Daily Mashriq


معیار تعلیم

معیار تعلیم

آج کل BISEبورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان کے زیر اہتمام نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات جاری ہیں۔سالانہ امتحانات کے انعقاد کیلئے اس سال نہایت موثر انتظامات کئے گئے ہیں۔طلباء اور طالبات کی امتحانات کے دوران نگرانی کرنے کیلئے اس سال جن ممتحن اساتذہ کی تقرری کی گئی ہے اُن کا چناؤ بذریعہ کمپیوٹرکیا گیا تاکہ کوئی بھی ممتحن اپنی مرضی اورمنشا کے مطابق من پسند جگہ پر ڈیوٹی لگانے سے قاصر رہے۔امتحان کے سارے مراکز میں مقامی اساتذہ کی بجائے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کا تعین کیا گیا ہے۔یہ ایک مستحسن قدم ہے۔ اس سے ایک تو امتحانی مراکز میں ڈیوٹیوں کے پیچھے بھاگنے والے اپنی پسند کی ڈیوٹی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف اُن اساتذہ کو موقع مل جاتا ہے جو امتحانی مراکز میں ڈیوٹی لگانے کے لئے متعلقہ محکمہ تعلیم کے دفتروں کا چکر نہیں لگاتے اور ایک خودکار نظام کے تحت اساتذہ کو یکساں مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔محکمہ تعلیم کی جانب سے یہ ایک شرط بھی عائد کردی گئی ہے کہ جن اساتذہ کو سال میں ایک دفعہ امتحانات کی نگرانی کیلئے تعینات کیا جاتا ہے۔سال کے اندر اندر وہ دوسری بار امتحانات کے مراکز پر ڈیوٹی دینے کا اہل نہیں ہوگا۔محکمہ تعلیم میں یہ تبدیلیاں اس وجہ سے بھی آرہی ہیں کہگزشتہ چار سالوں میں صوبائی حکومت نے تقریباً چالیس ہزار اساتذہ کو این ۔ٹی۔ایس کے ذریعے بھرتی کیا ہے۔ یہ ایک نہایت کامیاب تجربہ ہے۔اس منصوبے کے تحت باصلاحیت اساتذہ محکمہ تعلیم میں بھرتی کرائے گئے ہیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ حکومت نے تمام سکولوں کی کارکردگی کو جانچنے کیلئے اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے مانیٹرنگ ٹیم مقرر کی ہیںجو دور دراز علاقوں میں جا کر سکولوں پر چھاپے مارتی ہیں اور بلاوجہ غیر حاضر اساتذہ کیخلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کرتی ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ سکولوں میں وقت کی پابندی کرتے ہیں اور بلاناغہ حاضری کو یقینی بناتے ہیں۔لیکن ان سب انتظامات کے باوجود تعلیمی معیار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہورہا ہے۔اسکی کئی وجوہات ہیں۔اُن میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جن سکولوں کے نتائج بہتر نہیں آرہے ہیں ان کے ہیڈ ماسٹرز کی شامت آجاتی ہے۔ان سے جواب طلبی کی جاتی ہے یا اُن کے دو یا تین انکریمنٹ ضبط کئے جاتے ہیں۔ اسلئے وہ امتحانات کے دوران نرم رویہ اختیار کرتے ہیں اور اکثر نالائق طلباء و طالبات اساتذہ کی اس مجبوری سے پاس ہوجاتے ہیں۔امسال بھی اکثر امتحانی مراکز میں نگرانی نرم رہی۔نقل او ربوٹی مافیا کیخلاف سخت رویہ اختیار نہیں کیا گیا۔ سکولوں میں اساتذہ پر زیادہ سختی کرنے کا دوسرا پہلو یہی نکلتا ہے کہ وہ امتحانات میں زیادہ سختی سے گریز کرتے ہیںکہ زیادہ تعداد میں طلباء اور طالبات کے ناکام ہونے کا ملبہ اُن پر نہ گرے۔اس کا بہتر اور قابل عمل حل یہ نظر آرہا ہے کہ اساتذہ کی تربیت پر زیادہ فوکس کیا جائے۔جیسے گزشتہ چار سالوں میں 134000 اساتذہ کو انگریزی زبان،ابتدائی تعلیم ،سائنس مضامین ،امتحانی طریقہ کار اور طلباء کی بہتر راہنمائی کی تربیت دی گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے تعلیم کی مد میں خطیر رقم مختص کی ہے جس میں زیادہ تر حصہ نرسری اور پرائمری تعلیم کیلئے رکھا گیا ہے۔بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں پرائمری اور ابتدائی تعلیم پر وہ توجہ نہیں دی جاتی ہے جتنی ضرورت ہے۔ جب نرسری سے کمزور بچہ اگلی جماعتوں میں داخل ہوتا ہے تو وہ اُس خلیج کو پورا نہیں کرسکتا ۔لہٰذا کمزور بچہ کمزور ہی رہ جاتا ہے اور آگے جاکر وہ اچھے سکولوں سے آئے ہوئے بچوں کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نرسری کی آبیاری کی جائے۔ تب جا کر اگلے مرحلے پر نرسری کا وہ بچہ ذہین ہوگاجسکی بنیاد مضبوط ہو۔صوبائی حکومت نے بہترین نصابی کتابیں رائج کی ہیں۔جو مفت تقسیم کی جاتی ہیں۔لیکن پڑھانے والا انگریزی سے نابلد اور قدیم زمانے کا میٹرک پاس ہو تو کیا وہ ان جدید طرز کی ٹیکسٹ کی کتاب کو پڑھا سکتا ہے۔یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟معیار تعلیم میں بہتری لانے کیلئے ضروری ہے کہ تربیت یافتہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ ،پرائمری سطح سے لیکر ثانوی سطح تک طلباء و طالبات کو نصابی کتابوں کی بھر پور تیاری کرائیںکیونکہ نصابی کتابوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔اگر کمی ہے تو اساتذہ کی جانب سے پڑھائی اور طلباء و طالبات کی طرف سے تعلیم میں دلچسپی کی کمی ہے۔ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار نہایت ہی جاذب نظر ہیں کہ یہ ادارہ صوبے کے کل ملازمین کا پچپن فیصد ہے۔ جس کی کل تعداد 168000ہے جبکہ کل اساتذہ کی تعداد 123380ہے اور طلباء وطالبات تقریباً 4.7ملین ہیں۔ تقریباً 38طلباء وطالبات کیلئے ایک اُستاد دستیاب ہے۔ یہ شرح بہت کم ہے۔ وقت کیساتھ ساتھ طلباء اور طالبات کی تعداد میںا ضافہ ہورہا ہے۔اسلئے مزید سکولوں کا قیام اور مزید اساتذہ کی فراہمی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں