Daily Mashriq


جب خدا کا سامنا ہوگا تو دیکھا جائے گا

جب خدا کا سامنا ہوگا تو دیکھا جائے گا

ترکی جیسے خوبصورت اور عظیم ملک کے حسین مقامات اور تاریخی ورثے کے دورے کے موقع پر وطن عزیز کی یادوں اور اپنے قارئین سے دوری کا احساس اسلئے نہیں ہوا کہ اب دور جا کر بھی روابط اور معلومات کے حصول میں کوئی مشکل نہیں۔ یہاں ترکی میں احساسات قلمبند کر کے واٹس ایپ کر دی، دوسرے دن کا اخبار نیٹ پر دیکھا اور کالم پڑھ لیا۔ اس مرتبہ اس کالم کی تحریر میں خصوصی معاونت پر اپنے سٹاف کا خصوصی طور پر مشکور ہوں۔ ان کے توسط سے ملنے والی تلخیص وتدوین شدہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے کالم کا ریکارڈ ساز ردعمل آیا۔ آئی جی خیبر پختونخوا اور سی پی او مرکز شکایات کو فحاشی کے اڈوں کیخلاف براہ راست اور بار بار کی شکایات کے باوجود پولیس کی مبینہ ملی بھگت کے باعث اس طرح کے اڈوں کیخلاف کارروائی سے گریز کو سامنے لانے پر نہ صرف خراج تحسین کے درجنوں پیغامات آئے بلکہ ملنے والی ایس ایم ایسز کی تعداد سے تو یوں لگتا ہے کہ یہ صرف حیات آباد اور صوبائی دارالحکومت پشاور کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے صوبے کا مسئلہ ہے۔ غیور پٹھانوں کے شہروں میں یہ کیا ہونے لگا ہے۔ حکمرانوں کے کانوں پر جونک تک نہ ریگنا تو انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے۔ بہرحال بشرط حیات اگلے کالم میں اس حوالے سے ایک لائحہ عمل دوں گی۔

گزشتہ کالم میں این ٹی ایس میں گھپلوں اور ناانصافیوں کی صوبہ بھر اور قبائلی علاقہ جات سے درجنوں شکایات کا سرسری تذکرہ تھا مگر اس کی تصدیق وتعریف میں اتنے برقی پیغامات ملے کہ ان کو کالم میں نام اور علاقے کیساتھ سمو دینا ممکن نہیں، البتہ ایک قاری نے جس تفصیل سے این ٹی ایس کے فراڈ کا ممکنہ تکنیکی طریقہ کار بے نقاب کیا اس کا تذکرہ سب کی نمائندگی سمجھی جائے اور اس حوالے سے اس امر کا مطالبہ کیا جائے کہ اسقام وابہام ملی بھگت‘ سفارش ورشوت کا دروازہ بند کرنے کیلئے ان سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ شفافیت کا امکان بڑھے اور بدعنوانوں اور خائین کا راستہ روکا جاسکے۔

