداروں کو قومی تحویل میں لینے کی سیاست کی دہائیاں تھیں۔ ان کے دور میں لاکھوں پاکستانیوں کو بیرون ملک روزگار کمانے کے مواقع ملے، عرب دنیا کی ترقی میں 80فیصد حصہ پاکستانی محنت کشوں کا ہے۔

بھٹو عوامی سیاست کے میدان میں چھاگئے۔ ان کی مخالفوں کی ہر واردات اُلٹی ہوئی، سول نافرمانی کی تحریک کوسیلاب بہا کر لے گیا، فاتح بھٹو چند مقامات پر پسپا بھی ہوئے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ یہ پسپائی ان کے گلے پڑ گئی۔ وہ انسان تھے ولی کامل یا آسمانی اوتار ہرگز نہیں۔ اس سماج کے کج بحثوں نے ہمیشہ ترقی پسندانہ افکار پر فتوؤں کی چاند ماری۔ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا اور چند دوسرے اقدام ان کا جرم بن گئے، 1971ء میں برسر اقتدار آنیوالے بھٹو 1977ء میں داخل ہوئے تو رجعت پسند میڈیا، جرنیل شاہی، مذہبی جماعتیں، امریکہ اور دوسری قوتیں ان کیخلاف متحد ہو چکی تھیں۔ ان کے دور کے قابل گرفت اقدامات بھی ہیں لیکن قدرے بہتر دور تھا، کرپشن کا تو تصور ہی محال تھا۔ سیاسی کلچر عام تھا۔ پھر انتخابات (19977ء والے) میں دھاندلی کے نام پر احتجاجی تحریک چلی، اس تحریک کو امریکہ اور جرنیلوں کیساتھ سرمایہ داروں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ جولائی 1977ء میں مارشل لاء لگ گیا۔ بھٹو کو عالم اسلا م کا عظیم قائد قرار دینے والے جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ رہائی کے بعد لاہور کے ناصر باغ میں ہونیوالے بھٹو کے جلسہ نے فوجی حکومت اور اتحادیوں کی نیندیں حرام کر دیں۔ قتل کا جعلی مقدمہ براہ راست ہائیکورٹ میں لایا گیا۔ سازش کے مرتکب شخص کو مجرم قرار دیکر پھانسی چڑھا دیا گیا۔ 4اپریل 1979 کی صبح بھٹو پھانسی چڑھ گئے۔ جنرل ضیاء کے حکم پر ان کی مسلمانی کی شناخت اور تسلی کی گئی کیونکہ قومی اتحاد کی تحریک سے پھانسی تک کے درمیانی سفر میں رجعت پسند انہیں ایک ہندو کے طور پر پیش کرتے رہے تھے۔ بھٹو پھانسی چڑھے اور امر ہوگئے۔ وہ اپنی مثال آپ تھے ان سا دوجا نہ کوئی۔ پاکستان کی سیاسی تحریک اور تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر نامکمل رہے گی۔ وہ معاشرتی علوم کا باب نہ بن سکے مگر سیاسی تاریخ کا روشن باب بن گئے۔

متعلقہ خبریں