Daily Mashriq


 ماؤں میں آگاہی کا فقدان، نوزائیدہ بچوں کی اموات کی بڑی وجہ

ماؤں میں آگاہی کا فقدان، نوزائیدہ بچوں کی اموات کی بڑی وجہ

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے حوالے سے کیے گئے پنجاب بیورو آف اسٹیٹکس کے جائزے برائے سال 18-2017 میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر ایک ہزار میں سے 41 نوزائیدہ بچے پیدائش کے 4 ہفتوں کے اندر انتقال کرجاتے ہیں۔

پنجاب میں ایک ہزار میں سے 60 بچے اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں دیکھ پاتے۔

اس بارے میں میو ہسپتال کی سینئر رجسٹرار ڈاکٹر شاہدہ نظیر کا کہنا تھا کہ بچوں کی اموات کی بڑی وجہ ماؤں میں اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کے حوالے سے آگاہی کا فقدان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیدائش کے بعد عمومی طور پر نوزائیدہ بچوں کو ماؤں کا دودھ پلانے کے بجائے مارکیٹ میں موجود فارمولا ملک پلائے جاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف متمول گھرانے کی خواتین ہی فارمولا دودھ پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کی خواتین میں بھی یہ رجحان پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماؤں کے دودھ کی غذائیت اور قوت مدافعت کے مدِ نظر رکھتے ہوئے بچے کو ماں کا دودھ پلانے کی سختی سے تاکید کی جاتی ہے اس کے باوجود پنجاب میں صرف 42 فیصد بچوں کو 6 ماہ تک ماں کا دودھ میسر آتا ہے۔

ان کا بتایا کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی بڑی وجہ غذائیت کی کمی ہے۔

پاکستان میں روزانہ 5 سال سے کم عمر کے کم از کم 12 سو بچے انتقال کرجاتے ہیں جن کی اموات کی بڑی وجہ کم غذائیت ہے۔

ان اموات کی دوسری بڑی وجہ ڈائریا اور ناقص پانی کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں ہیں۔

ڈاکٹر شاہدہ نے مزید بتایا کہ ان دونوں وجوہات کے علاوہ اموات کا ایک سبب ویکسینیشن کے رجحان کا شدید فقدان ہے اور یہ س سے بھی کہیں زیادہ کم ہے جتنا حکومتی سطح پر اندازہ لگایا جاتا ہے۔

ان تمام عناصر جو کہ نومولودوں کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں ایک اہم وجہ ماؤں کو حمل کے دوران مناسب دیکھ بھال نہ ملنا بھی ہے۔

خاص دیہی علاقوں جہاں طبی تربیتی عملہ نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں صحت کی سہولیات تک رسائی بہت محدود ہے۔

اس حوالے سے ایک اور خاتون ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’نصف سے زائد حاملہ خواتین کے لیے صحت کی بہترین سہولیات کو عیاشی تصور کیا جاتا ہے جبکہ اب بھی کچھ خاندان ایسے ہیں جو جدید طبی سہولیات سے استفادہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے‘۔

اور بہت سی خواتین کو بنیادی طبی سہولیات کے لیے کافی دور کا سفر کرنا پڑتا ہے جبکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کی پیدائش گھروں میں دائیوں کے ہاتھوں ہوتی ہے جنہیں حفظان صحت کے اصولوں سے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہوتیں۔

متعلقہ خبریں