درخواست وصولی کے بند ہونے کے دو تین دن کے اندر اور این ٹی ایس ٹیسٹ کے انعقاد سے پہلے پہلے اکیڈیمک میرٹ لسٹ ڈسپلے کیا جائے تاکہ ہر ایک اُمیدوار کو یہ پتا چل سکے کہ کس سکول کیلئے اس نے اور کس کس نے (ایس ایس ٹی‘ سی ٹی‘ ٹی ٹی) کا آپشن دیا ہے، نیز اکیڈیمک میرٹ لسٹ میں وہ کونسے نمبر پر ہے۔ این ٹی ایس ٹیسٹ کے بعد ایک دو دن کے اندر ٹیسٹ کا رزلٹ گزٹ نوٹفکیشن کی صورت میں ڈسپلے کیا جائے تاکہ ہر کوئی ایک دوسرے کا رزلٹ دیکھ سکے اور پھر اس کو خود اپنے اکیڈیمک میرٹ کیساتھ جمع کر کے اپنا میرٹ بھی خود نکال سکے جو ’رائٹ ٹو انفارمیشن اکیڈیمک ایکٹ کے پی‘ کے تحت ایک اُمیدوار کا حق بنتا ہے۔ اس سب کا فائدہ یہ ہوگا کہ سسٹم میں شفافیت آئے گی۔ اس کے برعکس موجودہ طریقہ کار کے مطابق نااہل اُمیدوار این ٹی ایس والوں کیساتھ ملی بھگت سے سکول کا آپشن تبدیل کر کے دوسرے سکول پر جہاں میرٹ کم ہو اہل ثابت ہوسکتا ہے۔گورنمنٹ کالج پشاور کے بی ایس کے ایک طالب علم تمام طالب علموں کی نمائندگی کرتے ہوئے کالجوں میں بی ایس کرنیوالے طالب علموں کو بھی وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم میں حصہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں سے بی ایس کرنیوالے طالب علموں کو لیپ ٹاپ ملتے ہیں مگر کالجوں میں بی ایس کے طالب علموں کو نہیں دیا جاتا۔ میرے خیال میں ان کا مطالبہ بالکل درست اور قابل توجہ ہے۔ بی ایس کے طالب علموں کو اگر یونیورسٹیز میں لیپ ٹاپ دئیے جاتے ہیں تو وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے تحت کالجوں میں بی ایس کے طالب علموں کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں حصہ دیا جائے۔ میرے محترم قاری نے ٹیسٹ میں فراڈ کا طریقہ کار بھی بتایا تھا اور میسج بھی کیا لیکن فی الوقت میں اسے کافی سمجھتی ہوں کیونکہ ہمارا مقصد فراڈ کا خاتمہ ہے البتہ اگر ضروری ہوا تو میں ممکنہ اختیار کردہ طریقہ کار بھی شامل کالم کروں گی۔چارسدہ سے محمود جان نے جو خود بھی سیکنڈ ایئر کے طالب علم ہیں نقل کی روک تھام کی بجائے اسے ممکن بنانے والے عناصر کے بارے میں کالم لکھنے کی فرمائش کی ہے۔ بیٹا آپ کا جذبہ قابل تحسین ہے اگر ہمارے نوجوان طلبہ سند کی بجائے حصول علم کیلئے پڑھیں اپنے میں قابلیت پیدا کریں تو اپنی آئندہ زندگی میں ان کو مشکلات کا سامنا نہ ہوگا، وگرنہ کبھی این ٹی ایس سے شکایت اور کبھی ملازمتیں بکنے کا گلہ اور حصول روزگار میں مشکلات ہی مشکلات سے واسطہ۔ کرم ایجنسی کے گاؤں دماکئی ممکن ہے یہ نام سمجھنے اور لکھنے میں مجھ سے غلطی ہوئی ہو لیکن بہرحال یہاں کا گرلز پرائمری سکول تین چار سالوں سے بند ہے اور اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتی ہیں۔ اتنے دور دراز علاقے میں جہاں تعلیم کی سہولیات کا تصور نہیں ایک گرلز پرائمری سکول کا یوں بند پڑا رہنا اور متعلقہ پولیٹیکل حکام اور فاٹا سکرٹریٹ کے عملے کی لاعلمی ولاپرواہی قابل صد افسوس ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ ہماری بچیوں کے اس بند سکول میں نہ صرف تعلیم کا سلسلہ جاری کروائیں بلکہ اسے مڈل کا درجہ بھی دیدیں۔پشاور سے ایک پبلشر کی چھاپ کردہ اسلامیات برائے جماعت نہم میں غلطیوں کی شکایت کی گئی ہے، علاوہ ازیں بھی مذکورہ پبلشر کی کتابوں میں غلطیاں بتائی جاتی ہیں۔ اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ وہ اس کی نشاندہی کریں اور درسی کتابوں میں غلطیوں کو جلد سے جلد درست کروایا جائے۔

اب تو ہے عشق بتاں میں زندگانی کا مزہ

جب خدا کا سامنا ہوگا تو دیکھا جائے گا

قارئین 0337-9750639 پر میسج کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں