Daily Mashriq


کوئی بھی نظریہ ضرورت قبول نہیں کیا جائے گا،الیکشن کے التواء کی کوئی گنجائش نہیں،نواز شریف

کوئی بھی نظریہ ضرورت قبول نہیں کیا جائے گا،الیکشن کے التواء کی کوئی گنجائش نہیں،نواز شریف

ویب ڈیسک:سیاستدان کا کوئی اصول اور موقف ہونا چاہیےعمران خان نے آصف زرداری کو بیماری قرار دیتے ہوئے کہاتھا ان سے ہاتھ نہیں ملائیں گےتواب کیا ہوگیا جو دونوں نے ہاتھ ملا لیا،سابق وزیر اعظم نواز شریف

احتساب عدالت میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہلوگوں کو  نسلوں سے فیصلوں کا انتظار ہے اور چیف جسٹس دودھ کی کوالٹی چیک کررہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی تبدیلیاں مشکوک ہیں، چیئرمین سینیٹ ایک مشکوک شخص کو بنا دیا گیا ہے،ملک میں مکروہ کھیل کھیلا جارہا ہے جس میں نامی گرامی سیاستدان بھی شامل ہیں، اندر کی کہانی تو نہیں جانتا لیکن آصف زرداری جو کام کررہے ہیں وہ شرمناک ہیں، مشکوک کاموں کا وزیراعظم کو نوٹس لینا چاہیے۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سیاستدان کا کوئی اصول اور موقف ہونا چاہیے، عمران خان نے آصف زرداری کو بیماری قراردیا اور کہا تھا کہ ان سے ہاتھ نہیں ملاؤں گا، عمران خان بتائیں کیا ان کے لوگوں نے ڈپٹی چیئرمین کے لیے تیر کے نشان پر مہر نہیں لگائی۔

 حکومتی دعوؤں کے برعکس ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ پر نواز شریف نے کہا کہ پچھلے پانچ سال میں ہزاروں میگا واٹ بجلی سسٹم میں آئی، جب تک میں وزیراعظم تھا تو لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی تھی، لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے کی وجوہات جاننے کے لئے حکومت سے بات کروں گا، کسی کمپنی کے واجبات ادا کرنا ہیں یا کوئی اور وجہ ہے؟ معلوم کروں گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور مقننہ کی کوئی ضرورت نہیں، سارا کام چیف جسٹس کے ہاتھ میں دے دینا چاہئے۔آئندہ انتخابات سے متعلق سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہالیکشن کے التواء کی کوئی گنجائش نہیں، جبکہ کسی بھی نظریہ ضرورت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں