Daily Mashriq

جوانوں کو پیروں کا استاد کردے

جوانوں کو پیروں کا استاد کردے

اب اس پروہ دو ملائوں والے محاورے کا اطلاق تو بہر حال نہیں کیا جاسکتا بلکہ دونوں میں جو قدر مشترک ہے وہ سیاست ہے اس لئے دو سیاستدانوں کے بیچ تنازعہ ضرورقرار دیا جا سکتا ہے اور ان کے بیچ، بیچ بچائو کیلئے کوئی کیا میدان میں کودے گا کہ وجہ تنازعہ بننے والے نے جواب میں ایسی بات کہدی ہے کہ اب دونوں کو سوچنا بھی پڑے گا اور ممکن ہے اپنے بیانات سے رجوع بھی کرنا پڑ جائے، اس پر اگرچہ مجھے بلاول زرداری کے نانابھی یاد آگئے ہیں جنہوںنے ایک بار ایسی ہی بات کہی تھی جیسی کہ اب بلاول نے کہہ دی ہے ، تاہم اس کاتذکرہ بعد میں پہلے دو گھاگ سیاستدانوں اور نوجوان بلاول کے بیانات کا جائزہ لیتے ہیں، اور اس قضیئے کی شروعات مولانافضل الرحمن کے ایک ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہے گئے ان ریمارکس سے ہوئیں۔ جب انہوں نے کہا کہ بلاول کو تھوڑی سی سیاست کرنے دیں،وہ آئیڈیل باتیں کرتے ہیں،میں نے زرداری صاحب سے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو میری شاگردی میں لائیں،زرداری صاحب نے تو بہت کچھ سیکھا مجھ سے ،اب بلاول کو بھی ذرا لائیں۔ مولانا صاحب کے اس بیان پر بلاول سے پہلے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے بلاول کو شاگردی میں لینے کو تیار ہوں تو کیا میں مر گیا ہوں؟ فضل الرحمن نے بلاول کو شاگرد بنایا تو ان سے بہت سخت لڑائی ہو جائے گی۔ جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمن کے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جواب میں کہا مولانافضل الرحمن ہماری ٹریننگ میں آجائیں، گزشتہ روز نوڈ یرو ہائوس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی عزت کرتاہوں، میں نوجوان ہوں اور میری نئی سوچ ہے لہٰذا مولانا صاحب ہماری ٹریننگ میں آجائیں تو ملک کے لئے بہتر ہوگا۔ گویا معاملہ اس مصرعہ تک آپہنچا ہے کہ

جوانوں کو پیروں کا استاد کردے

بلاول نے اپنے بیان میں صیغہ واحدمتکلم کی بجائے جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے لفظ میں کی بجائے ہم کا استعمال کیا ہے، حالانکہ سندھی ہونے کے ناتے انہیں الطاف بھائی کی زباندانی کا تڑکہ لگانے سے احتراز کرنا چاہیئے تھا، جو ہر موقع پر ہم کا استعمال کرتے ہیں ، یعنی ہم نے یہ کیا ،ہم نے وہ کیا، ہم یہ کریں گے ، ہم وہ کریں گے بالکل ہمارے سردار بھائیوں کی طرح جن کے بارے میں مشہور ہے کہ جب وہ جاتے جاتے کسی اور سردار سے راستے میں ملتے ہیں تو پہلا فقرہ ہی یہ ہوتا ہے،’’فوجاں کٹھے ٹری آن؟‘‘اور دیکھا جائے تو ملک کی کوئی دوسری کمیونٹی جمع کا صیغہ استعمال کرنے کا تکلف نہیں کرتی اور سیدھے سیدھے میں ، تم تو کا استعمال کر کے اپنی بات کرتی ہے ، میں نے اپنی ریڈیو کی ملازمت کے دور میں اپنے ایک ساتھی سے اس حوالے سے پوچھا تھا کہ جناب آپ لوگ یہ خود(اکیلے) کو میں کی جگہ ہم کے صیغے سے کیوں باندھے رکھتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ دراصل ہم آپ کو بھی تو احتراماً تم یا تو سے نہیںپکارتے اور دوسرے یہ کہ میں کے لفظ میں جوتکبر ،رعونت شامل ہے اس سے بچنے کیلئے صیغہ ہم استعمال کرتے ہیں، ویسے بات غلط بھی تو نہیں ہے کہ میں ،میں تو بکری کا تکیہ کلام ہے جس کا نتیجہ قصائی کی چھری ہوتی ہے۔ ویسے بلاول بھٹو کے بیان میں لفظ ہم کا ایک اور مطلب بھی تو نکلتا ہے کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو’’ہماری ٹریننگ میں آجائیں‘‘ کے الفاظ سے جواب دے کر کہیں یہ تو نہیں سمجھا دیا کہ مولانا موصوف بلاول اور ان کے والد آصف زرداری کی شاگردی اختیار کرلیں، اور شاید یہ بات بھی انہیں آصف زرداری نے ہی سمجھائی ہو، حالانکہ مولانافضل الرحمن نے زرداری کے حوالے سے بھی کہا ہے زرداری نے تو بہت کچھ سیکھا مجھ سے ، اب اگر مولانا فضل الرحمن اپنے اس قول سے رجوع نہیں کرتے یعنی ’’یوٹرن‘‘ نہیں لیتے تو جس طرح زرداری آجکل نیب کے نشانے پر ہیں کہیں کل کلاں نیب والوں کی جانب سے انہیں بھی لیگل نوٹس موصول نہ ہوجائے کہ زرداری صاحب پر جو الزامات ہیں ان کی تربیت میں مولانا فضل الرحمن کا ہاتھ ہوسکتا ہے ، حالانکہ مولانا فضل الرحمن ذاتی طور پر اس قسم کے الزامات کی زد میں نہیں آتے یعنی منزہ عن الخطا کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔ اس لئے اب ان کیلئے دو ہی راستے بچتے ہیں کہ یا تو وہ بلاول کو شاگردی میں لینے کے بیان سے مکر جائیں اور اسے شیخ رشید کے حوالے کردیں جو اس کی نہایت اعلیٰ پائے کی سیاسی تربیت کر کے ہر چڑھتے سورج کا پجاری بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے یا پھر جس طرح مولانا فضل الرحمن نے زرداری کی تربیت کی بات کی ہے اس سے رجوع کر کے جان چھڑائیں اور اپنے بیان میں اتنی ترمیم کرلیں کہ زرداری نے تو ان سے اچھا کچھ بھی نہیں سیکھا اوراپنے لڑکپن والی مبینہ سرگرمیوں سے وابستہ رہے(تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ دنیا جانتی ہے)البتہ بلاول کو وہ اچھی اچھی باتیں سکھانا چاہتے ہیں۔لیکن یہ جو بلاول بھٹوزرداری نے مولانا فضل الرحمن کو’’ہماری ٹریننگ میں آنے ‘‘کا مشورہ دیا ہے،

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں